آگسٹن بیرول وہ پہلا شخص ہے جس نے نیشنلزم کی اصطلاح1798 میں استعمال کی۔ آگسٹن فرانسیسی پادری تھا۔ اس نے نیشنلزم کی مخالفت اس لئے کی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ یہ ایک منفی جذبہ ہے جو انسانیت کو عالمگیریت سے اٹھا کر مقامی سطح تک لے جاتا ہے اور بات یہاں تک رکتی نہیں ہے بلکہ یہ تعصب انسانوں کو قبیلوں‘ خاندان اور ذات کی قید تک پہنچا کر چھوڑتا ہے۔ اس میں کیا شک ہے کہ نیشنلزم کی سب سے بڑی خرابی تعصبات کو فروغ دیناہے۔ ان تعصبات کی وجہ سے قوموں نے جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم لڑیں۔ ان جنگوں میں جتنے انسان لقمہ اجل بنے اور جو تباہی ہوئی وہ پوری انسانی تاریخ میں دیکھنے میں نہ آئی تھی۔ آج کی دنیا ابھی تک ان تعصبات سے باہر نہیں نکلی۔ اب تو یہ بیماری نچلی سطح تک پھیل رہی ہے۔ آپ اپنے دائیں بائیں دیکھیں ‘ آپ کو مختلف قسم کے تعصبات دیکھنے کو ملیں گے۔ معاشرے یونہی اپنی یگانگت نہیں کھو رہے اور مختلف شناختوں میں بٹ نہیں رہے ‘ ان کے پیچھے تعصبات کا زہر ہے جو وحدت کو پارہ پارہ کر رہا ہے۔ پاکستان کی حالت بھی ہمارے سامنے ہے۔ یہاں معاشرے کا رجحان تعصبات کی جانب دھکیلنے والے کوئی اور نہیں ہمارے اپنے رہنما ہیں۔ رہنما قوموں کو جوڑتے ہیں یہا ں اپنی سیاست کا دارومدار مختلف تعصبات کو فروغ دینے میں سمجھ لیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن پر کبھی الزام تھا کہ اس نے پنجابی عصبیت کو ابھارا لیکن بعد ازاں اس نے اپنا راستہ تبدیل کیا اور قومی سیاست کو اپنی ترجیح بنایا۔ پیپلز پارٹی جن دنوں بہت پاپولر تھی اور مسلم لیگ کے پلے کچھ نہیں تھا ان نوں مسلم لیگ نے ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘ کے نعرے پر اپنی سیاست استوار کی۔ دوسرے لفظوں میں پیپلز پارٹی کی یلغار کا توڑ پنجاب کی عصیبت میں ڈھونڈا گیا۔1988 ء اور1990 ء کے انتخابات پنجابی عصیبت پر لڑے گئے۔ اول الذکر میں پیپلز پارٹی کا پرچم سربلند رہا جبکہ90 ء کے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کی چھتری تلے9 جماعتوں کے اتحاد کا د ائو لگ گیا۔ مسلم لیگ کی قیادت میاں نواز شریف کے پاس تھی اور وہ نہایت مہارت سے پنجاب کارڈ کھیل رہے تھے۔ بعد ازاں وقت اور موقع محل کی مناسبت سے مسلم لیگ ن نے اپنے بیانیئے بنائے۔93 ء کے انتخابات کے بعد نواز شریف انقلابی بنے‘97 ء میں پھر پاور پالیٹکس کو شعار بنایا اور اپنے حریف کو چت کرنے کیلئے اس فاروق لغاری سے ہاتھ ملایا جن کی زمینوں کی کہانیاں سنانے وہ چوٹی زیریں پہنچے تھے۔ 1999 ء میں نواز شریف کی حکومت فارغ ہوئی تو انہوں نے طویل خاموشی اختیار کی جیسے کہ وہ سیاست سے ہی ریٹائر ہوگئے ہیں مگر موقع ملتے ہی انہوں نے اے پی ڈی ایم بنوائی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ میثاق جمہوریت پر دستخط کرکے جمہوریت کا راگ الاپا۔ اب کی بار وہ جمہوریت کے بڑے چیمپئن دکھائی دیئے‘ کسی حد تک میثاق جمہوریت پر عمل بھی ہوا لیکن میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھوتھو کی پالیسی نے میثاق جمہوریت پر اس کی صحیح روح کے مطابق عمل نہ ہونے دیا۔ نتیجہ عوام میں نواز شریف حکومت پانامہ لیکس کا شکار ہوئی تو نواز شریف ایک بار پھر انقلابی اور نظریاتی سیاست کے علمبردار بن گئے۔ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ شدومد سے لگا لیکن انہیں کامیابی نہ مل سکی۔ کامیابی کیلئے انہیں اپنی بظاہر نظریاتی سیاست قربا ن کرنا پڑا جس پر وہ بخوشی تیار ہوگئے ۔ نظریاتی سیاست سے دستبردار ی انہیں بہت مہنگی پڑی۔ وہ پنجاب جو ہمیشہ ان کی سیاسی جاگیر بنا رہا ان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔2024 ء کا الیکشن مسلم لیگ ن کے لئے ایک ڈرائونا خواب ہے۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ ن کا پنجاب سے مکمل صفایا ہوگیا‘ مسلم لیگ ن وہ انتخابی نشستیں بھی ہار گئی جو کبھی بہت محفوظ نشستیں سمجھی جاتی تھیں۔ لاہور جیسے شہر میں جو کبھی مسلم لیگ ن کا گڑھ کہلاتا تھا نواز شریف اور ان کے دیگر قد آور رہنما انتخابات ہار گئے۔ ہار بھی انیس بیس کے فرق سے نہ ہوئی‘ تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کی جیت کا تناسب پچاس ساٹھ ہزار ووٹوں سے زیادہ کا تھا۔
کمشنر راولپنڈی نے تو یہ حقیقت بیان کر دی ہے کہ کیسے انہوں نے ستر ستر ہزار کی لیڈ سے جیتنے والے امیدوار وں کی فتح کو شکست میں تبدیل کیا۔ یہ واردات پورے پنجاب میں ہوئی۔ اگر فارم47 کے زور پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو نہ جتوایا جاتا تو آج راوی مسلم لیگ ن کا نوحہ لکھ رہا ہوتا۔ کسی سیاسی جماعت کے نصیب میں اتنی بدترین شکست آئے تو اس کا قائم رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اندرونی طور پر مسلم لیگ ن بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ دھاندلی زدہ حکومت کا اپنے ورکرز کے ساتھ کنکشن دن بدن کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اس تناظر میں مسلم لیگ ن کی قیادت اپنے حال اور مستقبل کے حوالے سے پریشان ہے۔ پنجاب کارڈ مسلم لیگ ن کا تازہ ترین بیانیہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنی بقا کی جدوجہد کرنے جارہی ہے۔ پنجاب کا مقدمہ اب وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہر تقریر کا حصہ ہوگا۔ یہ صرف وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ مسلم لیگ ن کا ہر لیڈر اب آپ کو پنجاب پنجاب کرتا دکھائی دے گا۔ یہ طرز عمل ایک قومی سطح کی جماعت کے شایان شان قطعاً نہیں ہے۔ کیا مسلم لیگ ن کی37 سالہ سیاست کا حاصل یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوبارہ صوبائی تعصب کی سطح پر لے آئے؟ پیپلز پارٹی نے بھی سندھ کارڈ کھیلا اور اس کا اسے نقصان یہ ہوا کہ وہ سندھ کی سیاست تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ہوسکتاہے کہ مسلم لیگ ن کے منصوبہ سازوں کے دماغوں میں یہ بات ہو کہ اگر صوبائی تعصب پھیلانے کے نتیجے میں مسلم لیگ ن پنجاب تک بھی محدود ہو جاتی ہے تب بھی یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ میرے نزدیک پنجاب کے مزاج کی یہ ’’ریڈنگ‘‘ ٹھیک نہیں ہے۔ پنجابی بھلے کھڑاک کو پسند کرتا ہے اور پنجاب کے حوالے سے جرات مند آواز اس کی کمزوری ہے لیکن پنجاب کا مزاج پاکستان ہے۔ پنجاب کا ووٹر ہر اس تعصب کو رد کر دے گا جو پاکستان کی وحدت کو کمزور کرنے کا باعث بنے گا۔ گزشتہ35 سالوں میں پنجاب کے ووٹر نے فکری شعور کی جو منازل طے کی ہیں اس کا مظاہرہ2024 ء کے انتخابات میں ہم دیکھ چکے ہیں۔ آنے الے سالوں میں یہ شعور اور بڑھے گا۔ اس اعتبار سے پنجاب کے حقوق کے نام پر کی جانے والی سستی سیاست مسلم لیگ ن کیلئے فائدے کی بجائے نقصان کا سبب بنے گی۔