عمران خان کی حکومت کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ ان کے دور میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں نسبتاً امن رہا اور پاک افغان بارڈر پرجنگ یا محاذ آرائی کی کوئی کیفیت نہ تھی۔ یہ عمران خان کا دور تھا جب قبائلی علاقوں کا خیبرپختونخواہ میں انضمام ہوا اور ان علاقوں میں انتخابات کروائے گئے۔ کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آیا۔ یہ عمران خان کا دور تھا جب امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا ہوا اور کابل میں طالبان نے بڑے آرام سے ٹیک اوور کیا اور افغانستان کے طول و عرض میں امن قائم ہوگیا۔ طالبان کبھی کابل فتح نہ کر سکتے تھے اگر امریکی افواج کو پاکستان میں فوججی اڈے مل جاتے جس کے لئے امریکہ بڑا بے تاب تھا۔ عمران خان نے خطے میں امن کی خاطر پاکستان کی سرزمین کو کسی مذموم مقصد کے لئے دینے سے صاف انکار کر دیا۔ جن دنوں امریکی فوج کے انخلا کا عمل شروع ہونا تھا امریکی سی آئی اے چیف وزیراعظم عمران خان سے ملنے کے لئے بے تاب تھے مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ یہ انکار ایک مرتبہ نہیں کیا گیا بلکہ دو مرتبہ سی آئی اے چیف نے وزیراعظم عمران خان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی لیکن انہیں یہ کہہ کر انکار کر دیا گیا کہ ان کا منصب وزیراعظم سے ملاقات کے لحاظ سے چھوٹا ہے۔ یہ کام کوئی اور وزیراعظم نہیں کر سکتا تھا‘ یہ جرات عمران خان ہی کر سکتا تھا اور اس نے کی۔ جب اس چینل سے بات نہ بنی تو سمجھ لیا گیا کہ عمران خان امریکی اڈوں کی بابت کسی طور نہیں مانے گا بھلے امریکی صدر ہی اس حوالے سے وزیراعظم سے بات کریں۔ یہ ٹیسٹ کرنے کے لئے کہ کیا امریکی سوچ درست ہے سی این این کے نمائندے کو اڈوں کے بارے میں سوال کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ یہ وہ سوال تھا جس کے جواب میں عمران خان کا وہ مشہور زبان زدعام ہونے والا دو لفظوں کا جواب تھا”ABSOLUTELY NOT”
اگر عمران خان امریکہ کو اڈے دے دیتے تو اس کے مضمرات خطے کے امن کے لئے نہایت سنگین ہونے تے۔ کابل پر بھارت اور امریکہ نواز حکومت اس وقت بھی شاید برسراقتدار ہوتی اور افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہوتا۔ پاکستان کے اڈوں سے امریکی ڈرون اور جہاز اڑتے اور طالبان کے ٹھلکانوں کو نشانہ بنا رہے ہوتے۔ اس کے ردعمل میں طالبان نواز ٹی ٹی پی اور دیگر باغی تنظیمیں پاکستان کی افواج پر حملہ آور ہوتے اور پاکستان میں بدامنی پھیلا رہے ہوتے۔ عمران خان نے ایک مدبر کی حیثیت سے اس وقت صورتحال کا درست جائزہ لیا اور وہی کیا جو پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تھا۔ عمران خان کی وزارت اعظمیٰ کا خاتمہ یعنی ’’رجیم چینج‘‘ اسی وجہ سے ہوا۔ آپ رجیم چینج کی کڑیاں ملا لیں‘ ایک سے دوسری کڑی ملتی جائے گی اور یہ بات واضح ہو جائے گی کہ تحریک عدم اعتماد امریکی سپانسرڈ تھی۔ امریکہ کی خواہش پر مقامی آپریٹر بروئے کار آئے اور وہ ہوا جو کہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
جونہی عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا تیزی سے حالات میں تبدیلی آئی۔ وہ قبائلی علاقے جہاں امن قائم ہوچکا تھا وہاں ایک مرتبہ پھر خونریزی ہونا شروع ہوگئی۔ گزشتہ تین سالوں میں حالات اس قدر بگڑ گئے ہیں کہ پاک افغان بارڈر کی طویل پٹی مستقل جنگ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ یہ جنگ پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ مستحکم علاقوں(Sehled Aveai) ڈیرہ اسماعیل خقان اور بنوں تک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ آئے روز پاک فوج اور دیگرقانون نافذ کرنے والے ادارو ں پر حملے ہوتے ہیں اور ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ یہ بدامنی کیوں ہوئی اور اس کے ذمہ دار کون ہے‘ اگر اس میں سازش کا عنصر تلاش نہ بھی کیا جائے تو اس پیدا شدہ صورتحال کو انتہائی ناقص حکمت عملی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ایک ایسی حکمت عملی جس کا پاکستان کو بہت نقصان ہوا ہے اور ہر روز ہو رہا ہے۔ آج صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں باقاعدہ جنگ چھڑ چکی ہے اور ایک دوسرے کی سرحدی چوکیوں پر قبضے کے دعوے کئے جارہے ہیں۔
اس صورتحال کے بگاڑ کی ذمہ دداری جہاں ہماری ناقص حکمت عملی کی ہے وہیں طالبان اقتدار بھی صورتحال کے بگاڑنے میں برابر کا ذمہ دار ہے۔ کابل کے حکمرانوں کی ذمہ داری اس بنا پر زیادہ بنتی ہے کہ پاکستان کے اندر بدامنی پھیلانے والی ٹی ٹی پی طالبان اقتدار میں شامل ہے۔ کالعدم تحریک طالبان نے پوری قوت سے پاکستان پر جنگ مسلط کی ہوئی ہے اور اسے کابل کے حکمرانوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ طالبان حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مکمل قطع تعلقی کا اعلان کرتے اور ان کی ایسی کارروائیوں کی مذمت کرتے جن میں پاکستان کی مسلح افواج پر حملہ کرنا اور دیگر دہشت گردی کی کارروائیاں شامل ہیں۔ آج ان کارروائیوں کے جواب میں پاکستان سخت رعمل پر مجبور ہوا ہے تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق پاکستان نے ان کیمپوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں سے پاکستان پر حملے ہوتے ہیں‘ وہ شخصیات جو ان حملوں کی ماسٹر مائند ہیں اور اس طرح کی کارروائیوں کی سرپرستی کرتی ہیں بھی پاکستانی جوابی حملوں کے نشانہ پر ہیں۔
دریں حالات افغانستان کی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور خواہ مخواہ پاکستان کو اپنا دشمن بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان نے گزشتہ چالیس سال اپنے افغان بھائیوں کی مہمان نوازی کی ہے اس کا بدلہ محسن کشی کی صورت میں ملے گا تو پاکستان کا جواب دینے پر مجبور ہوگا۔ افغانستان کی حکومت پاکستان کی ناراضگی کی متحمل نہیں ہوسکتی کجا کہ یہ دونوں ملک جنگ کے ماحول میں جئیں۔ پاکستانی حکام کو بھی ٹھنڈے دل و دماغ سے حالات کا جائزہ لینا چاہہیے اور ہر اس اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس کی وجہ سے پاکستان کا مغرببی بارڈر ہمیشہ کے لئے غیر محفوظ ہو جائے۔ ہم ہندوستان جیسے ازلی دشمن کے ہوتے ہوئے اپنی مغربی سرحدوں پر جنگ افورڈ نہیں کر سکتے۔ پاکستان کی طاقت مسلمہ ہے اور ہمیں خدا کے بزرگ و برتر نے ہندوستان پر جنگی برتری عطا کرکے دنیا میں سرخرو کر دیا ہے۔ دشمن قوتوں کی خواہش ہوتی کہ پاکستان کو کسی طرح پوزیشن سے نیچے گرایا جائے ہمیں پاکستان کے دشمنوں کے ان ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے بردباری اور تحمل کے ساتھ ایک اچھی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ پاکستان کو محفوظ و مضبوط رکھے (آمین) اور اللہ تعالیٰ پاکستان کی مسلح افواج کی طاقت اور غلبہ ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ (آمین)