کیا کسی نے کبھی اس خیال کو اس سے زیادہ سادہ انداز میں بیان کیا ہے کہ دشمن بھی ایک شائستہ حریف کی اخلاقی قدروں کا مظہر ہونا چاہیے؟ تاریخ میں اس کی ایک لازوال مثال سکندرِ اعظم اور راجہ پورس کی مشہور ملاقات میں ملتی ہے۔ ایک سخت اور خونریز جنگ کے بعد جب سکندر نے شکست خوردہ پورس سے پوچھا کہ اس کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیاجائے تو پورس نےجواب دیا: ’’جس طرح ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے سلوک کرتا ہے”۔سکندر اس باوقار جواب سے متاثر ہوا، اس نے نہ صرف پورس کی جان بخشی بلکہ اس کی سلطنت بھی واپس کردی۔ بدقسمتی سے ہمارے دور میں یہ شرافتِ کردار مفقود دکھائی دیتی ہے۔ ہمیں اپنے خطے میں ایسے ہمسائے کا سامنا ہےجو نہ تو جنگ کے اصولوں کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی پُرامن بقائے باہمی کے ضابطوں کو تسلیم کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے قریب تر ہے۔‘‘(سورۃ المائدہ: 8)
یہ خدائی فرمان اس اخلاقی نظام کی بنیاد رکھتا ہےجس میں دشمنی بھی انسان کو عدل و انصاف سے غافل نہیں کر سکتی لیکن جب ہم اپنے مشرقی پڑوسی کے رویے پر نظر ڈالتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ وہاں عدل و انصاف کی جگہ مکاری، دروغ گوئی اور جارحیت نے لے لی ہے۔مئی 2025 کے واقعات اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہیں۔ جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھ کر کھلی جنگ میں تبدیل ہوئی تو بھارت کو میدانِ جنگ میں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستان کی تیاری، استقامت اور عزم نے دشمن کا غرور توڑ دیا۔ وہ ملک جو اپنے عسکری تفاخر پر نازاں تھا، جلد ہی عالمی فورمز پر جنگ بندی کی اپیلیں کرتا نظر آیا ایک ایسا منظر جس نے اس کی اخلاقی اور عسکری کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔قرآن کہتا ہے ’’بےشک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”(سورۃ الانفال: 58)
اور مزید ارشاد ہے’’ اگر تم کسی قوم سےخیانت کا اندیشہ رکھو تو ان کا معاہدہ برابری کے ساتھ ان پر پھینک دو۔ بے شک اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ یہ تعلیم ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر کوئی ہمسایہ دھوکے اور غداری کا راستہ اپنائے تو مومن کو حق حاصل ہے کہ وہ پوری دیانتداری کے ساتھ اس کا جواب دےمگر ناانصافی کے بغیر۔
پاکستان کا جواب ہمیشہ پُرسکون مگر پرعزم رہا ہے — اصولوں پر مبنی، ایمان سے منور، اور قربانی سے گُزرا ہوا۔ ہمارا یقین ہے کہ امن اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ’’اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ رکھو (سورۃ الانفال: 61) مگرجب ہمارا ضبط بزدلی سمجھا جائے اور ہماری امن کی کوششوں کو خوف قرار دیا جائے، تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام ہمیں اپنے دفاع کا حکم دیتا ہے:
”اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن پر ظلم کیا گیا ہے کہ وہ لڑیں، کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے، اور بے شک اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔”(سورۃ الحج: 39) لہٰذا پاکستان کو حق حاصل ہے کہ وہ اس زبان میں جواب دےجو دشمن سمجھتا ہے — وقار کے ساتھ، فیصلہ کن انداز میں، اور عزم و ایمان کے ساتھ۔ ہماری مسلح افواج نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتے، دوسروں کو ذلیل نہیں کرنا چاہتے، مگر وہ اپنی خودمختاری اور وقار پر کوئی سمجھوتہ بھی نہیں کریں گے۔ مئی کے زخم ابھی تازہ ہیں، مگر وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ضبط بھی ایک قوت ہے۔تاریخ گواہ ہےکہ حقیقی عظمت فتوحات میں نہیں، بلکہ ان اقدار میں ہے جو انسان جنگ کے دوران قائم رکھتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے جنگ میں بھی غیر جنگجوؤں کو قتل کرنے، کھیتیاں برباد کرنے اور معاہدے توڑنے سے منع فرمایا۔ اسلام نے چودہ سو سال پہلے وہ اخلاقی ضابطہ متعارف کرایاجس نےانسانیت کوجنگ کےدوران بھی وقار بخشا۔ پاکستان کا امن اور انصاف کے لیے استقامت پر مبنی مؤقف اسی اخلاقی روایت کا تسلسل ہے۔
ہم دنیا اور اپنے دشمن دونوں کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر ایسا امن جو انصاف اور باہمی احترام پر قائم ہو۔ ہم نہ تو جارحیت کریں گے، نہ ذلت برداشت کریں گے۔ اور اگر ہمیں جواب دینا پڑا، تو ہم وہی کریں گے جو ایمان، شرافت اور عزت کا تقاضا ہے۔قرآن کا وعدہ ہے:”بے شک تنگی کے ساتھ آسانی بھی ہے۔”(سورۃ الشرح: 6) ہمیں یادرکھناچاہیےکہ اخلاق کے بغیرفتح عارضی ہےاور اصولوں کے بغیر طاقت خطرناک۔ سکندر اور پورس کا مکالمہ آج بھی اس لیے زندہ ہے کہ اس نےجنگ کو کردار کی آزمائش میں بدل دیا۔ ہمیں بھی اپنی جدوجہد اسی جذبے کے ساتھ کرنی ہےکہ ہم دفاع کریں بغیر نفرت کے، لڑیں بغیر ظلم کے، اور فتح حاصل کریں بغیر غرور کے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”طاقتور وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑ دے، بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے۔”(صحیح بخاری)اللہ کرے کہ ہماری قوت ضبط میں رہے، ہمارا ایمان اٹل رہے، اور ہمارا مقصد پاکیزہ رہے تاکہ تاریخ جب ان دنوں کو لکھے تو یہ کہے کہ پاکستان عزت کے ساتھ کھڑا رہا، طاقت میں محتاط رہا، اور مقصد میں راست باز۔