پاکستان اور افغانستان کی سرحد، درّہ درّہ پہاڑی لکیر، صرف زمینی حد نہیں بلکہ دو برادر مسلم قوموں کے دلوں کی حقیقت ہے۔ یہ وہ سرحد ہے جہاں کئی دہائیوں سے خوف، بے یقینی اور کشیدگی کا سایہ بن کر کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے اور اس کے کئی بدثمرات بھی دونوں ممالک کی عوام کے ساتھ ساتھ اہم ترین کاروباری سرگرمیوں پر ہوتے نظر آرہا ہے اور اس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کرنے اولے جہاں پریشان ہیں وہی انہیں روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں کا نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس مسئلہ کے حل کے لیے دونوں طرف سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور جب دونوں ممالک نے خطّے کی امن کو یقینی بنانے کے لیے باضابطہ ثالثی مذاکرات کی میز پر نشست کی تو ایک نئے باب کا آغاز ممکن ہوتا نظر آیا تھا اور مذکرات بھی کامیاب ہوئے مگر ان کے ثمرات ابھی تک نظر نہیں آرہا ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات نے امن و جنگ، غمی و خوشی، شور و غل اور خاموشی دونوں کو بخوبی بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ماضی میں افغان پناہ گاہیں، عسکری کارروائیاں، مہاجرین کا بوجھ اور خبروں کی سرخیوں میں دہشت گردی کا ربط یہ تمام عوامل تعلقات میں رکاوٹ بنے رہے اور ساتھ ہی پاک افغان دشمن کبھی بھی یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ان دونوں مسلم برادر میں دوستی اور امن قائم ہو کیونکہ اگر ان دونوں برادر ممالک میں دوستی اور امن قائم ہوگیا تو ان کے مفادات کو زبردست قسم کی ٹھیس پہنچ سکتی ہیں اور ان کے مزموم عزائم و منصوبے پاکستان کو نیست و نابود کرنے کے خواب جو وہ جاگتی آنکھوں سے دیکھتے آرہے ہیں وہ خاک میں مل جائیں گے۔ پاک افغان امن کے بعد اقتصادی رابطوں کے لیے تصور تو وسیع تر ہے مگر افغانستان کی نحیف معیشت، ناقص انفراسٹرکچر اور پاکستان کی معاشی مصیبتیں، ان امکانات کی راہ میں رکاوٹ بن کر کھڑی نظر آرہی ہیں جن پر قابو بھی پایا جاسکتا ہے باہمی تعاون سے پر دونوں ممالک کے دشمن اپنی پوری قوت سرف کرکے امن معاہدہ اور مذکرات کو سبوتاژ کرنے کی جان توڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تب ہی مذکرات کامیاب ہونے کے بعد بھی امن قائم نہیں ہو پایا۔
طالبان حکومت کے باوجود افغانستان میں مختلف گروپ سرگرم ہیں اور پاکستان کا موقف ہے کہ ان عناصر کے ٹھکانے افغان سر زمین پر ہیں۔ معاہدے کے مطابق انہیں ختم کرنا ضروری ہے مگر یہ طویل، پیچیدہ اور حساس عمل ہے۔ اس معاہدے کے پسِ منظر میں بھارت، چین، امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی مداخلت نظر آرہی ہے، ان ممالک کے اپنے مفاد اور اس میں پاکستان اور افغانستان کا کردار، معاہدے کی کامیابی کو متاثر کرتا بھی نظر آرہا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کی بین الاقوامی شناخت مختلف ہے اور پاکستان کی طرف سے سفارتی سطح پر مکمل قیام عمل میں نہیں آیا تھا۔ گزشتہ ماہ پاکستان نے افغانستان میں سفیر تفویض کرنے کا اعلان کیا جس سے تعلقات میں نرمی کی جھلک ملی تھی۔ دونوں قومیں طویل عرصے سے جھڑپ، مہاجرین، معاشی نقصان اور بے یقینی کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ ان مسائل نے عوام میں امن کے تئیں شک اور بے اعتمادی کو جنم دیا ہے۔
عمل کی ترجیح چونکہ معاہدہ کاغذ پر تو طے پایا ہے مگر اس کی کامیابی عمل کے تابع ہے، اس لیے درج ذیل تجاویز اپنانا نہایت ضروری ہیں۔
اعتماد سازی اور شفافیت۔ علاقائی اور عالمی ثالثی کا کردار۔ قطر اور ترکی نے ثالثی کا کردار ادا کیا جو واضح کرتا ہے کہ پاک افغان کشیدگی محض دو ملکوں کا معاملہ نہیں بلکہ خطّے کا امن و استحکام ہے۔
اقتصادی رابطوں کا امکان۔ امن کی فضا بابرکت ٹہری تو افغانستان اور پاکستان کے لیے مشترکہ ترقیاتی سفر ممکن ہو پائے گا، راستوں کی بحالی، تجارتی رابطے، مہاجرین کے مسئلے کا حل اور سرحدی علاقوں کی معاشی نشوونما بھی نظر آنے کے قوی امکانات ہیں۔
انسداد دہشت گردی کا نیا موڑ۔ معاہدے کے تحت افغانستان نے بارہا کہا ہے کہ وہ پاکستان کی سیکورٹی خدشات کا احترام کرے گا اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ مل کر دہشت گردانہ نیٹ ورکس کا قلع قمع کرے۔ یہ مواقع امید کی سوغات ہیں مگر حقیقت میں ان کی راہ آسان نہیں۔ اس لیے اگلا حصہ چیلنجز کی نشاندہی کرے گا۔
(جاری ہے)