Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

پاک، افغان امن معاہدہ اور مذاکرات

(گزشتہ سے پیوستہ)
درپیش چیلنجز کا تجزیہ : اعتماد کی کمی۔ دو طرفہ الزامات کا ایک طویل ریکارڈ ہے، پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سر زمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور افغان، پاکستان پر اسلامی ریاست گروپوں کی معاونت کا الزام لگاتی ہے۔ اس اعتماد کی کمی معاہدے کی روحانی بنیاد کو کمزور کرتی ہے۔
سرحدی انتظام و نگرانی کا فقدان۔ درّہ درّہ سرحد پر نگرانی، نقل و حمل، تارکین وطن اور مسلح عناصر کی آمد ورفت کے کنٹرول جیسے مسائل موجود ہیں۔ امن کی تلاش میں یہ بنیادی رکاوٹ ہیں۔ دونوں ممالک یہ طے کریں کہ مذاکرات کا ٹریک عوام کے سامنے رکھا جائے۔ میڈیا بریفنگ، تفصیلی بیان اور عوامی مشاورت کے ذریعے۔
سیکورٹی فورسز اور فوجی قیادت کی سطح پر مشترکہ کئی ورکنگ گروپ بنائے جائیں تاکہ انسداد دہشت گردی کا عمل واضح اور شفاف ہو۔
مکمل سرحدی انتظام و نگرانی میکانزم۔ درّہ درّہ سرحد پر مانیٹرنگ پوائنٹس، ڈیجیٹل نگرانی، ڈیٹا شیئرنگ کا نظام بنایا جائے۔ پاک افغان سرحد پر سرحدی کمیٹی قائم کی جائے جو انتظامی، اقتصادی اور قانونی امور کا تبادلہ کرے۔
اقتصادی روابط کے بنیادی منصوبے۔ سرحدی علاقوں میں مشترکہ اقتصادی زونز بنائے جائیں تاکہ تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ مہاجرین کے واپس جانے کے عمل کو آسان بنایا جائے اور پاکستان میں رہنے والوں کی قانونی حیثیت طے کی جائے تاکہ سماجی و معاشی بوجھ کم ہو۔ افغانستان کے اندر انفراسٹرکچر منصوبوں میں پاک افغان تعاون کو فروغ دیا جائے۔
دہشت گردی کے خاتمے کی مربوط حکمت عملی۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی علاقائی سلامتی کو اپنے اندرونی معاملے کی طرح سمجھنا چاہیے۔ دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی میں اشتراک بڑھایا جائے اور عالمی حمایت حاصل کی جائے۔
علاقائی و بین الاقوامی تعاون۔ چین، ترکی، قطر اور دیگر ثالث ممالک کی مدد سے امن معاہدے کو علاقائی امن پیکج میں تبدیل کیا جائے۔ بھارت، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو بھی اس امن عمل کا حصہ بنایا جائے تاکہ یقینی بنایا جائے کہ امن صرف دو ملکوں کے درمیان محدود نہ رہے۔
عوامی شعور اور تعلقات عامہ۔ عوامی سطح پر امن کی تربیت، سرحدی علاقوں میں امن مشاورت، طلبہ اور نوجوانوں کے پروگرامز کے ذریعے امن کا پیغام پھیلایا جائے۔ میڈیا میں مثبت امن کہانیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ نفرت اور خوف کی جگہ امید اور تعاون لے۔
مشاورتی میکانزم کی مستقل بحالی۔ مذاکرات کا ٹریک صرف وزرأ تک محدود نہ رہے بلکہ سفارتی، انتظامی، فوجی اور عوامی ادارے باقاعدگی سے ملتے رہیں۔ معاہدے کے نفاذ پر نگرانی کے لیے ایک ٹیکنیکل سیکریٹریٹ قائم کیا جائے جو دونوں ممالک کی مشترکہ بنیاد پر کام کرے تاکہ امن کی سمت ایک نیا باب رقم کیا جاسکے۔
دوحہ کا معاہدہ ایک روشن امید کی ابتدأ ہے مگر یہ تب ہی معنی خیز ہوگا جب ہم اس کو صرف کاغذ کی دستاویز سمجھنے کی بجائے عملی امن کا سفر جانیں گے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرینہ کشیدگیاں آج بھی دلوں کی گہرائیوں میں زندہ ہیں مگر اسی کشیدگی کو امن کے ذریعے حل کرنے کا موقع بھی موجود ہے اگر دونوں ہمسائے، صرف مفاد، طاقت یا ردِعمل کی بنیاد پر نہیں بلکہ باہمی احترام، تعاون اور بھائی چارے کی بنیاد پر آگے بڑھیں تو اس خطّے کا چہرہ بدل سکتا ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اصلاحی روح کے ساتھ اس نازک مرحلے کا حصہ بنیںنہ کہ محض ناظر۔
یہ معاہدہ اگر کامیاب ہوا تو یہ نہ صرف پاک افغان کے لیے بلکہ پوری جنوبی ایشیا کے لیے امن کی ایک مثال بن جائے گا اور اگر ہم اسے ضائع کر گئے تو ہمیں بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی انسانی، معاشی اور اخلاقی۔ آئیے ہم اس نازک گھڑی کا شعور کے ساتھ حصہ بنیں تاکہ کشیدگی کی تاریکی سے امن کی روشنی پھوٹے۔ ملتِ پاکستان اور ملتِ افغانستان دونوں کو دعوت ہے کہ اس امن کے سفر میں اپنا کردار ادا کریں اور ایک نئی صبح کی کرن بن کر اپنی روشنی سے اقوام عالم میں ایک زندہ مثال قائم کردیں۔

یہ بھی پڑھیں