Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

غیر منقولہ جائیداد ملکیت کے تحفظ کا قانون، چند گزارشات

جائیدادوں کو غیر قانونی قبضہ سے چھڑانے کے لیے بنایا جانے والا قانون اس لحاظ سے بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ پہلی مرتبہ ضلعی افسران پر مشتمل کمیٹی کو اس ضمن میں بااختیار بنایا گیا ہے۔ یہ اگر لکھا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ پنجاب کو اس طرح کے قانون کی اشد ضرورت تھی۔ بہتر ہوتا پنجاب حکومت آرڈیننس کے ذریعے یہ قانون سازی نہ کرتی۔ اس بل کو پنجاب اسمبلی میں لے کر آیا جاتا تو اس پر خوب بحث کے بعد جو قانون سامنے آتا وہ ایک بہتر دستاویز ہوتی۔ خیر یہاں آرڈیننس اور ایکٹ ایک جیسے ہی ہوتے ہیں، آخر الذکر میں بھی مشاورت برائے نام ہوتی ہے اور اسمبلیاں پل بھر میں ربڑ سٹیمپ بن جاتی ہیں تاہم پھر بھی بل مختلف مراحل سے گزرتا ہے اس لئے امکان موجود ہوتا ہے کہ کسی سٹیج پر کوئی خامی سامنے آجائے گی۔
یہ قانون جو پنجاب میں نافذ کیا گیا ہے جائیدادوں پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کے خلاف بظاہر ایک اچھا قانون دکھائی دے رہا ہے اور یہ قانون پیش کر کے وزیراعلیٰ پنجاب اور ان کی کابینہ نے درست سمت میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس قانون کے تحت ضلعی سطح پر تنازعہ کے حل کیلئے کمیٹیاں قائم ہونگی جو ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کام کریں گی اور متعلقہ سی پی اوز اور ڈی پی اوز ان کمیٹیوں کے ممبرز ہونگے۔ اس اعتبار سے یہ کمیٹیاں خاصی با اثر ہونگی۔ ان کی ہیئت ترکیبی اوورسیز کے حوالے سے بنائی جانی والی ان ضلعی کمیٹیوں جیسی ہے جو اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں کے قضیات کی بابت بڑی موثر ثابت ہوئی ہیں۔ اگر ضلعی افسران نیک نیتی اور دیانت داری سے اپنے فرائض ادا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ معاملات عدالتوں میں پہنچے بغیر ہی حل ہو جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہیں یہ منصب سونپنے سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب ہر کمیٹی ممبران سے باضابطہ حلف لیں کہ وہ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں حکومتی اور کسی قسم کی سیاسی مداخلت قبول نہیں کریں گے، نیز یہ کہ اقربا پروری، سفارش اور لالچ کے بغیر ایمانداری سے اور انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اپنے فرائض سر انجام دینگے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کمیٹیوں کی کارکردگی اگر خراب ہوئی تو اس کی وجہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہو گی کہ حکومتی لوگ ان کمیٹیوں پر اثر انداز ہوں گے۔ ضلعی افسران کی ان کمیٹیوں میں موجودگی جہاں مقصد کے حصول کیلئے بڑی اہم ہے وہیں حکومتی مداخلت کی صورت میں یا ان کے کسی ذاتی مفاد کی صورت میں یہی ضلعی افسران عوام کیلئے وبال اور حکومت کیلئے بدنامی کا باعث بن جائیں گے۔ میں وثوق کے ساتھ یہ بات لکھ رہا ہوں کہ عام آدمی کیلئے ضلعی افسران فرعون بنے ہوتے ہیں لیکن ہر حکومت کے سامنے یہ اس قدر جھکے ہوتے ہیں کہ ان سے زیادہ کمزور شاید ہی کوئی اور شخص ہو۔ یہ ہر حکومتی فرمان کے آگے لیٹ جاتے ہیں اور یہیں سے خرابی کی ابتدا ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے پیش نظر یہ بات رکھیں کہ ان کے مجوزہ قانون کی کامیابی اور ناکامی ان کے وزیروں، ایم پی ایز اور ایم این ایز کی مرہون منت ہے، اگر ضلعی سطح پر انہوں نے اپنے لئے یا اپنے منظور نظر پیاروں کیلئے انتظامیہ پر دبائو ڈالا جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے تو پھر یہ ساری مشق لا حاصل رہے گی۔ مقامی حکومتی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کا گٹھ جوڑ اس قانون کی موت کے مترادف ہو گا۔ زیر بحث قانون سے مکمل استفادہ اسی صورت ہو سکتا ہے جب اس کی زد میں اپنے پرائے سب ایک طرح سے آئیں۔ اگر ایسا ہو گیا اور اس قانون کے تحت قبضہ مافیا کو نتھ ڈال دی گئی اور متاثرہ فریق کو تین ماہ کے اندر اس کی جائیداد کا قبضہ دلوا دیا گیا تو یہ پنجاب کے عوام کی ایسی خدمت ہو گی جسے لوگ برسوں یاد رکھیں گے۔
ایک اور بات جو ضلعی کمیٹیوں کے ضمن میں لکھنی ہے وہ یہ ہے کہ ان کمیٹیوں کو تین ماہ کی مدت کے اندر ہی فیصلے کرنے اور ان پر عملدرآمد کا پابند بنایا جائے، ان کو تین ماہ کی مزید مہلت دینا ٹھیک نہیں ہے۔ اس سے خواہ مخواہ مقدمات کو طول ملے گا۔ کمیٹیوں کے فیصلوں کے خلاف ٹربیونلز میں اپیل کا حق ایک اچھا اقدام ہے مگر یہ دیکھنا ہوگا کہ اس مرحلے پر ظالم فریق مہنگے وکیل کر سکتا ہے لہٰذا مظلوم کیلئے حکومت کو سرکاری وکلا کا بندوبست کرنا چاہئیے۔ یہ وکیل اس فریق کی مدد کیلئے بروئے کار آئیں جس کے حق میں ضلعی کمیٹی نے فیصلہ سنایا ہو۔ سرکاری وکلا کی مدد محض ٹریبونل کی حد تک نہ ہو بلکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک مظلوم کو سرکاری وکیل میسر ہونے چاہئیں۔ مقدمات کی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جلد شنوائی اور فیصلوں کیلئے بھی ضروری قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے۔ قبضہ مافیا اور ظالم افراد ہمیشہ عدالتی نظام میں تاخیر کا فائدہ اٹھاتے آئے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے پراپرٹی کے حوالے سے، خاص طور پر ان مقدمات کے حوالے سے جو ضلعی کمیٹیوں اور ٹریبونلز سے ہو کر آئے ہوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جلد نمٹانے کیلئے نئی قانون سازی ہو۔ اس ضمن میں عدالتی ٹائم فریم دینا بڑا ضروری ہے اور یہ ٹائم فریم بھی قلیل مدتی یعنی دو تین ماہ سے زیادہ کا نہیں ہونا چاہئے وگرنہ تاخیر سے وہ مقصد فوت ہو جائے گا جس کیلئے ضلعی کمیٹیاں قائم کی جائیں گی اور انہیں 90 دنوں میں فیصلہ دینے کا پابند بنایا جائے گا۔ کسی کی جائیداد پر قبضہ ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے مگر پیشہ ور لوگ نظام کو ڈھال بنا کر یہ مکروہ کام کرتے آرہے ہیں۔ ریاست اس قبیح فعل کو روکنے میں ناکام رہی ہے کیونکہ قبضہ مافیا اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کیلئے با اختیار افراد کو اپنے ساتھ ملا لیتا ہے اور معاملہ عدالت میں چلا جائے تو تاخیری حربوں کے ذریعے یہ لوگ مقدمات کو طویل عرصے تک الجھائے رکھتے ہیں۔ اس بنا پر ضلعی کمیٹیوں کے قیام کیساتھ ساتھ یہ عدالتی پہلو بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے جسے ایڈریس کئے بغیر اس قانون سے مکمل استفادہ ممکن نہیں ہے۔
آخر میں ایک اور بات اس بابت لکھنا چارہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ پرانے زمانوں میں بادشاہ اپنی پالیسیوں پر یقینی عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کرتے تھے جس سے انہیں پل پل کی معلومات فراہم ہوتی تھیں۔ کہیں کوئی اہلکار اگر ڈنڈی مار رہا ہوتا تھا تو خفیہ طریقے سے اس کی شکایت بادشاہ تک پہنچ جاتی تھی، یوں احتساب کا کڑا نظام حرکت میں آتا اور کسی کی جرات نہ تھی کہ وہ بادشاہ کے احکام ہوا میں اڑائے یا اس پالیسی کے خلاف کام کرے جو بادشاہ نے دی ہو۔ آج کے جدید دور میں تو خبر رکھنا ویسے ہی بڑا آسان ہے، وزیر اعلیٰ اپنے اس منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار ہوتا دیکھنا چاہتی ہیں تو انہیں ضلعی کمیٹیوں کی خبر گیری کیلئے ایک نیٹ ورک قائم کرنا ہو گا جو انہیں اضلاع کی سطح پر ہونے والی غلط کاری کی خفیہ رپورٹ دے، یوں ضلعی افسران خود کو کڑے احتساب کے دائرے میں محسوس کرینگے اور اس مبینہ گٹھ جوڑ سے بچا جا سکے گا جو مقامی حکومتی نمائندوں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں