Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کا تنازعہ

26ویں ترمیم کا تنازعہ ابھی ختم نہیں ہوا کہ 27ویں آئینی ترمیم کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو اپنے ایکس اکانٹ پر اظہار نہ کرتے تو ممکن ہے کہ یہ معاملہ پس پردہ ہی رہتا۔ لگتا ہے حکومت پہلے کی طرح خفیہ انداز سے اس ترمیم کو اتفاق رائے کے بغیر منظور کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ آئین میں ترمیم اگر اتفاق رائے سے نہ ہوئی تو اس کا انجام بھی 26 ویں آئینی ترمیم سے مختلف نہ ہو گا۔ 26 ویں آئینی ترمیم کا مقدمہ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے سامنے زیر سماعت ہے اور اس کے مختلف پہلوں پر بحث جاری ہے۔ آئیے یہ جان لیتے ہیں کہ 26ویں آئینی ترمیم پر اعتراضات ہیں کیا؟ اس ترمیم کے ذریعے جوڈیشل کمیشن کی ری سٹرکچرنگ کی گئی تا کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے حکومتی جماعت کا کنٹرول بڑھ جائے۔ دوم، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری میں سنیارٹی کے اصول کو ختم کر دیا گیا۔ سوم، عدالت عظمیٰ کے ججوں پر مشتمل آئینی بنچ بنایا گیا ہے جو الگ سے آئینی مقدمات کی سماعت کرے گا خاص طور پر مفاد عامہ کے مقدمات جو آئین کے آرٹیکل(3)184 اور 199 کے تحت عدالت عظمی میں دائر کئے جاتے ہیں اب انہیں آئینی بنچ سنا کرے گا۔ چہارم، جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ججوں کی تقرری کے علاوہ ججوں کی پرفارمنس کا جائزہ لیا جائے گا، یوں ان ججوں کو فارغ کیا جا سکے گا جو حکومتی احکامات ماننے سے انکار کریں گے یا حکومت کے من مانے فیصلوں کے آگے رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرینگے۔ پنجم، تقسیم اختیارات ایک فیڈریشن کی بنیاد ہوتے ہیں جبکہ اس ترمیم نے عدلیہ کو انتظامیہ کے سامنے سرنگوں کر دیا ہے۔ ششم، 26ویں آئینی ترمیم کا ڈرافٹ پبلک نہ کیا گیا اور اس کو خفیہ انداز سے سینیٹ میں پیش کرکہ ایک گھنٹے سے کم وقت میں اس کی منظوری لی گئی جبکہ اگلی صبح جلد بازی میں اسے قومی اسمبلی سے بھی منظور کرا لیا گیا، یہ پراسراریت اور جلد بازی رول آف لا اور جمہوری روایات کے سراسر خلاف اقدام ہے۔
مذکورہ بالا آخری دو اعتراضات انٹرنیشنل جیورسٹ کمیشن نے 26ویں آئینی ترمیم پر کئے تھے۔ المختصر یہ وہ آئینی ترمیم ہے جسکے خلاف اندرون و بیرون ملک سے آوازیں اٹھیں لیکن حکمران طبقہ کے سر سے جوں تک نہ رینگی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی تاریخ لکھی جائے گی تو ان کی آئینی قلابازیوں کی بابت لکھتے ہوئے مورخ انکا تمسخر اڑائے بغیر آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے، بعد ازاں اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے اپنی ماضی کی غلطیوں کے ازالے کی کوشش کی لیکن عہد حاضر میں آئین پاکستان کیساتھ انہوں نے جو کھیلواڑ کیا ہے تاریخ اس کو کبھی معاف نہیں کریگی۔ 2023ء کے سال جو آئین کی گولڈن جوبلی کا سال تھا انہوں نے نہ صرف صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نہ کروا کر اپنی آئینی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی بلکہ عدالت عظمی کے احکامات ہوا میں اڑاتے رہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کا داغ بھی ان کے دامن پر ہے اور اب یہ 27ویں آئینی ترمیم کی کالک بھی اپنے منہ پر ملنے لگے ہیں۔ 27 ویں آئین ترمیم کا مکمل ڈرافٹ اگرچہ ابھی سامنے نہیں آیا لیکن بلاول بھٹو کے ٹوہٹ اور حکومتی حلقوں کی جانب سے جو حقائق سامنے آئے ہیں اس کے مطابق یہ عدلیہ کو اپنے حکم کا غلام بنانے لگے ہیں۔ یہ اقدام تقسیم اختیارات کے اصول کی پامالی ہی نہ ہو گا بلکہ عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہو گا۔ آئینی عدالت کے قیام کے پوشیدہ اغراض و مقاصد کیا ہو سکتے ہیں ان پر اگلے کالم میں روشنی ڈالوں گا فی الحال صرف اتنا عرض ہے کہ ججوں کی ٹرانسفر کا اختیار اگر انتظامیہ کو سونپ دیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمران جب چاہیں گے عدلیہ کا بازو مڑور لیں گے۔
مزید برآں ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی سے نچلی سطح پر عدلیہ کے اختیارات سلب کر کہ انتظامیہ کو دئیے جانے کی جو کوشش ہو رہی ہے یہ ریاست کی طاقت میں تو اضافہ کریگی مگر اس اقدام سے انسانی حقوق اور انصاف کا جنازہ نکل جائے گا۔ ایگزیکٹو مجسٹریٹس کا نظام انگریز کے نو آبادیاتی نظام کا تحفہ ہے، 1800 میں نافذ کیا جانے والا یہ انتظامی بندوبست مقامی لوگوں پر مضبوط ریاستی گرفت قائم رکھنے کیلئے کیا گیا، اب یہ تجربہ دہرانے کی تیاری ہو رہی ہے تو یقینی طور پر اس کے پیچھے وہ سوچ کارفرما ہے جو انسانوں کو آزاد نہیں بلکہ غلام دیکھنا چاہتی ہے۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں تھانوں کی سطح پر ایگزیکٹو مجسٹریٹس ختم کر دئیے گئے تھے آج اس بے نظیر بھٹو کے وارث اپنی جمہوری میراث کو چھوڑ کر ایک ایسا کام سرانجام دینے میں مددگار بننے لگے ہیں جسے جنرل پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر نے بھی شخصی آزادی کے خلاف گردانتے ہوئے اجتناب کیا۔ جنرل مشرف کے دور میں لوکل گورنمنٹ ریفارمز پیش کرتے وقت ایگزیکٹو مجسٹریسی کے نظام کو یکسر ختم کر دیا گیا۔ آج اس نظام کو دوبارہ لاگو کرنے کیلئے بے تابی کیوں ہے؟دنیا آگے کی طرف چلتی ہے جبکہ شخصی آزادیوں کے حوالے سے ہمارا سفر پیچھے کی جانب ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں سخت مانیٹرنگ کرنے والی نہ ہوں تو ہمارے دماغوں کے فتور ہمیں بادشاہتوں کے دور میں واپس لے جائیں جہاں کچھ بولنے سے پہلے جان کی امان طلب کرنی پڑتی تھی۔ آج کا پاکستان کنٹرول اور مضبوط گرفت کے حوالے سے اس سمت گامزن ہے جہاں کچھ کہنے سننے سے پہلے جان کی امان مانگنی پڑے گی۔ انسانی حقوق کی بابت ہمارا ریکارڈ پہلے ہی خراب ہے اب اس ترقی معکوس کے بعد اقوام عالم کے سامنے ہماری صورت کیا بنے گی اس کا تصور یہ سامنے رکھ کر کیجئے گا کہ ہر چیز کنٹرول کرنے والی سوچ آئین میں دی گئی شخصی آزادیوں پر ایک ایک کر کہ قدغن لگاتی چلی جائے گی، یوں لوگ فریڈم آف ایسوسی ایشن، فریڈم آف موومنٹ اور اظہار رائے کی آزادی کی باتیں کرنا بھول جائیں گے۔ آج بھی ان حوالوں سے کچھ اچھا نہیں ہے، آنے والا کل اور بھی خوفناک ہو سکتا ہے۔ 27ویں آئین ترمیم کا جن بوتل سے باہر نکلنے دیں، اس کے بعد توقع رکھیں کہ یہ جن بوتل سے باہر ہی رہے گا۔ یہ بات میں اس مائنڈ سیٹ کو سامنے رکھتے ہوئے کر رہا ہوں جسکا پاکستان کو گزشتہ کئی سالوں سے سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں