Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

لاوارث اور سہولیات سے ماورا کراچی اور ای چالان کا عذاب

کراچی وہ شہر ہے جو کبھی روشنیوں کا مرکز، تجارت کا دل اور پاکستان کی معیشت کی شہ رگ سمجھا جاتا تھا مگر آج بد انتظامی، بے توجہی اور غفلت کا شکار ایک بے یار و مددگار اور لاوارث بستی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ شہر جو ملک کو سب سے زیادہ محصولات دیتا ہے، بنیادی سہولیات سے یکسر محروم ہے۔ گویا یہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نظر میں لاوارث بچہ بن کر رہ گیا ہے۔ شہری روز سڑکوں پر گرد، دھوئیں، ٹوٹی سڑکوں، بدحال ٹریفک اور غیر انسانی چالانوں کی چکی میں پستے ہوئے نظر آرہے ہوتے ہیں مگر شنوائی ہنوز ندارد۔
ایک طرف خستہ حال سڑکیں، کچرے کے ڈھیر اور ابلتے گٹر تو دوسری جانب جدید ٹیکنالوجی کے نام پر تھوپا گیا ای چالان سسٹم جو شہریوں کے لیے سہولت سے زیادہ زحمت بن چکا ہے۔ شہر میں بنیادی سہولیات کا شدید بحران ہر طرف نظر آرہا ہے پر حکمرانوں کی آنکھوں پر پتہ نہیں کس قسم کی عینک ہے کہ انہیں یہ سب نظر نہیں آرہا۔ کراچی کی بیشتر سڑکیں گڑھوں، کھڈوں اور ناہموار پیچ ورک سے بھرپور ہیں۔ بعض علاقوں میں تو سڑک اور نالی کا فرق تک مٹ چکا ہے اور سڑک گندے پانی کے تالاب کا منظر پیش کرتی نظر آرہی ہوتی ہے جس سے کئی خطرناک قسم کے حادثات بھی پیش آتے ہیں اور شہری کو جانی و مالی نقصان سے دوچار بھی کر جاتے ہیں۔ بارش ہو یا خشک موسم، کچرے کے ڈھیر، کیچڑ، نکاسی آب کا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر شہریوں کی روزمرہ آمد و رفت میں آزمائش بنا ہوتا نظر آرہا ہوتا ہے۔ ٹریفک جام اب شہریوں کے لیے ایک عذاب اور عادت بن چکی ہے کیونکہ جہاں سڑکوں پر کھڈے ہیں، وہیں اشارے ناکارہ و غیر فعال اور ٹریفک پولیس یا تو غائب ہے یا صرف ایک طرف کھڑی نظارہ کرتی نظر آرہی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اکثر دیکھا گیا ہے جہاں شاہراہ پر چار اطراف سے ٹریفک کی آمد و رفت ہوتی ہے وہاں ٹریفک پولیس کے اہل کار نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور ٹریفک اپنی مدد آپ کے تحت روا دواں رہتا ہے یا پھر ٹریفک جام کا عذاب سہنا پڑتا ہے بد انتظامی کے تحت۔ چار اطراف سے ٹریفک کی آمد و رفت والی شاہراہوں پر ہر طرف کم از کم دو تو پولیس اہلکار ہونے چاہیں تاکہ ٹریفک جام کی صورت حال بن ہی نہ پائے۔ شہر کا کوئی کونا ایسا نہیں جہاں شہری سکون سے سفر کرسکیں سوائے چند ایلیٹ کلاس والے علاقوں میں جہاں کے لیے اکثر ٹریفک ذمہ داران کہتے نظر آتے ہیں کہ دبئی اور پیرس جیسے شاہراہیں ہیں۔ پانی، بجلی، گیس، کچرا ہر بنیادی سہولت پر سوالیہ نشان بنا نظر آرہا ہے۔ اس لاوارثی میں سب سے زیادہ متاثر وہ متوسط طبقہ ہے جو نہ آواز اٹھا سکتا ہے، نہ فرار حاصل کرسکتا ہے بس خاموشی سے ظلم سہہ کر اپنے شب و روز گزارنے پر مجبور ہے۔
کراچی میں ای چالان کا نظام جس نعرے کے ساتھ متعارف کرایا گیا تھا ’’ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف نگرانی‘‘ وہ اب شہریوں کے لیے ایک خاموش عذاب بن چکا ہے۔ اکثر شہریوں کو چالان کی خبر اس وقت ہوتی ہے جب انہیں گاڑی کی رجسٹریشن یا ٹوکن ٹیکس میں رکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے۔ نہ کوئی پیشگی اطلاع، نہ ثبوت، نہ سننے والا۔ متعدد کیسز میں ایسی گاڑیوں کو چالان کیا گیا جو اُس دن یا وقت میں سڑک پر ہی نہیں تھیں۔ کیا یہ انصاف ہے یا صرف محصولات جمع کرنے کی ایک خودکار مشین؟ کئی افراد کو برسوں پرانے چالان تھما دیے گئے بغیر کسی تصویری ثبوت کے۔ شہری عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں، اپیل کی سہولت محدود یا پیچیدہ ہے اور متعلقہ ادارے شفافیت سے دور ہیں۔ یہ نظام شہری سہولت کے بجائے ایک دباؤ اور نفسیاتی اذیت شہریوں کے لیے بن چکا ہے۔ ای چالان کا عذاب انصاف یا صرف محصولات کی وصولی؟ کا سوال بن کر شہریوں کے ذہن میں گردش کررہا ہے اور اس کا جواب یا حل کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔ ٹریفک نظام کی بدنظمی اور ادارہ جاتی غفلت کا ذمہ دار کس کو ٹہرایا جائے؟ ٹریفک نظام کی بدنظمی اور اشاروں کا متروک اور ناکارہ نظام کا ذمہ دار کون ہے؟ کراچی کا ٹریفک نظام گویا بغیر ناخدا کے کشتی کی مانند محو سفر ہے۔ نہ اشارے کارگر ہیں، شاہراہوں پر نہ ٹریفک پولیس کا کوئی مؤثر نظام ہے۔ جہاں اشارے موجود ہیں ان میں اکثر خراب ہیں اور جہاں کام کررہے ہیں، وہاں ان پر عملدرآمد کرانے والا کوئی نہیں ہوتا۔ شہر کی بڑی شاہراہوں پر گھنٹوں ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے جس سے شہری بے راز ہوجاتے ہیں جس سے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ان کا ایندھن کا ضیاع زیادہ مشکلات پیدا کرتا ہے۔ نہ متبادل راستے، نہ ٹائم مینجمنٹ، نہ حادثات سے نمٹنے کا مؤثر نظام موجود ہے، جس کا جب چاہ کوئی بھی شاہراہ بند کردی جاتی ہے اور متبادل رستے ایک عذاب کی صورت میں نازل ہو جاتے ہیں۔ پہلے ٹریفک پولیس کی پوری توجہ ٹریفک کنٹرول کی بجائے صرف چالان، موٹر سائیکل سواروں کی تلاش اور ’’ریکارڈ‘‘ بنانے پر ہوتا تھا۔ اکثر اہل کار خود اشارے کی خلاف ورزی کرتے دیکھے گئے ہیں اور جب شہری ان سے سوال کریں تو جواب ہوتا ہے۔ ’’اپنے کام سے کام رکھو، ہمیں قانون نہ سیکھاؤ‘‘ شہر کے چوک، چوراہے اور فلائی اوورز میں کوئی مرکزی نظام موجود نہیں۔ ٹریفک کی روانی کا مکمل دار و مدار ’’جگاڑ‘‘ پر چل رہا ہے۔
نفسیاتی دباؤ اور ادارہ جاتی خاموشی کی باعث شہری خود کو ایک ایسے نظام میں پھنسا ہوا محسوس کررہے ہیں جس میں نہ آواز سنی جاتی ہے، نہ داد رسی کی کوئی امید نظر آتی ہے۔ ای چالان، خستہ حال سڑکیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، پانی کی قلت، ابلتے گٹر اور ٹریفک جام کی اذیت نے شہریوں میں مایوسی، غصہ اور بے حسی کو جنم دیا ہے۔ روزمرہ کے سفر میں حادثات، تاخیر، بے ضابطگیاں اور غیر یقینی صورت حال شہریوں کے نفسیاتی بوجھ میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ بچوں کے اسکول جانے سے لے کر مریض کے اسپتال پہنچنے تک ہر مرحلہ ایک سخت امتحان بن چکا ہے۔ ادارے ہیں مگر فعال نظر نہیں آتے۔ مئیر کے اختیارات محدود، صوبائی حکومت کا رویہ لاتعلق اور وفاقی حکومت کی ترجیحات میں کراچی شاید شامل ہی نہیں ہے۔ سیاست دانوں کے بیانات کے شور میں اصل مسائل دم توڑ جاتے ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہر کو اگر مسلسل نظر انداز کیا جائے تو نہ صرف اس کے باسی اذیت میں مبتلا ہوتے ہیں بلکہ پورے ملک کی معیشت، استحکام اور ساکھ متاثر ہوجاتی ہے۔
یہاں چند تجاویز پیش خدمت ہیں۔
سڑکوں کی ہنگامی بنیاد پر فوری مرمت کے لئے مستقل بجٹ اور نگرانی ضروری ہے۔
ای چالان نظام کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے، ہر چالان کے ساتھ واضح تصویر، وقت اور اپیل کا آسان طریقہ بھی درج ہونا چاہیے تاکہ شہریوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی نہ ہو اور ساتھ ہی شہری کو چلان کی وصولی کا بھی کارآمد طریقہ کار ہونا چاہیے۔
ٹریفک اشاروں کی بحالی اور خودکار کنٹرول سسٹم متعارف کرایا جائے اور اس کی مستقل نگرانی کا نظام بھی ہونا چاہیے جیسا کہ اسلام آباد میں ہے۔
ٹریفک پولیس کی تربیت اور جواب دہی کا مؤثر نظام بنایا جائے جنہیں خوش اخلاقی کے ساتھ شہریوں سے پیش آنے کی بھی تربیت دینی کی ضرورت ہے۔
کراچی کو خود مختار شہری حکومت دی جائے تاکہ فوری مسائل مقامی سطح پر حل ہوں۔
چند سوالات جو کراچی کے شہریوں کے ذہن میں اکثر گردش کررہے ہیں پر ان سوالات کا حل یا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔
کیا کراچی کو اس کے وسائل کا جائز حصہ ملتا ہے؟
کیا عوام صرف ٹیکس دینے اور چالان بھگتنے کے لیے ہیں؟
کیا سہولت سے محروم شہری صرف ’’شہری ذمہ داری‘‘ نبھاتے رہیں اور ریاست صرف ’’جرمانے؟‘‘
کراچی زندہ ہے مگر شدید زخمی بھی ہے، اس کے باسی خاموش ہیں مگر مایوس نہیں۔ یہ شہر اب بھی امید رکھتا ہے کہ بس اس شہر کو ضرورت ہے ایک دیانت دار نگاہ، ایک بااختیار قیادت و نظام اور انسان دوست حکمرانی کی جن کے دل میں انسانی خدمت و ہمدردی کا جذبہ موجود ہو۔

یہ بھی پڑھیں