27ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے آئین کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ددکیا ایسا قانون بنایا جاسکتا جو فیڈریشن کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر دے اور ان ستونوں کو ملیا میٹ کر دےجن پرفیڈریشن کھڑی ہوتی ہے؟ ایسی کوئی ترمیم بالفرض اگر کرنی بھی پڑے تو اس کیلئے قومی اتفاق رائے کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے دو ججوں کے استعفی میں اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے 27ویں ترمیم منظور کر کے آئین کی روح پر حملہ کیا ہے۔ ایک جج نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ وہ ایسی سپریم کورٹ میں نہیں بیٹھ سکتے جسکا آئینی کردار ہی چھین لیا گیا ہے۔ 27ویں آئینی ترمیم جس طرح منظور کی گئی ہے وہ ہمیشہ پارلیمانی تاریخ کا سیاہ باب شمار ہو گا۔ قومی اتفاق رائے کے بغیر جلد بازی میں منظور کی جانے والی اس ترمیم نے آئین کے اجلے دامن پر ہارس ٹریڈنگ کے نقوش ہی نہیں چھوڑے بلکہ بیک وقت، آئین، فیڈریشن اور جمہوریت کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کا قیام شاید اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا لیکن حکومتی اتحاد کے آئینی پیکج نے اسکی نیک نیتی کو سوالیہ نشان بنا دیا یے۔ با اختیار سپریم کورٹ، فیڈریشن کی علامت ہوتی ہے مگر اس ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی اوریجنل اور جینوئین شکل کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ کا رول محض اس حد تک رہ گیا ہے کہ وہ ہائی کورٹس سے ہونے والی سزاؤں کے خلاف فوجداری اور سول مقدمات کی اپیلیں سنے۔ آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت صوبائی حکومتوں کے مابین ایشوز کو ڈیل کرنا، مفاد عامہ اور بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنا، آئینی معاملات میں حکومت کی رہنمائی کرنا اور ضرورت پڑنے پر آئین کی تشریح کرنا اب سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔ اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ یہ رول اب فیڈرل کورٹ کو دے دیا گیا ہے تو آپ غلطی پر ہیں۔ پہلی بات، فیڈرل کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے طریقہ کار میں شفافیت اور میرٹ نہیں ہے۔اسکی وجہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم نے اعلی عدلیہ میں ججوں کی تقرری کو ایگزیکٹو کی منشا کے تابع کر دیا تھا اب 27ویں آئینی ترمیم میں جوڈیشل کمیشن کی جس طرح تشکیل نو کی گئی ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اب وہی شخص جج بنے گا یا رہے گا جسے حکومت بنانا چاہے گی یا رکھنا چاہے گی، مطلب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا گٹھ جوڑ قوم کو ایک دائرے کا چکر لگوا کر وہاں لے آیا ہے جہاں قانون کی حکمرانی، جمہوریت، سول سپریمیسی، آزاد عدلیہ وغیرہ کا جنازہ تیار کھڑا ہے بلکہ اٹھا لیا گیا ہے۔ عدلیہ کی آزادی کا سفر اب تمام سمجھئے، جو جج حکومت کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں دے گا وہ ٹرانسفر کر دیا جائے گا۔ جو اڑی کرے گا اس جج کو جوڈیشل کمیشن کے ذریعے فارغ سمجھئے۔ 27ویں آئینی ترمیم کےحوالے سے بعض لوگ آرٹیکل 243 میں ترمیم اور فوجی افسران کی اعلی تعیناتیوں میں خواہ مخواہ الجھ رہے ہیں،آئین میں اصل واردات فیڈرل کورٹ کے لبادے میں ڈالی گئی ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے ہمیشہ کیلئے عدلیہ انتظامیہ کے سامنے سرنگوں کر دی گئی ہے۔ فیڈرل کورٹ کی کمپوزیشن بھی دل متلا دینے والی ہے، ہر صوبے سے برابر کی نمائندگی رکھنے کی آخر تک کیا ہے؟ وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات یا صوبوں کے آپس میں تنازعات کے خاتمے کی حد تک فیڈرل کورٹ میں برابر کی نمائندگی قابل فہم ہے کہ صوبے کی نمائندگی کرنے والا جج صوبے کے حقوق کا تحفظ کرے گا مگر دیگر آئینی معاملات کے حل، خاص طور پر عوامی اہمیت کے مسائل جو آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کے دائرہ میں آتے ہیں کے حوالے سے فیڈرل کورٹ کا دائرہ اختیار اور کمپوزیشن بڑی عجیب ہے۔ یا تو اس ہیئت ترکیبی کو بدل دیا جاتا یا پھر آئینی معاملات بشمول پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کو عدالتی تحفظ فراہم کرنے والے عوامی اہمیت کے مقدمات سپریم کورٹ آف پاکستان کے دائرہ اختیار میں دے دئیے جاتے۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم چونکہ جلد بازی میں کی گئی ہیں اس لئے ان میں نقائص کی بھر مار ہے۔ جلد بازی کے کاموں کا جو انجام ہوتا ہے میرے نزدیک وہ 27ویں آئینی ترمیم کا بھی مقدر ہوگا۔ تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر نے تو فلور آف دی ہاوس اعلان کر دیا ہے کہ تحریک انصاف جب بھی برسر اقتدار آئے گی 27ویں ترمیم کو ختم کر دیا جائے گا۔ صدر زرداری نے ہمیشہ اپنے آپ کو صدارتی استثناء کے پیچھے چھپانے کی کو شش کی۔ ماضی میں بھی انہوں نے اپنے عہد صدارت کے دوران صدارتی استثناء کی ضد کی جسکا خمیازہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھگتا، وہ سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں اپنے عہدے سے محروم ہوئے۔ عہد صدارت کے دوران آئین نے صدر کی ذات کو اسلئے مقدمات کی زد میں آنے سے بچایا ہے کیونکہ ریاست کے تمام عہدیدار صدر کے نام سے اپنی اتھارٹی ایکسر سائز کرتے ہیں۔ یقینی طور پر اس تناظر میں صدر کو قابل مواخذہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا لیکن عہد صدارت کی تکمیل کے بعد ایک شہری کے طور پر انکی باقی ماندہ زندگی کے معاملات کو کیسے قانون سے ماوراء قرار دیاجا سکتا ہے۔ کسی مہذب ملک میں اس طرح کا قانون موجود نہیں ہو گا۔ اسی طرح فیلڈ مارشل کو بھی تا حیات قانون سے استثناء دینا بھی سمجھ سے بالاتر اقدام ہے۔ یہ قانون پاس کر کے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت اور ممبران پارلیمنٹ نے اپنا وقار کھو دیا ہے۔ یہ واضح ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا رد عمل آئے گا اور شدید آئے گا۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ اپنی آزادی کا تحفظ کیا ہے، ایک ڈکٹیٹر کے عہد میں آزاد عدلیہ کی حمایت میں پاکستانی عوام نے جس طرح سٹینڈ لیا اس کا مظاہرہ ایک بار پھر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے اٹھائی جانے والی تحریک کو عوامی پذیرائی اس وقت ملے گی جب وکلا ایسوسی ایشنز اس کی قیادت کریں۔ آج تمام نظریں آزاد منش وکلا کی جانب اٹھی ہوئی ہیں کہ وہ اس صورتحال میں کیا لائحہ عمل ترتیب دیتے ہیں۔