ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا ایک عہد ساز شخصیت کی جدائی سے ادبی اور تعلیم کے شعبہ میں ایک بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ پاکستان کے فکری اور ادبی افق کا ایک درخشندہ باب نہایت خاموشی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ معروف ماہر تعلیم، دانشور، اور سماجی مصلح ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کی رحلت بلاشبہ ملک کے علمی حلقوں کے لیے ایک ناقابل تلافی سانحہ ہے۔ وہ محض ایک استاد یا محقق نہیں تھیں بلکہ اپنے عہد کی ایک جیتی جاگتی دانش گاہ تھیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تہذیب اور سچائی کی ترویج کے لیے وقف کر دی تھی۔ ان کا رحلت ایک ایسا خلا چھوڑ گیا ہے جو برسوں پُر نہیں کیا جاسکے گا۔
ڈاکٹر عارفہ کی شخصیت میں ایک منفرد جاذبیت تھی۔ ان کا اسلوبِ گفتگو جہاں الفاظ دلوں میں اترتے تھے وہیں ان کا شائستہ، تہذیبی اور محبت آمیز لہجہ براہ راست سامعین کے دلوں میں اتر کر گھر کر جاتا تھا۔ وہ بڑے سے بڑے فکری سوال کو بھی نہایت نرمی اور وضاحت سے پیش کرنے کا فن جانتی تھیں۔ ان کی گفتگو محض علم کا انبار نہیں بلکہ ایک فکری مکالمہ ہوتی تھی جو سننے والوں کی تربیت کرتی تھی۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مشکل ترین بات بھی عام و فہم انداز میں بیان کر دیتی تھیں، جس نے انہیں ایک قومی رہبر کا درجہ مل گیا تھا۔
ڈاکٹر صاحبہ کا تدریسی سفر کئی دہائیوں پر محیط رہا اور ہر قدم پر انہوں نے بہترین تعلیمی اقدار قائم کیں۔ تعلیم کے شعبے میں لازوال نقوش نقش کیے اور استاد سے مربی تک کا سفر نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ طے کرتے ہوئے اپنی شخصیت کو منوانے میں کامیاب ٹہریں۔ ان کی قیادت کی مثال اس سے بھی لی جاسکتی ہے کہ وہ ۱۹۸۹ء سِ ۲۰۰۲ء تک گورنمنٹ کالج فار ویمن، گلبرگ کی پرنسپل کی حیثیت سے ان کا دورِ قیادت سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ انہوں نے کالج کو محض ڈگری دینے کا ادارہ نہیں بلکہ فکری ترقی کا مرکز بھی بنا دیا تھا۔ وہ صرف نصاب کی تکمیل کی قائل نہیں تھیں بلکہ طالبات کی کردار سازی، فکری تربیت اور خود اعتمادی پر زور دیتی تھیں۔ ان کے نزدیک اچھی تعلیم کا مقصد ایک ذمہ دار اور باشعور شہری تیار کرنا تھا۔ انہوں نے کلاس روم کے ماحول کو خوف سے پاک اور آزادانہ سوال و جواب کی جگہ بنایا، جہاں استاد کا کردار صرف درس دینا نہیں بلکہ طالب علم کا مربی و رہنما بننا تھا۔ ان کی اس بصیرت نے ہزاروں خواتین کو نہ صرف ایک اچھا و قابل انسان بنا بلکہ اچھا طالب علم بھی بنایا بلکہ زندگی کے میدان میں کامیاب قائد بنایا۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کا اردو زبان سے تعلق محض ایک مضمون پڑھانے والے کا نہیں بلکہ ایک تہذیبی نگہبان کا تھا۔ انہوں نے اپنے عوامی بیانات اور ٹیلی ویژن پر ہونے والے براہ راست پروگراموں میں ہمیشہ شستہ، باوقار اور معیاری اردو کا استعمال کیا جو خود اردو زبان کی خوبصورتی کا بہترین نمونہ تھا۔ وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتی تھیں کہ اردو ہی وہ ذریعہ ہے جو عوام میں تاریخی اور سماجی شعور پیدا کرسکتا ہے۔ انہوں نے اردو کے ذریعے فکرِ اقبال اور غالب کے فلسفے کو آسان زبان میں عام آدمی تک پہنچایا۔ انہوں نے کتابوں سے دوری اور اور ان پر ہونے والے مباحث میں کمی کو قومی المیہ قرار دیا اور نوجوان نسل کو مسلسل مطالعہ اور ادبی ورثہ سے جڑنے کی ترغیب دی تھی۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی فکری بصیرت کو قومی اداروں میں بھی استعمال کیا تھا۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن کی چیئرپرسن اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ممبر رہیں۔ ان کی کوششیں ہمیشہ سماجی انصاف، انسانی حقوق اور خواتین کو ان کے جائز مقام دلوانے پر مرکوز رہیں۔ وہ سچائی اور صاف گوئی کی علامت تھیں اور اپنے عہدوں کا استعمال ہمیشہ عوام کی بہتری کے لیے کیا۔
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کی زندگی ایک مکمل درسگاہ تھی۔ ان کی دانش، ان کے افکار اور ان کی خدمتِ خلق کا جذبہ ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتا رہے گا۔ ان کے جانے سے یقینا اردو ادب، شعبہ تعلیم اور فکری میدان میں پیدا ہونے والا خلا ناقابل تلافی ہے مگر ان کے شاگردوں اور چاہنے والوں کو چاہیے کہ وہ ان کے افکار کی روشنی کو مزید پھیلائیں تاکہ ڈاکٹر صاحبہ کا روشن کیا ہوا چراغ ہمیشہ روشن رہے اور اس سے اردو ادب اور شعبہ تعلیم میں ہمیشہ روشنی رہے اور نئی نسل کی کردار سازی کام بھی سہل انداز میں ہوتا ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ وہ رحیم و کریم رب ڈاکٹر صاحبہ کی خدمات اور ان کے نیک اعمال کو اپنی بارگاہ الٰہی میں قبول و مقبول فرما لیں اور غریق رحمت فرما کر انہیں اپنی جوار رحمت کے سائے میں لے کر ان کی کامل مغفرت و بخشش فرما دیں آمین۔