(گزشتہ سے پیوستہ)
ستائیسویں آئینی ترمیم پر سب سے زیادہ تحفظات صوبائی حکومتوں کی طرف سے سامنے آئے ہیں، خصوصاً ان دفعات کے حوالے سے جو مرکز کے اختیارات میں توسیع کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو جو خود مختاری حاصل ہوئی تھی، وہ پاکستان کی وفاقی روح کی اہم ترین پیش رفت مانی جاتی ہے لیکن اگر ستائیسویں ترمیم کے ذریعے دوبارہ مرکز کی گرفت سخت کی گئی تو یہ آئینی طور پر صوبوں کی خود مختاری کے خلاف تصور ہوگا اور صوبے اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ ’’ترمیمی نکات بعض صوبائی قوانین پر وفاقی نگرانی مسلط کرسکتے ہیں، اعلیٰ عدالتوں پر اثر انداز ہونے سے صوبائی عدالتی آزادی متاثر ہوسکتی ہے، نئی آئینی تشریحات سے مشترکہ مفادات کونسل کی خود مختاری بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘‘ یہ تمام خدشات پاکستان جیسے کثیرالثقافتی، کثیرالسانی وفاق میں سیاسی تناؤ اور بداعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں۔
اس ترمیم کا دوسرا کلیدی اور نہایت حساس حصہ عسکری کمانڈ کے ڈھانچے کو آئینی تحفظ فراہم کرنا ہے اس کے ساتھ ہی عسکری بالادستی کو آئینی تحفظ دے کر سویلین بالادستی پر ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گیا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کا نیا عہدہ متعارف کرانا، جس میں آرمی چیف کو تینوں مسلح افواج پر آئینی بالادستی حاصل ہوگی، دفاعی ہم آہنگی کے لیے مثبت ہوسکتا ہے تاہم اس ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل جیسے پنج ستارہ عہدوں کو آئینی استثنیٰ اور تحفظ فراہم کرنا سویلین بالادستی کے اصول کی صریح نفی ہے۔ یہ اقدام ایک جمہوری ریاست میں جہاں منتخب پارلیمنٹ کی حاکمیت کو اعلیٰ ترین حیثیت حاصل ہوتی ہے، طاقت کا توازن بگاڑ سکتا ہے۔ ان عہدوں کو آئینی تحفظ اور لازوال حیثیت دینا دراصل عسکری قیادت کو آئینی طور پر ماورائے احتساب بنا دیتا ہے جو ملک کے جمہوری سفر کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔
صوبائی خودمختاری پر بالواسطہ اثرات اور وفاق کا عدم توازن کی صورت حال سنگین ہونے کے خدشات بھی سامنے آسکتے ہیں۔ یہ ترمیم صرف وفاق تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات صوبائی خود مختاری پر بھی ہوسکتے ہیں۔ جب وفاقی ایگزیکٹو اور عسکری قیادت کو آئینی طور پر مزید مضبوط اور احتساب سے بالاتر کر دیا جائے گا تو وفاقی حکومت کی مطلق بالادستی میں اضافہ ہو جائے گا۔ طاقت کا یہ غیر متوازن مرکز صوبوں کے لیے اپنے آئینی حقوق اور مالیاتی معاملات (جیسے این ایف سی ایوارڈ) میں مرکز سے برابری کی سطح پر بات چیت کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔ مزید برآں ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلوں میں وفاق کا بڑھتا ہوا عمل دخل اور گورنروں کو حاصل فوج داری استثنیٰ ایک ایسے ماحول کو جنم دے گا جہاں صوبائی ہائی کورٹ اور صوبائی انتظامیہ پر وفاقی کنٹرول کا تاثر مزید مضبوط ہوگا۔ اس سے اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت حاصل شدہ صوبائی خود مختاری کی روح کمزور ہوسکتی ہے۔
ستائیسویں آئینی ترمیم ملک کے آئینی توازن کو خطرناک حد تک جھکا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ طاقت کے ارتکاز اور احتساب کی کمزوری کی صورت میں سامنے آسکتا ہے، جس سے نہ صرف وفاق بلکہ وفاقی اکائیوں (صوبوں) کے سیاسی ڈھانچے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ستائیسویں آئینی ترمیم نے صرف آئینی ماہرین یا ادارہ جاتی قوتوں کو ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ حکومتی بیانیہ اسے جمہوریت کی مضبوطی اور ’’پارلیمان کی بالادستی‘‘ قرار دیتا ہے جبکہ اپوزیشن اور بعض سیاسی تجزیہ نگار اسے ادارہ جاتی توازن کو بگاڑنے کی ایک کوشش کہتے ہیں۔ عوامی سطح پر تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ ’’ترمیم کا مقصد اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہے، مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن جیسے سنگین مسائل پسِ پشت چلے گئے ہیں، آئینی و عدالتی تصادم کا ماحول جان بوجھ کر پیدا کیا جا رہا ہے، اس طرح کی ترمیم جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے کے بجائے اداروں کے درمیان تصادم، بے اعتمادی اور آئینی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔‘‘ اگر عوام کو لگے کہ آئین صرف سیاسی مصلحتوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے تو جمہوریت پر اعتماد کمزور ہو جائے گا اور یہی کسی بھی جمہوری ریاست کے لیے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔
جمہوریت کی بقاء اور آئین کی حرمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ طاقت کے تمام ستونوں (مقننہ، عدلیہ اور ایگزیکٹو) کے درمیان ایک مضبوط اور متوازن تعلق قائم رہے۔ آئینی بحران سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ ان ترامیم کے نفاذ کے طریقہ کار میں مکمل شفافیت کو یقینی بنائے اور عدلیہ آئین کی بنیادی روح اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرے۔ آئین کی بالادستی ہی ملک کے تمام اداروں کے لیے واحد مشترکہ اصول ہوسکتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ قومی سلامتی اور اداروں کی مضبوطی کو جمہوری اصولوں کی قربانی دے کر حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ستائیسویں آئینی ترمیم کو سیاسی مفاد کے بجائے ملکی استحکام، وفاقی وحدت اور آئینی شفافیت کے لیے بروئے کار لایا جائے تو یہ ایک مثبت قدم ثابت ہوسکتا ہے لیکن اگر اسے اداروں کو محدود کرنے یا اختیارات پر قبضہ جمانے کی نیت سے نافذ کیا گیا ہے تو یہ ایک نئے آئینی بحران کی راہ ہموار کر دے گا۔ قوم، جمہوریت اور آئین سب کی بقا اس بات میں ہے کہ فیصلے ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالا ہو کر کیے جائیں۔