پاکستان اس وقت جس بند گلی میں کھڑا ہے، وہاں سب سے پہلے یہ سچ ماننا پڑے گا جو کچھ عمران خان کے ساتھ ہوا ہے اور ہو رہا ہے وہ سیاست نہیں ہے بلکہ ریاستی طاقت کا بے جا استعمال ہے مقدمات کی بارش، گرفتاریوں کی یلغار، میڈیا بلیک آٹ، پارٹی توڑنے کے حربے، عدالتوں میں بے انتہا دبا، 8فروری کے انتخاب میں لوٹ مار، اور ہر سطح پر ان کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش یہ سب کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ تھا لیکن یہ منصوبہ ایک بنیادی حقیقت بالکل نہیں سمجھ سکا مقبولیت بندوق سے نہیں چھینی جا سکتی، اور نہ ہی عوام کے دلوں سے مٹائی جا سکتی ہے۔
طاقت کے سارے مراکز سیاسی، انتظامی، قانونی،عدالتی اور غیر عدالتی ایک ہی مقصد پر لگا دیئے گئے عمران خان کو کمزور کرو، اسے منظر سے ہٹائو، اس کی پذیرائی ختم کرو۔ مگر نتیجہ الٹ نکلا۔ وہ جیل کی کوٹھیڑوں میں بیٹھ کر بھی عوام کے دلوں پر حکمران ہے جبکہ اقتدار سے زبردستی چمٹے ہوئے چہرے دن بدن رسوا در رسوا ہو رہے ہیں ایسی کرسی جس پر اختیار تو ہو مگر عزت نہ بچے کوئی سنجیدہ نہ لے وہ کرسی نہیں، محض بوجھ ہے اور یہ بوجھ آج کئی طاقتور برداشت کر رہے ہیں۔
یہ بحران صرف ایک شخص یا ایک جماعت کا نہیں۔ یہ پورے نظام کی بے بسی اور کمزوری کا اعتراف ہے ملک کی پارلیمنٹ ایک رسمی کمرہ بن چکی ہے جہاں فیصلے نہیں ہوتے، صرف منظوری دی جاتی ہے جیسے 26 ویں اور 27ویں ترامیم ۔یہ قانون سازی قوم کی ضرورت کے مطابق نہیں بلکہ طاقت کے اشاروں کے مطابق ہوتی ہے عوام کی نمائندگی کرنے والا ادارے کو اپنی اصل طاقت سے بالکل محروم کر دیا گیا ہے۔
میڈیا کی حالت بھی کسی سے چھپی نہیں۔ دبا نے اسے اس حد تک گھیر لیا کہ سچ بولنا اب جرم بن گیا کسی رہنما کا نام لینا، اس کی آواز نشر کرنا، حتی کہ اس کی تصویر دکھانا بھی خطرہ بن گیا۔ یہ میڈیا کی کمزوری نہیں، اسے کمزور بنانے کا عمل ہے۔ ایک قوم کا میڈیا اگر خوف میں سانس لے تو قوم خود خوف کا شکار ہو جاتی ہے۔
عدلیہ کا اپنا وقار اب باقی بالکل نہیں رہا جو ایک آزاد ریاست کی بنیاد ہوتا ہے۔ فیصلوں کے وقت، ترجیحات اور طرزِ انصاف نے عوام کے ذہنوں میں بے شمار سوالات کھڑے کیے۔ انصاف کا دروازہ کھلا تو ہے، مگر اس میں داخل ہونے کے لیے جس طاقتور کی اجازت درکار ہو، وہ دروازہ انصاف کا نہیں پارلیمنٹ نے آئین کے مطابق قانون سازی کرنی ہوتی ہے اور عدالتوں نے آئین کا تحفظ کرنا ہوتا ہے ۔
جہاں جب اندرونی نظام کمزور ہو، وہاں بیرونی دنیا مذاق اڑاتی ہے۔ ایک برطانوی اخبار نے عمران خان اور اس کی بیگم کے بارے میں حال ہی میں ایسا تبصرہ شائع کیا جسے بجا طور پر مسخروں کا تازہ پٹاخہ کہا جا رہا ہے۔ بیرونی دنیا پاکستان کی سیاست کو سنجیدگی سے کیوں لے؟ جب یہاں حکومتیں چہرے بدلتی رہیں، مگر نظام ایک ہی بند کمرے کا مرہونِ منت رہے، تو دنیا بھی اسی کو تماشا سمجھے گی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ فیصلے عوام کے ہاتھ سے نکال کر طاقت کے مراکز میں قید کر دئیے گئے ہیں۔ جب ریاست عوام سے بیگانہ ہو جائے، تب سیاسی لیڈر نہیں، پورا ملک کمزور پڑتا ہے۔ عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس نے ایک ہی بات واضح کر دی۔ عوامی اختیار سے ٹکرانے والا ہر منصوبہ آخرکار اپنی ہی طاقت کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
پاکستان اس وقت صرف ایک تبدیلی نہیں چاہتا، پورے نظام کی واپسی عوام کے پاس چاہتا ہے۔ جب پارلیمنٹ فیصلے کرے گی، میڈیا سچ بولے گا، عدلیہ بلا خوف انصاف دے گی تب ریاست مضبوط ہوگی، اور تب ہی قوم سر اٹھا سکے گی۔
ورنہ حکومتیں آتی رہیں گی، جاتی رہیں گی، مگر بحران وہیں رہے گا جہاں آج کھڑا ہے۔ عمران خان تو ایک شخص ہے اسے مٹانے کیلئے قانون بدل دیا آئین کا حلیہ بگاڑ دیا خود کو مطلق العنان حکمران بنا دیا ملک کا کیا فائدہ ہوا تاریخ بھی یاد کر لیں کل ہی کی بات ہے 2012 ء میں مصر سے عرب اسپرنگ شروع ہوئی جس نے پورے عرب ممالک کی حکومتیں تبدیل کر دیں پڑوس میں سری لنکا میں چند سال پہلے کیا ہوا حال ہی میں بنگلہ دیش میں کیا ہوا ہے یہ سب کچھ ہماری سرحدوں کے نزدیک ہورہا ہے پاکستان کی عوام کی خواہشات کو کب تک دبایا جائے گا
لگتا ہے برسوں پہلے احمد ندیم قاسمی نے یہ غزل شائد عمران خان کے بارے میں لکھی تھی :
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جائوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جائوں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جائوں گا مگر صبح تو کر جائوں گا