Search
Close this search box.
هفته ,27 جون ,2026ء

عالمی دھاروں میں گردش

گزشتہ چند برسوں میں دنیا جن سیاسی و معاشی ہچکولوں سے گزری ہے، انہوں نے ریاستوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ اب عالمی تعلقات پرانے فارمولوں کے تحت نہیں چل سکتے۔ عالمی سیاست کے مراکز ایک طرف سے دوسری طرف منتقل ہو رہے ہیں اور ریاستیں اپنے تعلقات، اتحادوں اور ترجیحات کو نئے سرے سے ترتیب دینے پر مجبور ہیں۔ اسی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی دنیا کے پس منظر میں ماسکو میں منعقد ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں تھا بلکہ یہ اس نئے عالمی سفر کا سنگ میل ثابت ہوا جس میں ایشیا ء کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو کر ابھری ہے۔ اس اجلاس نے یہ دکھایا کہ عالمی تناؤ، اقتصادی مسابقت، علاقائی چیلنجز اور ابھرتے ہوئے طاقت کے نئے مراکز کس طرح ایک دوسرے سے جڑ کرایک نئی صف بندی پیدا کر رہے ہیں۔ روس، جو اپنے دفاعی و سفارتی دباؤ کے باوجود عالمی سیاست میں اپنی جگہ مستحکم رکھنا چاہتا ہے، اس اجلاس کے ذریعے ایک بار پھر عالمی منظرنامے میں اپنی موجودگی کا واضح اعلان کرتا نظر آیا۔ اس نے یہ اجلاس ایک ایسے مرحلے پر منعقد کیا جب وہ مغربی پابندیوں، دفاعی دباؤ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے ۔چین اپنی معاشی قوت، تجارتی حجم اور علاقائی اثرورسوخ کے ساتھ اس فورم کو وہ سمت دے رہا ہے جو آنے والے برسوں میں عالمی طاقت کا محور طے کر سکتی ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستیں، ایران، پاکستان اور بھارت اس نئے اتحاد کا حصہ بن کر نہ صرف خطے کی جغرافیائی حقیقت کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ ایشیا اب عالمی فیصلوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ یہی وہ ماحول ہے جس میں ماسکو اجلاس نے خطے کی ترجیحات، مستقبل کی سمت اور مشترکہ امکانات کا نقشہ پیش کیا اور اسی نقشے میں پاکستان کا کردار ایک اہم اور ناگزیر حقیقت کے طور پر نمایاں ہوا۔
ماسکو اجلاس کی سب سے نمایاں جھلک یہ تھی کہ خطے کے ممالک اب عالمی سیاست کو مغربی تناظر کے بجائے اپنے علاقائی اور اسٹریٹجک مفادات کے زاوئیے سے دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی طاقتوں کی یکطرفہ پالیسیوں کے مقابلے میں چین، روس، پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا ء ایک نئے تصور کی طرف بڑھ رہے ہیں جو توازن، شراکت اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ اجلاس میں انسدادِ دہشتگردی، سکیورٹی تعاون، تجارت، توانائی، ٹرانزٹ، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی اور افغانستان کے مستقبل جیسے موضوعات پر وسیع گفتگو ہوئی۔ یہ مباحث اس حقیقت کو مزید واضح کر گئے کہ خطہ اب مسائل کو علیحدہ علیحدہ دیکھنے کے بجائے مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت حل کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان کا ذکر اجلاس کے دوران بار بار آیا، کیونکہ آج کابل کے حالات صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں رہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی، تجارت اور سیاسی استحکام سے جڑے ہوئے ہیں۔ ماسکو اجلاس نے یہ احساس تازہ کیا کہ افغانستان کے استحکام کے بغیر خطے میں امن کی کوئی کوشش مکمل نہیں ہو سکتی۔اس اجلاس کا ایک اہم پہلو پاکستان کا کردار تھا، جس نے اس پلیٹ فارم پر نہ صرف اپنی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت کو پوری طرح اجاگر کیا بلکہ بدلتے عالمی حالات میں اپنی خارجہ پالیسی کی نئی سمت کو بھی واضح کیا۔ پاکستان، جو چین کا قریبی اسٹریٹجک پارٹنر اور سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کا مرکز ہے، اس اجلاس میں ایسے بیانیے کے ساتھ شامل ہوا جو پورے خطے کی ترجیحات سے ہم آہنگ بھی تھا اور عملی امکانات سے بھرپور بھی تھا۔ پاکستان کی یہ نمایاں پوزیشن نہ صرف سی پیک اور گوادر کی وجہ سے اہم ہے بلکہ اس لیے بھی کہ پاکستان خطے کے سکیورٹی ڈھانچے میں ایک مضبوط کردار ادا کرتا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف کامیاب جدوجہد، افغانستان کی صورتحال پر گہری نظراور چین و وسطی ایشیا کے ساتھ مستحکم تعلقات پاکستان کو اس فورم کا ایک غیر معمولی رکن بناتے ہیں۔ماسکو اجلاس میں پاکستان نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات، علاقائی رابطہ کاری اور مشترکہ پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ اگر خطہ ایک دوسرے سے تعاون کرے تو استحکام کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے تجارتی راستوں کو فعال کرنے، ٹرانزٹ فیس میں آسانیاں پیدا کرنے، توانائی کے نئے اشتراک شروع کرنے اور ریجنل کنیکٹیویٹی کو فروغ دینے کی تجاویز بھی پیش کیں۔ یہ نکات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان اب روایتی سکیورٹی تصور سے باہر نکل کر معاشی سفارتکاری پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔
پاکستان کے لئے ایس سی او نہ صرف ایک سیاسی پلیٹ فارم ہے بلکہ مستقبل کی اقتصادی ترقی اور خطے میں اپنے کردار کو مستحکم کرنے کا بھی ذریعہ ہے۔ روس اور چین دونوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اس اجلاس میں ایک نئی ہم آہنگی کی صورت میں سامنے آئے، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان کا کردار مزید مضبوط اور مؤثر ہوگا۔اس اجلاس میں بھارت کی موجودگی بھی ایک دلچسپ مگر متضاد پہلو رہی۔ پاکستان نے اپنی گفتگو میں کسی محاذ آرائی کے بجائے علاقائی تعاون کی بات کی، جس سے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اس کا مؤقف سامنے آیا۔ اس کے برعکس بھارت کے سخت رویے نے اس بات کی تصدیق کی کہ نئی دہلی ابھی بھی ذاتی سیاسی مفادات کو علاقائی ترقی پر فوقیت دے رہا ہے۔ماسکو اجلاس کا سب سے بڑا مجموعی پیغام یہ تھا کہ خطے کے ممالک اب اپنی تقدیر خود لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ عالمی سیاست کے پرانے اصولوں سے باہر نکل کر ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں فیصلہ سازی زیادہ متوازن، باہمی اور علاقائی مفادات پر مبنی ہو۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیا اس ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ بھارت اپنی ضد اور یکطرفہ پالیسیوں کے باعث عملی طور پر خود کو الگ تھلگ کر رہا ہے۔ تاہم اس نئے نظام کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب رکن ممالک داخلی استحکام برقرار رکھیں، باہمی اعتماد بڑھائیں اور سفارتی تناؤ کو کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں جاری رکھیں۔ماسکو اجلاس نے مستقبل کی سمت واضح کر دی ہے۔ دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا محور ایشیا ہوگا اور شنگھائی تعاون تنظیم اس نئے دور کے سیاسی، سفارتی اور اقتصادی ڈھانچے کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ پاکستان اس پورے عمل میں ایک مرکزی کردار بن کر ابھر رہا ہے، نہ صرف اپنی جغرافیائی حیثیت اور دفاعی کردار کی وجہ سے بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے پاس خطے کو جوڑنے، تعاون کو بڑھانے اور اقتصادی راستوں کو فعال کرنے کی عملی صلاحیت موجود ہے۔ آنے والے برسوں میں پاکستان کے لیے مواقع بھی بڑھیں گے اور ذمہ داریاں بھی، لیکن ماسکو اجلاس نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان اس خطے کا ایک مرکزی کردار ہے ،ایک ایسا کردار جو ماضی کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط، متوازن اور دوررس اہمیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں