قانون کسی بھی ملک کا وہ بنیادی آئینی ڈھانچہ ہے جو اختیارات و فرائض کی ہیئت بیان کرتا ہے۔نیز شہریوں کے بنیادی حقوق یقینی بناتا ہے یہ ضابطوں کا ایسا مجموعہ ہے جس کی بنیاد پر ملک کا نظام چلایا جاتا ہے۔ریاست کے تمام اداروں بشمول مقننہ،عدلیہ اور انتظامیہ کی ذمہ داریوں کی حدود کا بھی تعین کرتا ہے اور شہریوں سمیت تمام اداروں کو پابند کرتا ہے کہ لازم اس کی پیروی کریں۔حکومت تشکیل پا جائے تو اس کی شکل اور بنیادی ڈھانچے کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ ریاست پارلیمانی نظام پر چلے گی یا صدارتی نظام حکومت پر آئین ہی متعین کرتا ہے کہ اہم اداروں کے اختیارات اور ذمہ داریاں کیا ہوں گی،جبکہ ادارے ایک دوسرے سے اور عوام کے ساتھ کیا تعلق رکھیں گے-یہ واضح رہے کہ دنیا میں بیشتر ممالک ایسے بھی ہیں جن کا آئین دستاویزی شکل میں موجود ہے۔ جیسا کہ پاکستان، امریکہ اورچین جبکہ برطانیہ سمیت دیگر بہت سے ممالک میں غیر تحریری یعنی کسی دستاویز کے بغیر آئین کی موجودگی پائی جاتی ہے۔اس فہرست میں برطانیہ کا نام سب سے نمایاں ہے۔موجودہ آئین پاکستان،1973 میں وجودمیں آیا- یہ آئینی دستاویزپاکستان کےقانون، سیاست،ثقافت اور پورے ریاستی نظام کی رہنمائی کرتی ہے اور اداروں سمیت شہریوں کے بنیادی حقوق، احکامات اور فرائض کو بیان کرتی ہے۔پاکستان کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ملک کی اپوزیشن جماعتوں کی مدد سے تیار کیا۔جسے 10 اپریل 1973 کو پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر منظور کیا جبکہ 14 اگست 1973 کو اس کی توثیق کی گئی۔اس آئین نے طے کیا کہ ملک کو پارلیمانی نظام حکومت کے تحت چلایا جائے گا جبکہ صدر ریاست کے اتحاد کی نمائندگی کرنے والے سربراہ مملکت کے طور پر فرائض انجام دیں گے۔آئین کے پہلے چھ باب سیاسی نظام کو وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام کے طور پر بیان کرتے ہیں اور اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتے ہیں۔جبکہ آئین میں قرآن و سنت میں موجود اسلامی احکام کی تعمیل کے لیئے کئی قانونی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔آئین میں طے ہے کہ پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون نہیں بناسکتی جو آئین کے منافی یا اس کیخلاف ہو۔تاہم آئین میں دو تہائی اکثریت سے دونوں ایوانوں یعنی ایوان بالا (سینیٹ) اور ایوان زیریں (قومی اسمبلی) سے ترمیم کی جا سکتی ہے۔یہ بھی یاد رہے جیسے جیسے وقت گزرا، بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ 73 کے آئین میں بہت سی ترامیم کی گئیں۔تکنیکی طورپر آئین میں 27 ترامیم کی گئی ہیں۔تاہم ان میں تین ترامیم ایسی ہیں جو پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہو سکیں۔پاکستان کا موجودہ نافذ شدہ آئین دنیا کا ساتواں طویل ترین آئین ہے جس میں 56 ,240 الفاظ ہیں۔26 ویں ترمیم کے بعد ان دنوں 27 ویں آئینی ترمیم کا بہت چرچا ہے۔27 ویں ترمیم کی بازگشت ہر جگہ سنائی دے رہی ہے۔مجوزہ ترمیم کے اہم نکات میں سرفہرست وفاقی آئینی عدالت کا قیام، آرٹیکل (3) کے تحت سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے اختیار کا خاتمہ، صدر مملکت کو فوجداری مقدمات سے تاحیات استثنی اور آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کے نئے منصب کی ذمہ داری سونپنا شامل ہے۔پاکستان نے ماضی میں کئی بار،فوجی آمروں کو آئین منسوخ یا معطل کرتے دیکھا ہے۔جنرل ضیا الحق کو تو یہ تک کہتے سنا گیا کہ آئین محض کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں۔جسے وہ کسی بھی وقت پھاڑ سکتے ہیں۔مرحوم کا یہ بیان ایک بڑے تکبر کا عکاس ہے۔تاہم جنرل ضیاالحق نے 1973 کے جس آئین کو معطل کیا،1988 میں ایک فضائی حادثے میں ان کے جاں بحق ہونے کے بعد کچھ ترامیم کے ساتھ اس آئین کو دوبارہ بحال کر دیا گیا۔
جنرل پرویز مشرف کا دور آیا تو انہوں نے بھی آئین کو ایک نہیں، دو بار معطل کیا، تاہم دوسری بار آئین کی معطلی پر ان کے اس اقدام کو عدالت سے آئینی تحفظ نہیں مل سکا۔ دوسری بار آئین کی معطلی کے بعد جنرل صاحب کچھ ماہ تک اقتدار میں رہے- بعدازاں عدالت نے 73 کے آئین کو اس کی اصل حالت میں بحال کر دیا۔26 ویں ترمیم کے بعد اب 27 ویں ترمیم نے ملک کےطول و عرض میں ہنگامہ بپا کررکھا ہے۔سول سوسائٹی سمیت بہت سی وکلا تنظیمیں اس پر احتجاج کر رہی ہیں۔حکومت کی متحارب سیاسی جماعتوں کو تو موقع چاہیے تھا وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میدان میں نکل آئی ہیں اور 27 ویں ترمیم پر ان کا بھی احتجاج جاری ہے- پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے حالیہ دنوں میں اپنا یہ احتجاج اسلام آباد میں ریکارڈ کرایا- تاہم ان کے ساتھ زیادہ لوگ نہیں آئے۔میڈیا کوریج کے باعث اس احتجاج کو تھوڑی بہت اہمیت ملی لیکن اس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ حکومت ہل کر رہ جاتی۔27 ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں اگرچہ وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی گئی ہے اور اس نے کیسوں کی سماعت بھی شروع کر دی ہے تاہم اس آئینی عدالت کے بننے سے سپریم کورٹ کے لامحدود اختیارات اب ختم ہو کر رہ گئے ہیں اور سارے اختیارات سپریم کورٹ سے وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکے ہیں۔اپوزیشن کا اعتراض ہے سیاسی فیصلے کرتے وقت وفاقی آئینی عدالت غیرجانبدار نہیں ہو گی کیونکہ اسے سرکار کے ماتحت کردیاگیا ہےلہذا آئینی عدالت کےوہی فیصلے ہوں گے جو سرکار چاہے گی۔بہت سا ابہام ہے۔لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر وکلا تنظیموں نے بھی 27 ویں آئینی ترمیم پر ہفتہ واراحتجاج کا اعلان کیا ہے۔یہ احتجاج کب تک چلے گا،یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا۔احتجاج میں کتنی قوت ہو گی،کیا یہ احتجاج وہ نتائج لا سکے گا جس کی امید وکلا تنظیمیں لگائے بیٹھی ہیں؟حکومت اپنی جگہ بہت مطمئن اور پر سکون ہے اس کا کہنا ہے کسی احتجاج سے کچھ نہیں ہو گا۔وزرا کے اس موقف میں وزن ہے کہ آئین میں ترمیم قومی اسمبلی اور سینیٹ کااستحقاق ہے جبکہ یہاں ہونے والی کارروائی کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیاجاسکتا۔سینیٹ اور قومی اسمبلی کا استحقاق ہے کہ وہ کوئی بھی ترمیم لا سکتی ہے۔جو کچھ ہوا ضابطے اور مروجہ آئین کے تحت ہوا لہذا 27 ویں آئینی ترمیم کا یہ عمل غلط کیسے ہو سکتا ہے-وکلا تنظیموں اور اپوزین جماعتوں کی جانب سے اگرچہ احتجاج کے لیے کہا گیا ہے۔اس ضمن میں لیڈران کے بیان بھی آرہے ہیں لیکن دیکھنا اب یہ ہےکہ ان کے احتجاج میں کتنا دم ہو گا لوگ اگر زیادہ تعداد میں سڑکوں پر نہ آئے اور اس احتجاج نے اپنا رنگ نہ جمایا تو 27 ویں آئینی ترمیم یونہی اسی طرح برقرار رہے گی۔قومی اسمبلی اور سینیٹ نے آئین ہی کے تحت اپنا آئینی کردار نبھایا،اس میں کیا غلط کیا؟ کچھ غلط کیا تو کوئی ہمیں بھی سمجھا دے۔