سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ امریکہ کئی حوالوں سے بہت اہم اور یادگار رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے انکا غیر معمولی والہانہ استقبال کیا گیا۔ وائٹ ہاوس کے ساوتھ لان میں ولی عہد کو ویلکم کیا گیا اور انہیں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ علاوہ ازیں گھوڑ سوار محافظوں کی موجودگی اور ایف 35طیاروں کا فضا میں فلائی اوور کا اہتمام ایسے اقدامات تھے جو کسی خصوصی سٹیٹ گیسٹ کو آنر دینے کے لئے اٹھائے جاتے ہیں ۔ شہزادہ محمد بن سلمان کو سربراہان مملکت سے بڑھ کر پروٹوکول دینا یہ ظاہر کر رہا تھا کہ امریکی صدر اپنے مہمان کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ولی عہد کے لئے بلیک ٹائی ڈنر کا بھی خصوصی اہتمام کیا، یہ ڈنر بھی صرف کسی سربراہ مملکت کے اعزاز میں ہوتا ہے۔ صدر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان کیلئے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا اور انہیں خصوصی بلکہ بہت زیادہ خصوصی مہمان کہہ کر مخاطب کیا۔ سعودی ولی عہد کی زبردست پذیرائی کی ایک بڑی وجہ شہزادہ محمد بن سلمان کی طاقتور کرشماتی شخصیت ہے۔ صدر ٹرمپ خود بھی پاور فل پرسنیلٹی ہیں یوں طاقت اور طاقتور کیساتھ انکا قدرتی میلان ہے۔ پاکستانی لیڈرشپ خاص طور پر فیلڈ مارشل صاحب انکے فیورٹ ہی اس لئے بنے ہیں کیونکہ انہوں نے بھارت کو دھول چٹائی ہے۔ اگر مودی ہماری درگت بناتاتو ٹرمپ جیسا آدمی مودی مودی کر رہا ہوتا، ابھی وہ وزیراعظم مودی کو چھیڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر ٹرمپ کے درمیان اچھی کیمسٹری کی وجہ دونوں شخصیات کا ایک جیسا ہونا ہے۔ اپنے پہلے عہد صدارت میں بھی سعودی ولی عہد کیساتھ انکے روابط بہت اچھے تھے، سعودی عرب کی اہمیت کے پیش نظر جب انہوں نے پہلا بیرونی دورہ 2017 میں سعودی عرب کا کیا تھا تو اس وقت سعودی ولی عہد کیساتھ انکا خصوصی تعلق بن گیا تھا، اب تو یہ تعلق نئی بلندیوں کو چھو رہا یے۔ صدر ٹرمپ نے جب دوسری مرتبہ اقتدار سنبھالا ہے تو مشرق وسطی کا دورہ انکی پہلی ترجیح بنا کیونکہ وہ امریکہ کیلئے بڑی انوسٹمنٹ لانا چاہتے تھے جس میں وہ کامیاب رہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے انکی توقع سے بڑھ کر سعودی انوسٹمنٹ کا اعلان کیا۔ صدر ٹرمپ بڑے فخر سے آج تک اس انوسٹمنٹ کا ذکر کرتے ہیں۔ اپنے دورہ امریکہ میں شہزادہ محمد بن سلمان نے اس انوسٹمنٹ کی حد بڑھا کر انہیں مزید خوش کر دیا ہے۔
سعودی عرب اب امریکہ میں 600 ارب ڈالرکی بجائے ایک ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ سرمایہ کاری ڈیفنس کے علاوہ نیوکلیئر انرجی اور آرٹیفشل انٹیلیجنس وغیرہ کی مد میں ہو گی۔ سعودی عرب جیسے ملک کا جو دنیا میں تیل کے سب سے زیادہ ذخائر رکھتا ہے کا رینیوایبل انرجی میں انوسٹمنٹ کرنا شہزادہ محمد بن سلمان کے اعلی ویژن کا ایک مظہر ہے۔ یہ کریڈٹ سعودی ولی عہد کو جاتا ہے کہ انہوں نے سعودی معیشت کو آئل پر انحصار کرنے والی معیشت سے ہٹاکر تیزی سےترقی کرتی ہوئی ایک ایسی پروگریسو معیشت کی بنیاد رکھی ہے جو تیل کی محتاجی سے نکل آئی ہے اور خام تیل کے بغیر بھی اپنے پاوں پر کھڑی رہ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ کوشش ایک ایسے وقت میں کی ہے جب تیل کے ذخائر اور پیداوار کے لحاظ سے سب اچھا چل رہا ہے لیکن ایک ویژنری رہنما کے طور پر شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی معیشت کو نئے خطوط اور بنیادوں پر استوار کرنے کی جو منصوبہ بندی کی ہے کل کا مورخ انہیں جدید سعودی عرب کا معمار اور نجات دہندہ کے طور پر یاد کرے گا۔ اپنی غیر معمولی بصیرت کی بدولت انہوں نے ویژن 2030 کا تصور پیش کیا اور اب وہ مسلسل اس خاکے میں رنگ بھرنےمیں مصروف ہیں۔ خوش نصیب قوموں میں ایسے رہنما ابھرتے ہیں جو کسی قوم کو نئی زندگی دے کرجاتے ہیں۔ عصر حاضر میں عوامی جمہوریہ چین کی بے مثال ترقی کے پیچھے ڈینگ ژویاپنگ کی بصیرت کارفرما ہے، یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو ایک نئی زندگی سے نوازا۔ اگر یہ چین کی معیشت کو نئے خطوط پر استوار نہ کرتے اور چینی خصوصیات کے ساتھ سوشلسٹ اکانومی کی بنیادیں کھڑی نہ کرتے تو خاکم بدہن چین بھی کچھ عرصے بعد سوویت یونین جیسے حشر سے دوچار ہو سکتا تھا۔ چین نے گزشتہ 40 سالوں میں ترقی کی معراج کو چھوا ہے تو اسکی وجہ ڈینگ ژیاوپنگ کا ویژن تھا۔ میں نے ڈینگ ژیاپنگ کی مثال اس لیے دی ہے کہ سعودی ولی عہد اور ان کی اپروچ میں مماثلت ہے۔
ڈینگ ژیاپنگ نے اس وقت مارکیٹ اکانومی کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے چین میں اصلاحات کیں جب چین کمیونزم کی راہ پر اندھا دھند گامزن تھا۔ انہوں نے لہروں کا رخ پھیرا اور بروقت ایک ایسی معیشت کی بنیاد رکھی جو کمیونزم اور کیپٹل ازم کا ملغوبہ تھی۔ کسان کو حق ملکیت نہ ملتا اور اسکو پیداوار میں اپنا انفرادی فائدہ دکھائی نہ دیتا تو وہ کیونکر صبح شام کھیتوں میں ہلکان ہوتا۔ ڈینگ ژیاپنگ نے اس فطری جذبے کو سمجھا اور پیپلز کمیونز کو ختم کر دیا۔ انہوں نے سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی کی بنیاد رکھی جو چینی خصوصیات کیساتھ سوشلزم کا نیا تصور تھا۔ جب نئے اکنامک زون بنائے گئے تو ملٹی نیشنل کمپنیاں نئی معاشی پالیسی اور سستی لیبر کی وجہ سے چین میں بھاری سرمایہ کاری کرنے پر مجبور ہوئیں۔ یہ باتیں عرض کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ڈینگ ژیاپنگ کی بصیرت کارفرما نہ ہوتی تو شاید آج چین کا جو عروج ہم دیکھ رہے ہیں یہ موجود نہ ہوتا۔ آج سعودی ولی عہد بھی اسی بصیرت کے تحت آگے بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ سعودی معیشت کو نئے رخ پر ڈالنے اور اسے بام عروج پر پہنچانے کے حوالے سے سعودی ولی عہد کا کردار بھی ڈینگ ژیاپنگ جیسا نظر آرہا ہے۔ انہوں نے سعودی معیشت کو نئی بنیادیں فراہم کی ہیں۔ اپنے دورہ امریکہ میں انہوں نے اس ضمن میں جو کامیابی حاصل کی ہے وہ امریکہ کیساتھ سول نیوکلیئر انرجی کا تعاون ہے۔ امریکی انتظامیہ کافی عرصے سے اس معاملے میں ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی اور اس کو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کر رہی تھی لیکن اب ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کیساتھ سول نیوکلیئر تعاون پرراضی ہو گئی ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کئےبغیر یہ تعاون حاصل کرنا سعودی عرب کی بڑی اچیومنٹ ہے۔ آرٹیفشل انٹیلی جنس کےحوالے سے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان جو میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ طے پایا ہے اس کے مطابق سعودی عرب کو اب امریکہ کے آرٹیفشل انٹیلی جنس سسٹم تک رسائی ملے گی۔ سعودی عرب اپنی سیکورٹی کے بارے میں ہمیشہ فکر مند رہا ہے، اس حوالے سے بھی شہزادہ محمد بن سلمان نے غیرمعمولی کامیابی سمیٹی ہے، امریکہ نے سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک دفاعی معاہدہ کرتے ہوئے اسے نان نیٹو اتحادی کا درجہ دے دیا یے۔ امریکہ سے ایف 35 طیاروں کاحصول بھی انکی بڑی کامیابی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے علاوہ سعودی عرب واحد عرب ملک ہے جسکے فضائی بیڑے میں ایف 35طیارے شامل ہوں گے۔ ان طیاروں کی فروخت کے حوالے سے صدر ٹرمپ کو امریکہ کے اندر سے کافی مخالفت کا سامنا ہے، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طیارے سعودی عرب کو دینے کی وجہ سے یہ ٹیکنالوجی چین تک پہنچ سکتی ہے،لیکن تمام تر مخالفت کے باوجود یہ طیارے سعودی عرب کو مل رہے ہیں تو اس کا سبب صدر ٹرمپ اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان گہرا تعلق ہے۔سعودی ولی عہد کے دورے کی ایک اور اہم بات ابراہم اکارڈ کے حوالے سے انکا موقف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اسرائیل کیساتھ اچھے روابط رکھنا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلےدو ریاستی حل کے تحت فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ سعودی عرب وہ ملک ہے جس نے کبھی ایسی پالیسی اختیار نہیں کی جو امت مسلمہ میں اس کے کردار کو خراب کرنےکا باعث بنے چنانچہ فلسطینی ریاست کے ضمن شہزادہ محمد بن سلمان نے جو موقف اختیار کیا اس سے عالم اسلام میں سعودی عرب کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔