جب زندگی کا ماحول ہی سیاست کا میدان بن جائے۔انسانی تاریخ میں ہمیشہ فوجی تنازعات، معاشی ابتری اور سیاسی سازشوں کو ہی سب سے بڑا خطرہ سمجھا گیا ہے مگر آج اکیسویں صدی میں، ہمارے سر پر ایک ایسا سایہ منڈلا رہا ہے جو خاموش ہے مگر اس کا حملہ سب سے زیادہ کاری ہے۔ میں بات کر رہا ہوں ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کی جو پاکستان کے سیاسی، سماجی اور معاشی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ ہم اکثر ماحولیات کو ایک ’’ترقیاتی مسئلہ‘‘ یا ایک ’’شہری مسئلہ‘‘ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے پاکستان کو موسمیاتی خطرے کے لحاظ سے دنیا کے سرِ فہرست دس ممالک میں شمار کرتے ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں، یہ ہمارے بڑھتے ہوئے سیلاب، قحط، اسموگ سے بھرے شہروں اور پینے کے لیے آلودہ پانی کی صورت میں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ آج ماحولیاتی انحطاط صرف صحت کا نہیں بلکہ قومی سلامتی، سماجی انصاف اور سیاسی استحکام کا بنیادی چیلنج بن چکا ہے۔ ہمارے دریا، ہماری ہوائیں اور ہماری زمین تینوں مسلسل آلودگی کے دباؤ تلے دبتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ فضائی آلودگی نے لاہور، کراچی اور فیصل آباد جیسے شہروں کو گیس چیمبر بنا دیا ہے۔ آبی آلودگی صنعتی فضلہ اور بغیر ٹریٹمنٹ کے گٹر کے پانی کے دریاؤں اور زیرِ زمین پانی میں شامل ہونے سے جنم لے رہی ہے جبکہ پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال زمینی زرخیزی کو ختم کر رہا ہے۔ جب بنیادی وسائل زہر آلود ہو جائیں تو ایک ریاست کی مضبوطی کا دعویٰ جھوٹا ہو جاتا ہے۔ اس کالم کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ یہ آلودگی کس طرح ملک کے سیاسی، سماجی اور معاشی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے اور اس کے سدباب کے لیے حکومتی سطح پر ایک انقلابی اور ہنگامی حکمت عملی کیوں ضروری ہے۔
ماحولیاتی انحطاط کے سیاسی نقصانات ملک بھر میں کیا ہوسکتے ہیں؟ ماحولیاتی تباہی کا سب سے پہلا شکار ریاست کا نظامِ حکمرانی اور سیاسی استحکام بنتا ہے۔ ملک میں ماحولیاتی قوانین (جیسے کہ ای پی اے قوانین) موجود ہیں مگر ان کا نفاذ ایک مذاق بن چکا ہے۔ اکثر صنعتیں، بالخصوص اینٹوں کے بھٹے اور پرانے کارخانے، سیاسی اثر و رسوخ اور کرپشن کے ذریعے ماحولیاتی معیارات کو بائی پاس کر جاتے ہیں۔ جب صنعتوں کو کچرا ندیوں میں بہانے یا فضا میں زہریلا دھواں خارج کرنے کی کھلی چھوٹ ہو تو یہ ریاست کی رِٹ کی ناکامی کا کھلا اعلان ہوتا ہے۔ یہ کمزور گورننس ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو ختم کر دیتی ہے اور قانون کی بالا دستی کا تصور دھندلا جاتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی نے پانی اور زرعی وسائل کی کمی کو شدید کر دیا ہے۔ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور پھر دریاؤں میں خشک سالی کا آنا، پانی کی تقسیم کے حوالے سے صوبوں کے درمیان نئے تنازعات کو جنم دے رہا ہے۔ سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کا مسئلہ ہو یا بلوچستان کے دیہی علاقوں میں شدید خشک سالی، یہ مسائل صرف جغرافیائی نہیں رہے بلکہ مکمل طور پر سیاسی بن چکے ہیں۔ وسائل کی اس کشمکش کا براہ راست اثر سیاسی استحکام پر پڑتا ہے اور قومی یکجہتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ جب زراعت کا نظام تباہ ہوتا ہے یا سیلاب آتے ہیں تو لاکھوں افراد متاثرہ دیہی علاقوں سے کراچی، لاہور اور پشاور جیسے بڑے شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس بڑے پیمانے پر ماحولیاتی مہاجرت (Climate Migration) کے نتیجے میں شہروں پر آبادی کا غیر معمولی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ شہروں میں بنیادی ڈھانچہ، رہائش اور ملازمتیں ناکافی ہو جاتی ہیں، جس سے جرائم میں اضافہ، لاء اینڈ آرڈر کے مسائل اور سماجی تفریق گہری ہو جاتی ہے۔ یہ سب بالآخر اندرونی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جاتے ہیں، جس سے ریاست کا دفاعی اور ترقیاتی بجٹ متاثر ہوتا ہے۔ سیاسی نقصان کے برعکس، ماحولیاتی آلودگی کے سماجی نقصانات زیادہ براہِ راست اور انسانی زندگی کے لیے تباہ کن ہیں۔
فضائی اور آبی آلودگی نے پاکستان کو ایک ’’بیمار قوم‘‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ? صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق فضائی آلودگی ملک میں قبل از وقت اموات کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ لاہور کا اسموگ ہو یا کراچی کے آلودہ دریا، ان کے سبب پھیپھڑوں کے امراض، دمہ، کینسر اور جلدی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ خاص طور پر نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں اضافے کی بڑی وجہ آلودہ ماحول ہے۔ ان بیماریوں کے علاج پر قوم کا سالانہ بڑا معاشی حصہ صرف ہو جاتا ہے جو اگر تعلیم اور ترقی پر خرچ ہوتا تو ملک کی تقدیر بدل سکتی تھی۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر موسمیاتی تبدیلی نے زراعت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ، بے وقت بارشیں اور خشک سالی کے باعث گندم، کپاس اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار میں مسلسل کمی نظر آنے لگی ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں یہ کمی براہ راست خوراک کی عدم تحفظ (Food Insecurity) اور مہنگائی کو جنم دیتی ہے۔ زرعی شعبے سے وابستہ لاکھوں چھوٹے کسان اور دیہی مزدور بے روزگار ہو کر غربت کے نئے جال میں پھنس جاتے ہیں، جس سے دیہی علاقوں میں سماجی بے چینی بڑھتی ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ماحولیاتی انحطاط دراصل غربت میں اضافے کا ایک شیطانی چکر ہے۔ ماحولیاتی خطرات کا بوجھ کبھی بھی مساوی نہیں ہوتا۔ یہ ہمیشہ غریب اور کمزور طبقات پر زیادہ پڑتا ہے۔ ملک کے امیر ترین افراد صاف پانی اور ائیر پیوریفائر کا استعمال کرسکتے ہیں جبکہ کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں کے باسی گندے پانی، زہریلی ہوا اور سیلاب کی تباہ کاریوں کا براہ راست شکار ہوتے ہیں۔
(جاری ہے )