(گزشتہ سے پیوستہ)
یہی وہ نادار طبقہ ہے جو علاج یا محفوظ مقام پر ہجرت کرنے کے وسائل نہیں رکھتا۔شدید اسموگ کے دوران تعلیمی اداروں کا بار بار بند ہونا ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ بندشیں بچوں کی تعلیم کو مستقل طور پر نقصان پہنچاتی ہیں۔ آلودہ ماحول نہ صرف جسمانی صحت بلکہ بچوں کی ذہنی اور ادراکی (Cognitive) صلاحیتوں پر بھی منفی اثر ڈالتا نظر انے لگا ہے۔ جب ایک قوم کی آئندہ نسل کی تعلیم اور صحت خطرے میں ہو تو قومی ترقی کا کوئی بھی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ان تباہ کن سیاسی و سماجی نقصانات کے پیش نظر، اب بھی وقت ہے کہ حکومت محض روایتی، کاغذی پالیسیوں سے نکل کر انقلابی اور ہنگامی اقدامات کرے اور حکومت کو فوری طور پر ماحولیاتی مسائل کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دینا چاہیے اور باقاعدہ ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کرنی چاہیے۔ ایک ایسی اعلیٰ سطح کی کونسل قائم کی جائے جس میں وزیرِ اعظم، وزیرِ خزانہ، وزیرِ داخلہ اور دیگر متعلقہ وزراء شامل ہوں اور یہ کونسل براہِ راست ماحولیاتی پالیسیوں کے نفاذ کی نگرانی کرے۔ یہ مسئلہ صرف محکمہ ماحولیات کے حوالے کرنے سے حل نہیں ہوگا۔
ملک بھر میں پلاسٹک کے یک طرفہ استعمال پر مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے اور اس پابندی پر عمل نہ کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔ صنعتوں کے لیے یہ لازمی قرار دیا جائے کہ وہ اپنے فضلے کو مکمل طور پر ٹریٹ کریں اور کچرے سے توانائی (Waste to Energy) کے منصوبوں کو سرکاری سطح پر ترجیح دی جائے۔ ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی صنعتوں کے لیے سخت ترین مالی اور تعزیری اقدامات کا نفاذ کیا جائے جو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد ہو۔ ملک میں شمسی اور بادی توانائی (Solar and Wind Energy) کے بڑے منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر سرمایہ کاری کی جائے۔ تمام سرکاری اور صنعتی شعبوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ سستے قرضوں کے ذریعے اپنی توانائی کی ضروریات کو فوسل فیولز سے صاف توانائی پر منتقل کریں اور ساتھ ہی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی کے اہداف کو تیزی سے حاصل کیا جائے اور بڑے شہروں کی پبلک ٹرانسپورٹ کو تیزی سے الیکٹرک بسوں پر منتقل کیا جائے تاکہ فضائی آلودگی میں کمی لائی جاسکے۔ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر جدید ٹیکنالوجی (جیسے ڈرپ ایریگیشن اور واٹر ری سائیکلنگ) کو اپنایا جائے اور اس ضمن میں کسانوں کو سبسڈی دی جائے۔ زیرِ زمین پانی کی بڑھتی ہوئی کھپت پر قابو پایا جائے اور Rain Water Harvesting کو فروغ دیا جائے۔ ماحولیاتی ذمہ داری، صفائی ستھرائی اور قدرتی وسائل کے احترام کی تعلیم کو اسکولوں کے نصاب میں ایک لازمی مضمون کے طور پر شامل کیا جائے۔ بڑے پیمانے پر شہری جنگلات (Urban Forests) کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ شہروں میں آلودگی کے اثرات کو کم کیا جاسکے۔ شجر کاری مہمات کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلایا جائے اور صرف تعداد نہیں بلکہ درختوں کی بقاء کی شرح پر توجہ دی جائے۔ ماحولیاتی آلودگی کے سیاسی، سماجی اور معاشی نقصانات اب کسی دلیل کے محتاج نہیں رہے۔ یہ ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والا ایک دیرینہ بم ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک جہنم تیار کر رہا ہے۔ اگر ہم آج بھی صرف کاغذی کارروائی، وعدوں اور سیمینارز تک محدود رہے تو اس کو نظر انداز کرنے کی قیمت اقتصادی تباہی، سماجی بے چینی اور سیاسی انتشار کی صورت میں چکانی پڑے گی۔ حکومت، صنعتوں اور عام شہری سب کو یہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔ یہ محض محکمہ ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ وزارتِ خزانہ، داخلہ اور منصوبہ بندی کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ ہمارے دریا، ہماری ہوائیں اور ہماری مٹی ہمارے بچوں کی امانت ہیں ہمارے پاس۔ ان کا تحفظ دراصل قوم کا تحفظ ہے۔ ہمیں اپنے ارد گرد کی دنیا کو سنوارنا ہوگا تاکہ ہماری سیاست اور معاشرت سنور سکے۔ وقت تیزی سے نکل رہا ہے اور عمل کا بہترین وقت ’’ابھی‘‘ ہے۔
امریکا کے معروف ماحولیاتی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سن بیس پچاس تک پاکستان خطرناک ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہوتا رہے گا۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں ڈاکٹر ارم ستار نے کہا کہ سن بیس پچاس تک ہمیں مزید سیلاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کے علاوہ خشک سالی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہماری صحت اور غذا کے معیار پر بہت فرق پڑے گا، ہر چیز میں مسائل کا سامنا ہوگا۔ جیو نیوز کے مطابق بوسٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر عادل نجم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں نے تقریریں نہیں سننی، اس نے جو کرنا ہے وہ کرے گا اور اس سے ہر شخص متاثر ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جسے رواں برس بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، جون تا ستمبر سن بیس پچیس کے سیلاب سے معیشت کو آٹھ سو بائیس ارب روپے سے زائد نقصان ہوا۔ اس کے باوجود میں ہم خواب غفلت میں محو ہیں اور اس طرف ہمیں توجہ ہی نظر نہیں آرہی ہے۔