Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

کشمیر کا قلم اب خون لکھ رہا ہے

کشمیر میں سانس لینا بھی غداری ہے، سچ لکھنا تو موت کو دعوت دینے کے مترادف ، خود کو گولیوں کی باڑ کے مقابل کرنے کی بات ۔
20 نومبر کی تاریک صبح، جب جموں شہر ابھی نیند سے جاگا بھی نہ تھا، بھارتی فوج کے بھاری بوٹوں کی دھمک نے کشمیر ٹائمز کے دفتر کو روند ڈالا۔ دروازے ٹوٹے، فائلیں اچھالی گئیں، کمپیوٹر اٹھا لیے گئے۔ پھر وہی پرانا، گھسا پٹا ڈرامہ شروع ہوا: اے کے 47 کی گولیاں ملیں، گرینیڈ کا لیور ملا، پستول کے کارتوس ملے! ارے بھائی، دفتر اخبار کا تھا یا اسلحہ خانہ؟ یا پھر وہی پرانا کھیل کہ جہاں سچ لکھا جاتا ہو، وہاں ہتھیارروں کے بودے الزامات کےپودے لگا دیے جائیں؟
انورادھا بھسین۔ وہ عورت جس کا قلم دہائیوں سے کشمیر کی چیخیں، کشمیر کے زخم، کشمیر کی ماں کی آہیں، کشمیر کے باپ کا درد، کشمیر کے بچوں کی پکار دنیا تک پہنچاتا رہا ہے، آج اس کے نام ایف آئی آر ہے۔ الزام؟ ملک دشمنی۔
یعنی جو پیلٹ گن سے اندھے کیے گئے نوجوان کی تصویر چھاپے، وہ دیش دشمن۔
جو گلیوں میں بہتا خون دکھائے، وہ دہشت گرد۔
جو فوج کے ظلم لکھے، وہ غدار۔
جو ماں کی گود سے بچھڑے بچے کی آواز بنے، وہ ملک دشمن۔
بس اتنا ہی فرق رہ گیا ہے اب سچ اور غداری میں۔
کشمیر ٹائمز” کوئی عام اخبار نہیں، یہ کشمیر کی تاریخ کا زندہ گواہ ہے۔ 1947 سے لے کر آج تک اس نے ہر دور کے ظلم کو قرطاس پر اتارا ۔ اس کی فائلوں میں خون کے دھبے نہیں، آنسوؤں کے نشان ہیں۔ اس کی دیواروں میں گولیوں کے نشان نہیں، بھارتی فسطائیت کی گواہی رقم ہے ۔ آج اسی دفتر میں بھارتی ایجنسیاں گرنیڈ ڈھونڈ رہی تھیں۔
واہ رے ظلم! جس کمرے میں سچ لکھا جاتا تھا، وہاں اب جھوٹ کی بو پھیلائی جا رہی ہے۔
جس میز پر قلم رکھا جاتا تھا، اس پر اب ہتھیار رکھ کر فوٹو کھینچی جا رہی ہے۔
یہ پہلا حملہ نہیں، اور آخری تو قطعاًبھی نہیں ہوگا۔
پہلے ڈاکٹروں کو فریدآباد اور لال قلعہ کے جھوٹے ڈراموں کی آڑ میں پانہ زنجیرکیا گیا۔ اب صحافیوں کا نمبر ہے۔اگلی باری شاید اس اسکول ٹیچر کی ہو،جو بچوں کو کشمیر کی حقیقی تاریخ پڑھاتا ہے۔ پھر اس وکیل کی جو عدالت میں کشمیریوں کے حقوق مانگتا ہے۔ پھر اس شاعر کی جو آزادی کا گیت گاتا ہے۔ پھر اس طالب علم کی جس کے دل کی کتاب پر لکھا ہے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘۔
ہندوتوا کا یہ عفریت اب ایک ایک کر کے کشمیر کے ہر زندہ ضمیر، زندہ دل اور حریت فکر کو کچل رہا ہے۔دل روتا ہے، خون کے آنسو روتا ہے جب سوچتا ہوں کہ کشمیر کی ماں آج بھی اپنے بچے کے جنازے کو سینے سے لگائے بیٹھی ہے۔ وہ باپ جو اپنے بیٹے کی لاش کو کندھا دے کر قبرستان جا رہا ہے، اس کے قدم نہیں ڈگمگاتے۔ وہ بہن جو بھائی کی شہادت پر روتی نہیں، فخر کرتی ہے۔ وہ بچہ جو پتھر اٹھاتا ہے، اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، آزادی کا جنون ہے۔
یہ کشمیر ہے، یہاں موت بھی جشن بن جاتی ہے جب وہ آزادی کے نام پر آتی ہے۔
التجا مفتی کی آواز کانپ رہی تھی جب انہوں نے کہا: یہ صحافی نہیں، کشمیر کا ضمیر ہے جسے زنجیروں میں باندھا جا رہا ہے۔
یہ قلم نہیں، کشمیر کی رگِ جان ہے جسے کاٹا جا رہا ہے۔”مگر کشمیری ڈرتے نہیں۔ حریت کے رہنما روتے نہیں، للکارتے ہیں،وہ کہتے ہیں، ہماری جائیدادیں چھین لو، گھر جلا دو، جسموں پر گولیاں برسا دو، مگر ہماری آواز نہیں چھین سکتے۔ ہمارے گھر تباہ کر دو، مگر ہمارا حوصلہ نہیں توڑ سکتے۔
ہماری نسلیں مار دو، مگر ہماری جدوجہد نہیں مار سکتے۔ پاکستان ہمارے ساتھ کھڑا ہے، سات دہائیوں سے کھڑا ہے، اور قیامت تک کھڑا رہے گا، ہم مر جائیں گے، ہمارے بچے اٹھیں گے، ہمارے بچے مر جائیں گے، ان کے بچے اٹھیں گے،یہ سلسلہ رکنے والا نہیں،یہ خون رُکے گا نہیں، بہتا رہے گا، اور ایک دن بھارت کے ظلم کو بہا کر لے جائے گا۔”
اے دنیا والو!
اب بھی وقت ہے، آنکھیں کھولو، کان کھولو، ضمیر جگاؤ۔ یہ کوئی “اندرونی معاملہ” نہیں، یہ انسانیت کا قتل ہے۔ یہ کوئی ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ نہیں، یہ آزادی کی آواز کا گلا گھونٹنا ہے۔ کشمیر میں آج ہر قلم خون لکھ رہا ہے، ہر دیوار چیخ رہی ہے، ہر گلی میں جنازہ اٹھ رہا ہے، ہر ماں کا کلیجہ پھٹ رہا ہے، ہر بچہ شہید ہو رہا ہےاور پھر بھی کوئی نہیں بولتا۔
اے اقوام متحدہ!
تم نے قرارداداں پاس کی تھیں، تم نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دو گے، آج وہ وعدہ کہاں ہے؟ اے او آئی سی! تم مسلمانوں کے نمائندہ ہو، کشمیر کے بچوں کا خون تمہارے دامن پر بھی ہے۔ اے یورپ، اے امریکہ! تم انسانی حقوق کی باتیں کرتے ہو، کشمیر میں انسانی حقوق کی لاش پڑی ہے، اٹھاؤ اسے۔
اور پھر بھی کشمیری جھکتے نہیں۔
وہ گولیوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں:ہمارا خون بہے گا، مگر سر نہیں جھکے گا۔ ہماری آواز دبائی جا سکتی ہے، مگر مر نہیں سکتی۔ کشمیر ہمارا ہے، ہم کشمیر کے ہیں۔ یہ جدوجہد رُکے گی تب، جب کشمیر آزاد ہوگا، یا جب ہمارا آخری بچہ بھی شہید ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں