Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

نواز شریف کی تازہ ترین گفتگو

میاں نواز شریف کی جب بھی عوامی رونمائی ہوتی ہے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انکا غصہ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔آج بھی انکی بات مجھے کیوں نکالا سے شروع ہوتی ہے اور “عمران خان کو کیوں لایا” پرختم ہوتی ہے۔ تازہ ترین ارشاد فرمایا ہے کہ عمران خان کو لانے والے بھی بڑے مجرم ہیں جن سے حساب لیا جائے گا۔ میاں صاحب پنڈورا باکس کھولنے میں ماہر ہیں، وہ ہمیشہ بم کو لات مار دیتے ہیں اور پھرجو ہوتا ہے وہ انکے کنٹرول میں نہیں رہتا۔ انہوں نے اپنی گذشتہ حکومت کا خاتمہ بھی انہی باتوں سے کیا۔ وہ جنرل پرویز مشرف پر آرٹیکل 6 تو نہ لگا سکےالبتہ اپنےاوراسٹیبلشمنٹ کے درمیان ایک ایسی آگ لگانے کا اہتمام کرلیا جس نے انکا اقتدار بھسم کر کے چھوڑا۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری سے بھی کچھ نہ سیکھا جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانی دیکر بھی قومی مفاہمت کو ترجیح دی اور محاذ آرائی سے گریز کیا۔ بےنظیربھٹو نے 1988 میں بھی قومی مفاہمت کی بات کی اور اقتدار سنبھالا اور 2007 میں بھی مفاہمت اور امن کا سفید جھنڈا انکے ہاتھ میں تھا۔ صدر زرداری نےانکی شہادت کےبعد نفرت اور انتقام کی سیاست کا ڈھول نہیں پیٹابلکہ وہ کیاجو ایک قومی سیاستدان کے شایان شان ہونا چاہیے تھا۔ یہ انکا پاکستان کھپےکا نعرہ ہے جس کی بدولت وہ دو مرتبہ پاکستان کی صدارت کے منصب پر بیٹھے ہیں۔ جب کہ نواز شریف آج سیاست سے آوٹ ہوئے ہیں تو اس کی وجہ ان کی سوچ ہے جو مقتدر حلقوں کو گوارا نہیں ہے۔ نواز شریف موقع پرست سیاستدان ہیں، انہوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا اورپھر پاور پالیٹکس کو اپنا شعار بنا کر سب اصول فراموش کر دئیے۔ اس وجہ سے عوام بھی دھیرے دھیرے انہیں بھولتی جا رہی ہے۔ کبھی ووٹ بنک انکے نام کا تھا، اب یہ ووٹ بنک مقتدرحلقوں کی سپورٹ پر کھڑا ہے، یعنی مسلم لیگ ن گذشتہ 37 سالوں میں دائرے کا سفرطےکر کے آج دوبارہ اسی جگہ آن پہنچی ہے جہاں وہ 1988 میں کھڑی تھی۔ آج بھی مسلم لیگ ن کا اسٹیٹس اسٹیبلشمنٹ کے سہارے الیکشن لڑنے والی جماعت کا رہ گیا ہے۔ میاں نوازشریف اپنے آدرشوں پرقائم رہتےتوانکاووٹ بنک قائم رہتا۔ 2022 میں جونہی اقتدارکی خاطر انہوں نےاپنےاصول چھوڑے ووٹ بنک بھی ساتھ ہی تحلیل ہو گیا۔ آج حالت یہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کے بائیکاٹ کے بعد ووٹرٹرن آوٹ 20 فیصد سےکم رہا ہے۔ فیصل آباد کا ایک انتخابی حلقہ، جہاں سے ن لیگ کے امیدوار جیتے ہیں، ایسا ہے جس میں صرف 13 فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ ایسے انتخاب کو کالعدم قرار دے ڈالے، یہ کیا الیکشن ہے اور کیسی جمہوریت ہے؟ حیرت ہےمسلم لیگ ن اس طرح کے ٹرن آوٹ میں اپنی فتح کا اعلان کر رہی ہے۔ نواز شریف اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے اور ہر ایسی سیٹ پر دوبارہ انتخاب کی بات کرتے جہاں ووٹر ٹرن آوٹ 50 فیصد سے کم رہا ہےلیکن نواز شریف ایسی بات کبھی نہیں کرینگے۔ “حمیت نام ہےجس کا گئی تیمور کے گھر سے”۔ نواز شریف نے تو اس فتح کا جشن منایا ہےاور اس کامیابی کو مسلم لیگ ن پر عوام کا اعتماد قرار دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ اور عوام میں رفتہ رفتہ ایسی دوری پیدا ہو رہی ہے جو وقت گزرنے کیساتھ اور بڑھے گی۔ اس کی ایک وجہ ہے اور یہ بہت بڑی وجہ ہے، مسلم لیگ کی سیاست عوامی احساسات سے دور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ جب نواز شریف عوام میں مقبول تھے تو اس وقت مسلم لیگ کی سیاست عوامی ترجیحات کے گرد گھومتی تھی۔
نواز شریف کے آخری دور میں، جس کی تعریف کرتے وہ تھکتے نہیں ہیں، نواز شریف نے عوامی مفاد کو پس پشت ڈال کر ایسے منصوبوں کو اہمیت دی جو پاکستان اور عوام دونوں کیلئے وبال جان ثابت ہوئے۔ بجلی کےکارخانے لگاتے ہوئے انہوں نے ایسے معاہدے کئےجو آج تک ہمارا ناطقہ بند کئے ہوئے ہیں۔ ان معاہدوں کی شرائط پر نگاہ ڈالی جائے تو سینہ پیٹنے کو جی کرتا ہے۔ نواز شریف کی حکومت نے آئی پی پیز سے کیپیسٹی چارجز دینے کا معاہدہ کیا، اس کا مطلب ہےکہ پاکستان اگر ان سے بجلی نہیں بھی خریدتا تو پھر بھی انہیں ان کی انسٹالڈ کیپیسٹی کے مطابق ہر صورت ادائیگی کرے گا۔ یہ ادائیگیاں ڈالروں میں ہونا تھیں۔ یہ احساس نہ کیاگیا کہ قوم ان معاہدوں کاخمیازہ بھگتے گی۔ ایک طرف بھاری رقمیں ان کارخانوں کو ادا کی گئیں جنہوں نے قومی خزانے پر بوجھ ڈالا تو دوسری طرف عوام کو مہنگی بجلی کاتحفہ دیاگیا۔ بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربااضافہ نواز شریف دور کا کارنامہ ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ عوام 200 یونٹوں سے زیادہ بجلی استعمال کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اسی طرح کی کہانی چولہوں میں جلنے والی گیس کی ہے۔ نواز شریف حکومت نے قطر کیساتھ 15 سال کا معاہدہ کیا جسے عوام سے خفیہ رکھا گیا۔ اس معاہدے کی شرائط اب سامنے آنا شروع ہوئی ہیں جن کی رو سے پاکستان پابند ہےکہ اس نے ہرصورت قطر سے طے شدہ مقدار کی گیس خریدنی ہے بھلے پاکستان کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ اگر پاکستان اس گیس کو خریدنے سے انکارکرتا ہےاور گیس لیکر آنے والے جہازوں کو بین الاقوامی مارکیٹ میں یہ گیس فروخت کرنا پڑتی ہے تو اس کا نقصان پاکستان کو ادا کرنا ہو گا۔ معاہدے کی تکلیف دہ شق یہ ہےکہ اگر اس طرح کی فروخت میں نقصان کی بجائے فائدہ ہو گا تو وہ پاکستان کی بجائے قطر کا فائدہ ہو گا۔ اس معاہدے نے پاکستان کا اربوں روپے کا نقصان کیا ہے۔ مہنگی گیس کی خریداری اپنی جگہ قابل اعتراض ہےلیکن معاہدےمیں این پی ڈی (NPD) جیسی شقیں موجود ہونا یہ بتاتا ہے کہ اس وقت کے پاکستانی حکمران قومی مفاد کے برخلاف کس طرح کام کر رہے تھے۔ آج کی تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ پاکستان قطری حکومت سے مذاکرات کر رہا ہے کہ کسی طرح 2026 میں پاکستان آنے والے 24 یا 29 جہاز بین الاقوامی مارکیٹ کیطرف ڈائیورٹ کر دئیے جائیں۔ میری طرح آپ کو بھی شاید اندازہ لگانے میں دقت ہو رہی ہو کہ پاکستان کو یہ گیس خریدنی پڑ جائے تو پاکستان کا کتنا نقصان ہو۔ اوگرا نے اپنی تازہ ترین پرائس ڈیٹرمینیشن میں واضح کیا ہےکہ جہازوں کی بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈائیورژن سے پاکستان نے 48 ارب روپےبچائے ہیں۔ یعنی جو نقصان ہم نے برداشت کیا ہے وہ اس نقصان سے 48 ارب روپے کم ہےجو گیس کی خریداری کی صورت میں ہمیں اٹھانا پڑتا۔ آج کی مسلم لیگ کی حکومت اپنی سابقہ نواز شریف حکومت کی غلطی کی تلافی یوں کرنے کا سوچ رہی ہے کہ اس گیس معاہدے سے ہونے والے نقصان کا بوجھ آر این ایل جی کے کنزیومرز پر ڈال دیاجائے۔ یہ آر ایل این جی کے کنزیومرز کون ہیں؟ ان میں چار ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس ہیں، ایکسپورٹ اورینٹڈ انڈسٹری ہے اور آر ایل این جی استعمال کرنے والے نئے گھریلوصارفین ہونگے۔ مطلب ہر طرف سے بیچارہ غریب ہی پسے گا۔ جس حکومت کے کریڈٹ پر یہ سیاہ کارنامے ہوں اس کا عوامی احساسات کیساتھ کوئی واسطہ بنتا ہے۔ لوگ ایسے ہی مسلم لیگ ن سے دور نہیں ہوگئے۔ سچ یہ ہےکہ ن لیگ نےعوامی امنگوں کاخون کیا ہے، انہوں نےحکومت کےنام پرکاروبارکیا ہےیاپھراپنےبیرونی دوستوں کے کاروبار کو تحفظ دیا ہے۔ پاکستان کے مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینے والی پالیسی کا جو نتیجہ نکل سکتا ہے وہ آج مسلم لیگ ن کے سامنے ہے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ ان کالے معاہدوں پر شرمندہ ہونے کی بجائے نواز شریف صاحب اپنے دور کا ذکر کر کے اتراتے ہیں۔ ان کا دور پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ادوار میں شمار ہوتا ہے، ثبوت کے طور پر مذکورہ بالادو معاہدے حاضر ہیں۔ نوازشریف اپنا مقابلہ عمران خان سے کرتے ہیں، کیا وہ عمران خان کی حکومت کا ایک بھی ایسا معاہدہ پیش کر سکتے ہیں جس میں عمران خان نے قومی مفاد پر سمجھوتہ کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی مفاد کو اولین اہمیت دینے کے لحاظ سے عمران خان سے زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کرنے والا کوئی رہنما نہیں ہے۔دوسری طرف نواز شریف اور انکے اتحادی ہیں جنہوں نے قومی مفاد پر ہمیشہ کمپرومائز کیا اور آج بھی وہ اسی پرانی ڈگر پر چل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں