Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

فرعون اور اس کے درباری

(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی طرح فرعون بھی ا یمان لے آتا۔ مگر وہ پہلے سے زیادہ اکڑ بیٹھا جس کی وجہ محض یہ تھی کہ اگر وہ ایمان لاتا تو اس کی ساری حکومت اور اقتدار ہاتھ سے جاتا تھا اور اے موسیٰ علیہ السلام کا مطیع فرمان بن کر رہنا پڑتا تھا۔ لیکن جادو گروں کو ایسی کوئی فکر لاحق نہ تھی۔ جس سے ایک واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ اپنے جاہ‘اپنی سرداریوں اور اپنے اقتدار سے دستبرداری ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ انبیا کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے مخالف اور دشمن ہوتے ہیں۔
اس مقام پر بہت سے واقعات چھوڑ دئیے گئے ہیں۔ یہ بات بھی پوری طرح معلوم نہیں ہو سکی کہ آیا فرعون نے ان جادو گروں کو بعض مصلحتوں کی بنا پر سولی چڑھانے کی دھمکی دی تھی یا فی الواقع چڑھایا بھی تھا۔ غالب گمان یہی ہے کہ اس نے یہ کام ضرور کیا ہو گا۔ وجہ یہ ہے کہ باطل پرست جب دلائل کے میدان میں شکست کھا جاتے ہیں تو تشدد اور اوچھے ہتھیاروں پر اتر آتے ہیں۔ پھر بھی ان کا غصہ رفع نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایسے مظالم کے نتائج بسا اوقات توقع کے خلاف نکلتے ہیں اور جس کو جتنی قوت سے دبانے کی کوشش کی جائے اتنی ہی قوت سے ابھرتی اور اپنی جڑیں مضبوط بنا لیتی ہے۔ مصر میں بھی یہی کچھ ہوا۔ بے شمار سرائیلی سید نام موسیٰ علیہ السلام پر ایما ن لائے تو موجودہ فرعون نے اس اسرائیلیوں کے لئے وہی سزا تجویز کی جو اس کے باپ نے کی تھی۔ یعنی بنی اسرائیل کے نو مولود سب لڑکوں کو مار ڈالا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے اور اس طرح بتدریج ان کی نسل کو ختم کردیا جائے۔ یہ تو فرعون کو منصوبہ تھا لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ علاوہ ازیں فرعون کی قوم کے چند لوگ چوری چھپے سید نا موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آئے تھے۔
جب فرعون کے مظالم کی حد ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے سید نا موسیٰ علیہ السلام کو وحی کے ذریعہ ملک مصر سے ہجرت کر کے ملک شام کی طرف جانے کا حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر راتوں رات نہایت خفیہ طریقہ سے یہاں سے نکل جائیں اور پوری احتیاط ملحوظ رکھیں اور جب سفر شروع کریں تو جلد از جلد مصر کے ملک سے پار نکل جانے کی کوشش کریں فرعون یقینا ان کا تعاقب کرے گا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ مصر کے اندر ہی تم لوگوں کے سر پر آن پہنچے۔
فرعون کو جب موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی روانگی کا علم ہوا تو بہت سٹپٹایا۔ اس کے سارے منصوبے خاک میں مل رہے تھے اس نے ایک لشکر جرار تیار کرنے کا حکم دیا اور درباریوں سے کہنے لگا۔ یہ مٹھی بھر کمزور سی جماعت ہے اور ان لوگوں نے فرار کی راہ اختیار کر کے ہمیں خواہ مخواہ غصہ چڑھا دیا ہے لہٰذا ہمیں چاہیے کہ فوراً ان کا تعاقب کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ہمارے مسلح اور جرار لشکر کے مقابلہ میں ان بے چاروں کی حقیقت ہی کیا ہے۔
چند دنوں میں فرعون نے بنی اسرائیل کے تعاقب اور ان سے نمٹنے کے لئے ایک لشکر جرار اکٹھا کر لیا اور ان کی سرکوبی کے لئے روانہ ہو گئے۔ ان کا تو یہی خیال تھا کہ چند دنوں میں ہم انہیں گرفتار کر کے واپس لے آئیں گے اور جو مقابلہ پر آئیں گے انہیں قتل کر ڈالیں گے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ جن محلوں اور باغوں سے نکل کر وہ ان کے تعاقب میں جارہے ہیں ان محلوں اور باغوں کو دوبارہ دیکھنا بھی ان کے نصیب میں نہ ہو گا اور بنی اسرائیل کا شکار کرنے والا یہ لشکر خود موت کے ہاتھوں شکار بن جائے گا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگ مصر میں بھی رہ گئے تھے سارے کے سارے سید ناموسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ روانہ نہیں ہوئے تھے۔ جب فرعون اور اس کے جملہ اعیان سلطنت غرق ہو کر ہلاک ہو گئے تھے۔ تو ساتھ ہی آل فرعون کا اقتدار بھی ختم ہوگیا تھا اور یہی پیچھے رہنے والے بنی اسرائیل ان کے محلوں اور باغات پر قابض ہو گئے تھے۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ بنی اسرائیل مصر کے کچھ حصہ پر قابض ہوئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت میں اس عہد کی طرف اشارہ ہو۔ جب سید نا سلیمان علیہ السلام کی حکومت مصر تک پھیل گئی اور بنی اسرائیل ہی فرعونیت کے محلات اور باغات پر قابض ہوگئے تھے۔ وا للہ اعلم بالصواب۔
( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں