دو روز پہلے دنیا بھر میں خصوصی افراد کا عالمی دن منایا گیا۔ تقریبات ہوئیں، بیانات آئے، اور مختلف ممالک نے معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کا عزم دہرانے کی کوشش کی۔ مگر اس دن کے چند ہی گھنٹے بعد جب مقبوضہ کشمیر کا منظر سامنے آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ دنیا کی یہ تقاریب اس وادی کے لئے محض رسمی دکھاوا ہیں۔ یہاں معذوری کسی حادثے یا قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ریاستی پالیسی کا شاخسانہ ہے۔ یہاں لوگ کسی بیماری سے نہیں بلکہ تشدد سے معذور ہوتے ہیں۔مقبوضہ وادی کی فضا برسوں سے اس حقیقت کی گواہ ہے کہ بھارتی فورسز منظم طریقے سے کشمیریوں کے جسم اور روح کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق کشمیر میں تشدد کے ایسے طریقے اختیار کئے جا رہے ہیں جن کا مقصد نہ صرف لوگوں کو جسمانی طور پر ناکارہ کرنا ہے بلکہ ان کے ارادے، امیدیں اور مزاحمت کی طاقت کو بھی توڑنا ہے۔ بجلی کے جھٹکے، شدید مارپیٹ، گرم لوہے اور پلاسٹک سے جلا کر اذیت دینا، ٹانگوں کے پٹھوں کو رولر سے کچلنا اور الٹا لٹکا کر تفتیش کرنا آج بھی تفتیشی مراکز میں استعمال ہونے والے وہ طریقے ہیں جن کے سامنے جدید انسانی حقوق کی دنیا شرمندہ ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران کشمیر میں معذور افراد کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ حادثاتی یا اتفاقی نہیں بلکہ براہ راست ریاستی تشدد کا ثمر ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹوں کے مطابق ہزاروں افراد گولیاں، چھرے، آنسو گیس اور پاوا شیل کا نشانہ بن کر زندگی بھر کے لئے معذور ہو چکے ہیں۔ ان میں نوجوان لڑکے، لڑکیاں اور بچے سب شامل ہیں۔ کئی لوگ ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھے ہیں۔
وادی میں اکثر خاندان ایسے ہیں جو اپنے ہی گھروں میں مستقل نگہداشت کے مراکز میں بدل گئے ہیں۔کشمیر میں معذور افراد کو جسمانی اذیت اور ذہنی صدمے کے ساتھ ساتھ ایک اور سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔ صحت کی سہولیات کا فقدان، بحالی مراکز کی کمی اور مالی امداد کے نہ ہونے کے برابر مواقع ان کی زندگی کو مزید کٹھن بنا دیتے ہیں۔ تفتیشی مراکز میں لگنے والے زخم تو کچھ دنوں میں خشک ہو جاتے ہیں مگر بحالی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہونے کی وجہ سے مستقل معذور افراد کو اپنی پوری زندگی اہل خانہ کے سہارے گزارنی پڑتی ہے۔اس صورتحال کو مزید سنگین وہ استثنیٰ بنا دیتا ہے جو بھارت نے اپنی فورسز کو آرمد فورسز اسپیشل پاور ایکٹ جیسے کالے قوانین کے ذریعے دے رکھا ہے۔ یہ قانون نہ صرف فورسز کو مکمل اختیار دیتا ہے بلکہ ان اہلکاروں کو کسی بھی قانونی کارروائی سے بچا بھی لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تشدد کے ہزاروں واقعات ریکارڈ کا حصہ بنتے رہے مگر ایک بھی اہلکار کو سزا نہیں ملی۔
اس سے زیادہ سنگین بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ قانون کے نام پر ظلم کو قانونی تحفظ دیا جائے اور مظلوم کے لئے انصاف کے دروازے بند کر دیے جائیں۔گزشتہ پندرہ برسوں میں پیلٹ گنز کا استعمال کشمیر کی کہانی کا سب سے خونریز باب بن چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق تین ہزار سے زیادہ کشمیری مستقل طور پر بینائی کھونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ 2016 کی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران چھ ہزار سے زیادہ لوگ صرف چھروں کی وجہ سے زخمی ہوئے۔ یہ وہ وقت تھا جب صرف چند ہفتوں کے اندر سینکڑوں نوجوانوں کی آنکھیں ضائع ہو گئیں اور کئی کے چہرے بری طرح مسخ ہو گئے۔ عالمی سطح پر شدید تنقید کے باوجود بھارت نے پیلٹ گنز کے استعمال سے ہاتھ نہیں کھینچا بلکہ اسے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر جاری رکھا۔یہ سب کچھ کسی وقتی غصے یا بے قابو صورتحال کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک وسیع تر منصوبہ کا حصہ ہے جس کا مقصد کشمیریوں کی مزاحمت کو توڑنا، ان کی شناخت مٹانا اور ان کے سیاسی حق کو کمزور کرنا ہے۔ ہندوتوا نظریات کے زیر اثر بی جے پی اور آر ایس ایس برسوں سے یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی مسلم شناخت کو بدلنا ان کا قومی مشن ہے۔ مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔ مقصد یہ ہے کہ سیاسی طور پر کشمیری مسلمان اقلیت میں بدل جائیں تاکہ ان کی اجتماعی آواز ہمیشہ کے لئے کمزور ہو جائے۔آج صورتحال یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کو محض ایک انتطامی یونٹ ہی نہیں بلکہ ایک تجربہ گاہ میں بدل چکا ہے۔
نئی دہلی کی کوشش ہے کہ طاقت کے ذریعے کشمیریوں کی شناخت، مزاحمت اور سیاسی حیثیت کو ختم کر دیا جائے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ ظلم کبھی بھی مزاحمت کو ختم نہیں کر سکا۔ کشمیری عوام آج بھی اپنی شناخت، اپنے حقوق اور اپنی آزادی کے لئے اُسی عزم کے ساتھ کھڑے ہیں جس کے لئے نسلیں قربان ہو چکی ہیں۔کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اس شدت سے اٹھانے کی ضرورت ہے جو حقیقی صورت حال کا تقاضا کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں پہلے ہی بھارتی مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کا دفتر، جی کے سی سی ایس اور لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن اپنی رپورٹس میں بارہا ان سنگین خلاف ورزیوں کو سامنے لا چکے ہیں۔ مگر ان اداروں کی رپورٹس کو عملی کارروائی سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔
دنیا کو یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ کشمیر کوئی داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے جس میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روزمرہ معمول بن چکی ہیں۔دنیا کو یہ سوال اپنے سامنے رکھنا ہو گا کہ کیا وہ معذور ہوتے کشمیریوں کی چیخیں مزید برسوں تک نظر انداز کرتی رہے گی؟ کیا انسانی حقوق کے عالمی معیار صرف کمزور ممالک کے لئے ہیں؟ کیا طاقتور ریاستوں کے ظلم کے سامنے عالمی ادارے ہمیشہ خاموش رہیں گے؟کشمیریوں کی زندگی، ان کا مستقبل اور ان کی شناخت وقت کے سنگدل فیصلوں کی زد میں ہے۔ عالمی ضمیر اگر آج خاموش رہا تو آنے والی نسلیں اس خاموشی کو جرم سے کم نہیں سمجھیں گی۔ کشمیر کے معذور نوجوان صرف بھارت کے نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کے بھی زندہ ثبوت ہیں۔ دنیا کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ان کی بگڑتی ہوئی زندگیوں کو محض اعداد و شمار سمجھتی رہے گی یا ظلم کو روکنے کے لئے کوئی عملی قدم اٹھائے گی۔