(گزشتہ سے پیوستہ)
اسی طرح مورخہ 20 نومبر 2025 ء کو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے ڈویژنل بینچ نے سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ۖ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث چار ملزموں کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا۔ مذکورہ گستاخوں کے خلاف توہین مذہب، توہین رسالتﷺ، توہین قرآن و توہین صحابہؓ و اہل بیت ؓکی دفعات کے تحت مقدمہ مورخہ 12 ستمبر 2022 ء کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ راولپنڈی میں عمر نواز کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔مذکورہ مجرمان کے خلاف مقدمہ ثابت ہونے پر سیشن کورٹ راولپنڈی نے مذکورہ مجرمان کو مورخہ 04 ستمبر 2023 ء کو سزائے موت وغیرہ سنائی تھی۔ مذکورہ مجرمان کو ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے جب گرفتار کیا تھا تو اسی موقع پر ان مجرمان سے بھی وہ موبائل فون اور سم وغیرہ برآمد ہوئے تھے کہ جن کے ذریعے انہوں نے گستاخانہ مواد کی واٹس ایپ اور فیس بک اکانٹ کے ذریعے تشہیر کی تھی۔مذکورہ مجرمان سے برآمد ہونے والے موبائل فون کی ٹیکنیکل اور فرانزک رپورٹ میں بھی ان مجرمان کے جرائم ثابت ہوئے تھے اور ان کے موبائل سے وہ تمام گستاخانہ مواد ‘ میسجز ریکور ہوئے تھے کہ جن کی تشہیر انہوں نے واٹس ایپ گروپس اور فیس بک وغیرہ پر کی تھی،ان چاروں گستاخوں کو بھی سیشن کورٹ راولپنڈی نے ناقابلِ تردید شواہد پر سزائے موت وغیرہ سنائی تھی۔ ان مجرمان کی جانب سے اپنی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلیں مورخہ 20 نومبر 2025 ء کو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس جواد حسن اور جسٹس سلطان محمود پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو سماعت کے لئے مقرر ہوئی تھی۔قابل ذکر بات ہے کہ مذکورہ مجرمان نے الگ الگ اپیلیں دائر کی تھیں اور 20 نومبر کو صرف ایک مجرم کا وکیل موجود تھا۔تین مجرمان کے وکیل بھی موجود نہیں تھے۔اس کے باوجود بھی لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے مذکورہ بینچ نے بغیر دلائل سنے اور ریکارڈ کو بھی دیکھے بغیر صرف چند منٹس کی سماعت کے بعد مذکورہ چاروں مجرمان کی سزائے موت کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔ان تمام تفصیلات کو سننے کے بعد مولانا فضل الرحمن بھی شدید تشویش میں مبتلا ہو گئے اورکہا کہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کے لئے بھی مطالبات کرنے پڑتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔پارلیمنٹ کی جانب سے حالیہ دنوں میں کی جانے والی متنازع قانون سازیاں اسی کوشش کا حصہ ہے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس اور وطن عزیز پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ کیا جائے گا۔واضح رہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں اور احکامات کی روشنی میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے جون 2021ء سے ملک بھر میں شروع کی گئی کارروائی کے نتیجے میں اب تک سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث تقریباً پانچ سو گستاخ ملزمان گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ان میں سے 38 گستاخوں کو توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیر کا جرم ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹس سزائے موت سنا چکی ہیں۔باقی تمام گستاخ ملزمان کا ٹرائل جاری ہے۔یہ قابل تحسین امر ہے کہ سوشل میڈیا پر جاری بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث مجرمان کے خلاف اب تک قانونی راستہ ہی اختیار کیا گیا ہے۔تمام گستاخوں کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات کا اندراج ہوا اور پھر قانون کے مطابق ہی ان کا ٹرائل عدالتوں میں جاری ہے۔کسی ایک گستاخ کے خلاف بھی کسی ایک شہری کی جانب سے بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کا کوئی ایک واقعہ بھی رونماء نہیں ہوا۔لیکن اب اسلام دشمن بیرونی ایجنڈے کے تحت ان گستاخوں کے خلاف جاری قانونی عمل میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔حالیہ دنوں میں ثابت شدہ گستاخان رسول کو ماورائے آئین و قانون ریلیف دینا بادی النظر میں اسی مذموم ایجنڈے کا حصہ ہے۔یہ تشویش ناک صورتحال ہے۔ایک موقع پر لاہور ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس چوہدری عبدالعزیز نے ریمارکس دیئے تھے کہ حکومتی اداروں کو شکر گزار ہونا چاہئے کہ ان گستاخوں کے خلاف درخواست گزاروں نے قانونی راستہ اختیار کیا۔اگر وہ سوشل میڈیا پر ان گستاخوں کی جانب سے پھیلائے جانے والے مواد کو عوام کے سامنے لے جاتے تو پاکستان کی ہر گلی میں آگ لگ جاتی۔یہ حقیقت ہے،لہٰذا مقتدرہ کو چاہئیے کہ وہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گستاخوں کے خلاف جاری قانونی عمل میں رخنہ اندازی کرنے اور ان گستاخوں کو ماورائے آئین و قانون ریلیف دینے والے عناصر کا فوری طور پر قانون کے مطابق محاسبہ کرے۔اگر ایسے عناصر کا محاسبہ نہ کیا گیا تو پاکستان کے شہریوں کا قانون کی عملداری پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔پھر ایسا نہ ہو کہ ایسے گستاخوں کے خلاف فیصلے ‘’’عوامی عدالتوں‘‘ میں ہونے لگ جائیں۔