کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ نے کہا ہے کہ 6 دسمبر بھارت کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ دن ہے جب 1992 ء میں اس روز ہزاروں انتہا پسند ہندں نے حکومتی سرپرستی میں تاریخی بابری مسجد شہید کر کے ملک کے سیکولر دعوئوںکی قلعی کھول دی۔
حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی اور سینئر رہنمائوں محمد فاروق رحمانی ، محمود احمد ساغر نے اسلام آباد میں جاری اپنے بیانات میں کہا کہ صدیوں پرانی تاریخی مسجد کا انہدام بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔انہوں نے کہا کہ مسجد کی شہادت کے دلخراش مناظر اب بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کی ذہنوں میںتازہ ہیں،مسجد کی شہادت کا یہ سانحہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوںخاص طور پر مسلمانوں کو کس قدر عدم تحفظ، امتیازی سلوک اور ریاستی جبر کا سامناہے۔انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کا انہدام بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی ورثے کو مٹانے کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ تھا، مودی حکومت میں مساجد ، زیارت گاہوں اور درگاہوں کو نشانہ بنانے کا یہ مذموم عمل مسلسل جاری ہے ۔
فسطائی مودی نے ایودھیا میں شہید کی جانے والی05 سو سالہ پرانی بابری مسجد پر بننے والے متنازعہ رام مندر کا گزشتہ برس 22جنوری کو یہ کہہ افتتاح کیا تھا کہ بھگوان نے اس سے تمام لوگوں کی نمائندگی کا ذریعہ بنایا ہے۔حالانکہ یہ سیاسی حربے کے سوا کچھ نہیں تھا ۔اب رواں برس رام مندر کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ مودی اور اس کی BJP نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا ۔
دنیا میں ایسا واقعہ پہلی بار رونما ہوا ہے کہ کسی زیر تعمیر عمارت کا اسکی تکمیل سے قبل ہی افتتاح کیا گیا ہو ۔یہ کارنامہ مودی اور اس قبیل کے لوگ ہی انجام دے سکتے ہیں جو بھارت کو تمام اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے پاک کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ان کی نسلی تطہیر کیلئے بھارت کے تمام اداروں خاص کر بھارتی سپریم کورٹ اور نچلی عدالتوں کو دھڑلے سے استعمال کیا جارہا ہے اور پھر بھارت کے ان انصاف کے اداروں پر اپنے کیے پر ندامت اور شرمندگی بھی نہیں محسوس ہوتی۔جس پر مشہور برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے مودی حکومت کی نام نہاد ترقیاتی پالیسیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے بھارت کے سیکولر ہونے کا دعوی بے نقاب کیا ہے۔دی اکانومسٹ کے مطابق مودی کی جانب سے گزشتہ برس 22جنوری کو 220 ملین ڈالر کے متنازع ہندو مندر کے افتتاح نے مودی کے سیکولر ہونے کا دعوی جھوٹا ثابت کیا۔جریدے نے مزید اس بات پر روشنی ڈالی کہ بھارت میں مودی کی اسلام مخالف سرگرمیوں پر اسلاموفوبیا کا خدشہ ہے۔کیونکہ لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے رام مندر کی تعمیر سیکولر ذہنیت کے حامل بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ دی اکانومسٹ کا مزید کہنا ہے کہ مودی حکومت جھوٹ کا لبادہ اوڑھے جواہر لال نہرو جیسے لیڈر بننے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں۔ مودی کی جارہانہ پالیسیاں بھارت کی معیشت کے نقصان کا باعث بن رہی ہیں۔
تاریخی بابری مسجد کے مقام پر تعمیر ہونے والا مندر بھارت کی نام نہاد جمہوریت پر ایسا سیاہ دھبہ ہے،جس سے کسی صورت دھویا نہیں جاسکتا۔ بھارت کو ہندو راشٹر بنانا بی جے پی کا پرانا خواب ہے،جس کی تعبیر کیلئے بی جے پی ہزاروں مساجد کو گرا کر ان کی جگہ مندر بنانا چاہتی ہے۔1992 میں بی جے پی اورآر ایس ایس کی قیادت میں دائیں بازو کے ہندو جونیوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔نومبر 2019 میں ایودھیا سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے مسلم دشمن بدبودار فیصلے نے ثابت کیا کہ ہندوتوا نظریہ بھارت میں انصاف کے تمام اصولوں اور بین الاقوامی قوانین پر فوقیت رکھتا ہے۔مودی کے بھارت میں مسلمان اور ان کی عبادت گاہیں تیزی سے حملوں کی زد میں ہیں۔مودی اور اس کے حواری بابری مسجد تک ہی خود کو محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ بھارت میں مزید درجنوں مساجد ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں ،ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے بھارتی شہر کاشی میں گیانواپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد سمیت دیگر مساجد کی مسلسل بے حرمتی کی جا رہی ہے،لہذا ان مساجد کو بھی مستقبل میں خطرے کا سامنا ہے۔اب تو بات بہت آگے نکل چکی ہے۔بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں مغل طرز تعمیر کی شہکار شاہی جامع مسجد جو پانچ صدیاں قبل ظہیر الدین بابر کے دور اقتدار میں تعمیر کی جاچکی ہے،مقامی عدالت کے احکامات پر 24نومبر 2024کی صبح ساڑھے سات بجے سروے کے دوران مسلمانوں کے مظاہرے پر یوگی آدتیہ ناتھ کی سفاک پولیس نے براہ راست فائرنگ کرکے 06 مسلم نوجوان شہید اور بیسیوں زخمی کیے۔
(جاری ہے)