بھارت کے دہشت گرد وزیر اعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں زعفرانی جھنڈا لہرا کر متنازعہ مندر کی تکمیل کا اعلان کیا۔ یہ وہ مقام ہے جس پر کبھی بابری مسجد کے مینار کھڑے تھے، جس کے انہدام نے پورے برصغیر میں ایک تہلکہ مچا دیا تھا۔ کئی دہائیوں بعد اسی مقام پر ایک بڑی مذہبی و سیاسی تقریب منعقد ہوئی، جسے پورے ملک میں خصوصی اہمیت دی گئی۔
افتتاحی تقریب میں دہشت گرد مودی کے ہمراہ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادتیہ ناتھ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس)کے سربراہ موہن بھاگوت بھی موجود تھے۔ ان تینوں رہنمائوں کا ایک ساتھ اس تقریب میں شریک ہونا نہ صرف حکومتی طاقت کا مظہر تھا بلکہ ملک کے مستقبل کے سماجی و سیاسی رخ کی بھی نشان دہی کر رہا تھا۔
ایودھیا میں جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا ایک نیا باب ہے۔ مگر تاریخ ہمیشہ سیاہ یا سفید نہیں ہوتی، اس میں درد بھی ہوتا ہے، سچ بھی، اور کبھی کبھی امید کی ایک روشنی بھی۔
بھارت میں بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا مسئلہ کئی دہائیوں تک ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان شدید اختلاف اور کشیدگی کا باعث رہا۔ یہ تنازع رفتہ رفتہ اس سطح تک پہنچ گیا کہ 1992 ء میں ملک گیر سطح پر احتجاج، مظاہرے اور بدترین فسادات پھوٹ پڑے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً دو ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ یہ سانحہ ملک کی اجتماعی یادداشت پر گہرا زخم چھوڑ گیا۔
صدیوں قبل تعمیر کی گئی بابری مسجد ایک تاریخی عبادت گاہ کے طور پر قائم رہی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بعض ہندو تنظیموں نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ جگہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مغل دور میں ایک مندر گرا کر اس مقام پر مسجد تعمیر کی گئی۔ دوسری طرف مسلمانوں کا موقف یہ رہا کہ مسجد اپنی اصل حالت میں صدیوں قائم رہی اور یہ دعوے تاریخی شواہد سے ثابت نہیں۔
چھ دسمبر 1992 ء کو بابری مسجد کو ہندو بلوائیوں پر مشتمل گروہ نے شہید کردیا، جس سے پورے ملک میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں میں شدید غم و غصہ ابھرا اور انہوں نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیے۔ ان واقعات نے بھارت کی مذہبی ہم آہنگی، آئینی اصولوں اور جمہوری اقدار کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
2019 ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے اس تاریخی تنازعے کا متعصبانہ فیصلہ سنایا، جس میں مسجد کی زمین ہندو فریق کے حوالے کردی گئی اور مسلمانوں کو دوسری جگہ متبادل پلاٹ دینے کا حکم دیا گیا۔ مسلمان جماعتوں اور متعدد مبصرین نے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ ہندو تنظیموں نے اسے تاریخی فیصلہ قرار دیا۔ متبادل پلاٹ کی فراہمی کے باوجود نئی مسجد کی تعمیر اب تک مکمل نہ ہو سکی۔
دوسری جانب رام مندر کی تعمیر پر حکومت اور مختلف تنظیموں نے خطیر رقم خرچ کی، اور یہ منصوبہ قومی سطح کا علامتی منصوبہ بن گیا۔ اب جب کہ دہشت گرد مودی نے نئے مندر کا افتتاح کر دیا ہے، تو مسلمان اپنے دل میں اس ماضی کو یاد کر رہے ہیں جس میں ایک تاریخی مسجد کی شہادت، ہزاروں جانوں کا ضیاع اور انصاف کے لیے طویل جدوجہد شامل ہے۔
یہ متعصبانہ تنازعہ صرف زمین، مسجد یا مندر کا نہیں بلکہ بھارت میں مذہبی رواداری، مساوات اور آئینی اصولوں کے مستقبل سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ وقت بتائے گا کہ یہ فیصلے ملک میں اتحاد کو مضبوط کریں گے یا مزید فاصلے پیدا کریں گے، مگر تاریخ کا زخم ابھی بھی تازہ ہے، اور اس کی بازگشت آج بھی لاکھوں دلوں میں سنائی دیتی ہے۔
ایودھیا میں رام مندر کی تکمیل کا لمحہ بھارت کی تاریخ میں ایک ایسا باب ہے جس نے ماضی کے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت سے شروع ہونے والا یہ سفر صرف ایک عمارت کے گِرنے اور دوسری کے اٹھنے کی کہانی نہیں بلکہ ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کے درد، ان کی محرومی اور ان کے احساسِ عدمِ تحفظ کی داستان بھی ہے۔ آج جب پورے ملک میں اس افتتاح کو مذہبی اور سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، وہیں ایک بڑا طبقہ خاموشی سے اپنے وجود، اپنی تاریخ اور اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند بھی ہے۔
یہ سچ ہے کہ قومیں ماضی کو سمیٹ کر ہی آگے بڑھتی ہیں، مگر اس کے لیے انصاف، مساوات اور باہمی احترام بنیادی شرطیں ہیں۔ بھارت جیسے متنوع اور کثیرالمذہبی ملک میں امن صرف اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب ہر شہری خود کو برابر کا حصہ محسوس کرے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات کو نفرت کی بنیاد نہ بننے دیا جائے بلکہ انہیں ایسے اسباق میں بدلا جائے جو مستقبل کے لیے امید کا دروازہ کھول سکیں۔
تاریخ کے یہ زخم شاید کبھی نہ بھر سکیں، بھارت کے مسلمان ہندو دہشت گردی سے تنگ آچکے ہیں، تنگ آمد بجنگ آمد کے اصول کے تحت جس دن بھارتی مسلمانوں نے میدانوں کا راستہ اختیار کیا تو یہی مندر بابری مسجد میں تبدیل کردیا جائے گا۔ ان شا اللہ
ایودھیا میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے بھارت کے سیکولر تشخص کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ حکومت کے رویے نے صاف ظاہر کر دیا ہے کہ ریاستی طاقت کو ایک مخصوص بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اقلیتوں کے جذبات اور ان کے تاریخی زخموں کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ بابری مسجد جیسے حساس معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا نہ صرف عدمِ مساوات کو بڑھاتا ہے بلکہ ملک کو تقسیم کی طرف دھکیلتا ہے۔ اگر قیادت انصاف اور توازن کے بجائے اکثریتی سیاست پر چلتی رہی تو بھارت کا جمہوری ڈھانچہ مزید کمزور ہوتا جائے گا۔