Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

بابری مسجد ‘ بھارت کے سیکولر دعوئوں کی قلعی کھل گئی

(گزشتہ سے پیوستہ)
دو خواتین سمیت 27مسلمان گرفتار اور 2700 کے خلاف FIR درج کی گئی،جن میں سماج وادی پارٹی کیساتھ تعلق رکھنے والے بھارتی ممبر پارلیمنٹ ضیا الرحمان برق بھی شامل ہیں،جو اس دن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کیلئے بنگلورو میں موجود تھے۔بھارتی ریاست راجستھان میں واقع صدیوں پرانی مشہور و معروف درگاہ اجمیر شریف کے نیچے سے بھی مندر تلاش کرنے کا کام شد و مد سے جاری ہے اور اب بات دہلی کی تاریخی جامع مسجد تک جاپہنچی ہے ،جس سے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 1650میں تعمیر کروایاتھا۔ نہ جانے یہ سلسلہ کہاں رکھے گا،رکھے گا بھی کہ نہیں۔آثار و قرآئن یہی بتارہے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کیلئے مرو یا مر جائو کی صورتحال ان کے دروازوں پر دستک دے چکی ہے۔اب مصلحت کوشی اپنی موت آپ مرچکی ہے۔انسانی حقوق کی معروف عالمی تنظیم جینو سائیڈ واچ کے سربراہ پروفیسر گیگوری اسٹینٹن نے مودی اور بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی ان کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے،جس پر عالمی برادری نے اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔
بلاشبہ بابری مسجد کی جگہ پر متنازعہ رام مندر کی تعمیر بھارتی جمہوریت کے چہرے پر بدنما دھبہ ہے۔صدیوں پرانی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے شہید کیا تھا،جن کی سربراہی ایڈوانی،مرلی منوہر جوشی،اوما بھارتی اور کلیان سنگھ کررہے تھے۔ اعلی بھارتی عدلیہ نے اس گھناونے فعل کے ذمہ دار مجرموں کو نہ صرف بری کیا ، بلکہ بابری مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کی بھی اجازت دیکر خود کو رسوا کیا ہے۔ یقینابھارت میں ہندوتوا کی بڑھتی سوچ مذہبی ہم آہنگی اور علاقائی امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، عالمی برادری کو بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور جرائم کا نوٹس لینا چاہئے ۔مودی نے رام مندر کا افتتاح تو ضرور کیا لیکن یہ افتتاح بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔کیونکہ بھارت جس تیزی کیساتھ ہندو انتہا پسندی کے گڑھے میں گرتا چلاجارہا ہے ،وہ گڑھا ہی بھارت کی تباہی و بربادی کا باعث ہو گا۔
ادھر حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنمائوں نے کہا کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی ہندو توابھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھی مسلمانوں کے دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ مذہبی حقوق بھی سلب کر رکھے ہیں اور وہ علاقے کو مکمل طور پر ہندو توا کے رنگ میں رنگنے کی ایک منصوبہ بند سازش پر عمل پیراہے۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو جمعہ اور عیدکی نماز کی ادائیگی سے روکا جاتا ہے ، بھارتی فورسز مساجد ، مدارس پر چھاپے مار کر انکی بے حرمتی کر رہی ہیں ۔ انہوںنے کہا مساجد پر چھاپے، انکی تالہ بندی ، لائوڈ سپیکروں کی ضبطی مذہبی آزادی کی بدترین پامالی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، او آئی سی اور انسانی حقوق عالمی اداروں پر زور دیا کہ مسلمانوں کے خلاف منظم جبر، مذہی حقوق کی سلبی اور مقبوضہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف پامالیوں پر بھارت کا فوری محاسبہ کریں۔
دریں اثنائبھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزادی کی جدوجہد میں مصروف کشمیریوں پر بھارتی مظالم میں تیزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر خالصتا ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے فوجی طاقت سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خود ارادیت کے اصول کی بنیاد پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ کشمیری اپنے ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت کیلئے قربانیوں کی ایک عظیم تاریخ رقم کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کشمیریوں کی بیش بہا قربانیوں کو وجہ سے مسئلہ کشمیر دنیا میں توجہ کا مرکز بن چکا ہے او ر عالمی برادری اس مسئلے کی حساسیت کی وجہ سے اسکے فوری طور پر حل دے رہی ہے۔
حریت ترجمان نے کہا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت نے اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت کشمیریوں کے تمام حقوق سلب رکھے ہیں ، اس نے حریت رہنمائوں ، کارکنوں ، وکلا ، سول سوسائٹی اور حقوق کے کارکنوں ، علمااور صحافیوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو جیلوں اور تعذیب خانوں میں بند کرکھا ہے اور وہ مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
ترجمان نے تمام کشمیری سیاسی نظربندوں کے عزم وہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی لازوال قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور جموں وکشمیر بھارتی تسلط سے آزاد ہو کررہے گا۔
ترجمان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کریں۔

یہ بھی پڑھیں