زندگی کی دوڑ میں محو انسان اکثر اس سچائی کو بھلا بیٹھتا ہے کہ فنا ہر وجود کا مقدر ہے۔ یہ دنیا اپنی تمام تر رنگینیوں، آرزوئوں اور تمنائوں کے باوجود ایک عارضی پڑا ہے، جہاں سے ہر مسافر نے ایک دن رختِ سفر باندھ کر ہمیشہ کی وادیوں کی طرف روانہ ہونا ہے۔ موت جسے لوگ یاد کرنے سے گھبراتے ہیں، حقیقت میں وہ آئینہ ہے جو انسان کو اس کی حقیقت دکھاتا ہے، اس کی حدوں کی یاد دہانی کراتا ہے اور اسے اصل منزل کا شعور بخشتا ہے۔ قرآن مجید نے موت اور زندگی دونوں کو آزمائش قرار دے کر انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے کہ کامیابی انہی کا مقدر بنتی ہے جو جیتے جی اپنی آخرت سنوارنے کی فکر رکھتے ہیں۔
یہ مضمون اسی ابدی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ موت کا لمحہ نہ وقت دیکھتا ہے نہ مقام، نہ طاقت سے ڈرتا ہے نہ دولت سے مرعوب ہوتا ہے۔ خوش نصیب ہے وہ انسان جو موت کو یاد رکھ کر جیتا ہے، اپنے اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور اپنے رب کے حضور پیشی کی تیاری میں مصروف رہتا ہے۔
موت میں یہی غیب و حضور رہتا ہے
اگر ہو زندہ تو دل ناصبور رہتا ہے
مہ و ستارہ، مثال شرارہ یک دو نفس
مے خودی کا ابد تک سرور رہتا ہے
فرشتہ موت کا چھوتا ہے گوبدن تیرا
تیرے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے
اس جہان رنگ و بو میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا کسی چیز کو بقا حاصل نہیں ہے۔جو عدم سے وجود میں آیا ہے اس نے فنا ہونا ہے۔موت اور زندگی وہ تخلیقات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایک خالق کی حیثیت سے سورۃ الملک کی دوسری آیت کریمہ میں اپنی شان قرار دیا ہے۔اسلام میں فلسفہ موت و حیات کو بنیادی تعلیمات میں شامل کیا گیا ہے۔انسان ہر آن اس تصور میں گم رہے کہ مجھے ایک دن یہ سرائے فانی چھوڑ کر اپنے رب تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے جو میرا حاکم اعلیٰ ہے جو میرا منعم حقیقی ہے۔جو میرا رازق و معبود اور خالق و مسجود ہے۔یہ جوابدہی اور احتسابی کیفیت تب ہی پیدا ہو گی جب انسان اپنی موت کو یاد کرے گا دنیا میں روزانہ لاکھوں اموات ہو رہی ہیں وہ لوگ بھی رخصت ہوئے جارہے ہیں جو کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہیں اور وہ بھی سفر آخرت سدھا ر رہے ہیں جو گلیوں کا روڑا کوڑاہیں۔
موت کی گرفت سے نہ شاہ محفوظ ہے نہ گداکو کوئی چارہ ہے۔موت کی ہچکی سے بچائو کا سامان نہ ڈاکٹر کے پاس ہے اور نہ ہی حکیم و طبیب کے نسخوں میں۔موت کی یلغار نہ قلعوں کی دیواریں دیکھتی ہے اور نہ چوکیداروں کی قطاریں۔ اس موت کو نہ معصوموں پہ رحم آتا ہے اور نہ ظالموں سے ڈرتی ہے یہ ایسی تخلیق ربانی ہے جس کا امر ہر مخلوق پہ صادر ہو رہا ہے فراعنہ مصر سے لے کر منگولوں اور سلجوقوں تک سب اپنی مہارتیں اور طاقتیں موت کے سامنے عاجز کر کے بیٹھے ہیں۔پیغمبر اسلام نے موت کو یاد کرنے کی خصوصی تلقین فرمائی کیونکہ یہ دنیا کی لذتوں کو کم کرتی ہے۔امیدوں کے پیچھے بھاگنے سے بچاتی ہے انسان کو گناہوں سے دور کرنے میں مدد گار ہے۔ ایک روایت میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ قبر اور موت انسان کو دن میں ستر بار یاد کرتی ہے اور اس کو پکارتی ہے کہ اے ابن آدم ایک دن تو میرا شکار ہو گا اور تجھے میرا رزق بننا ہو گا۔اس کیلئے تیاری کر موت کا مقام اور وقت اللہ تعا لیٰ نے مقرر فرمادیا ہے۔ایک مرتبہ ملک الموت بارگاہ حضرت سلیمان ؑ میں حاضر تھے کہ ایک شخص کو وہاں حاضر پایا اس کو عجیب نگاہوں سے دیکھنے لگے جناب حضرت سلیمانؑ سے یہ ادا مخفی نہ تھی مگر آپ خاموش رہے۔چنددنوں بعد پھر جب حاضر دربار ہوئے تو آپ نے ملک الموت حضرت عزرائیل ؑ سے دریافت فرمایاکہ فلاں دن تم فلاں شخص کو کیوں حیرانگی میں دیکھ رہے تھے وہ شخص تیرے جانے کے بعد مجھے کہنے لگا کہ آپ ہوا کو حکم دیں کہ مجھے فلاں جگہ پہنچا دے میرے پاس وقت تھوڑا ہے اور مصروفیات زیادہ ہیں تو موت کے فرشتے نے عرض کی حضور میں بھی اسی بات پہ حیران تھا کہ مجھے اس شخص کی روح قبض کرنے کیلئے جس مقام کا تعین کیا گیا ہے وہ خاصہ دور ہے اور یہ شخص یہاں بیٹھا ہوا ہے۔جب میں اس کی روح قبض کرنے کیلئے اس مقام پہ پہنچا تو وہ وہاں حاضر تھاکیونکہ آپ کے حکم کے ساتھ اسے ہوا نے وہاں پہنچا دیا تھا۔
ایک حدیث رسول ﷺ میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ رزق اور موت انسان کو خود تلاش کرتے ہیں۔رزق کیلئے انسان پریشان رہتا ہے اور موت کو بھول کر حلال و حرام کی تمیز کیے بغیر دولت کے انبار لگاتا ہے مگر موت اس کا تعاقب کر رہی ہوتی ہے اس کے دن گن رہی ہوتی ہے۔ قارئین کرام‘ موت لذتوں کی قاتل ہے اور لذتیں جنت سے رکاوٹ ہیں موت کا پروانہ ہر ایک کیلئے ہے خوش نصیب ہے وہ انسان جو اپنی موت کوفراموش نہیں کرتا اور ہر وقت موت کیلئے تیار رہتا ہے جب مولائے کائنات جناب حضرت علی المرتضیؓ کا وقت رخصت آیا تو بیٹے غمگین تھے۔احبا پریشان تھے تو آ پ سے رنجیدگی نہ دیکھی گئی آپ نے فرمایا مجھے کعبے کے رب کی قسم میں کامیاب ہو گیابقول اقبال۔
نشان مرد حق دیگرچہ گویم
چو مرگ آید تبسم بر لب اوست
نبی آخر الزماں ﷺ نے موت کی آسانی اور سختی کو اعمال صالحہ اور ایمان کے ساتھ مشروط فرمایا۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کافر کی موت ہوتی ہے تو اس کی روح بدن سے ایسے نکلتی ہے جیسے خاردار جھاڑی پہ کوئی کپڑا ڈالا گیا ہو اور اسے کھینچ کر اتارا جائے تو اس کا ایک ایک پور الگ ہو جاتا ہے اور مومن کی موت پر اس کی روح ایسے نکلتی ہے جیسے مکھن سے بال نکلتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی موت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے۔