Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

انسان کو حیوان بنانے والی بے حیائی

بے حیائی وہ مہلک وبا ہے جو انسان کو اخلاقی بلندیوں سے گرا کر حیوانیت کے قریب کر دیتی ہے۔ معاشرے کی پاکیزگی، نوجوانوں کی کردار سازی اور مضبوطی کا بنیادی ستون حیا ہے۔ جب دل سے شرم و حیا کا چراغ بجھ جائے تو انسان برائی کو پہچاننے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اور شیطان کے بہکاوے میں آکر گمراہی کی راہ اختیار کر لیتا ہے۔ آج کے دور میں میڈیا، فیشن اور آزاد ماحول نے فحاشی کو عام کر کے معاشرے کے اخلاقی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم قرآن و سنت کی راہنمائی میں حیا کو اپنی زندگیوں میں مضبوطی سے قائم رکھیں۔
ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صحبت زاغ
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ
بے حیائی وہ ذلیل صحبت ہے جو انسان کو حیوان کا ہم نشین بنا دیتی ہے۔ جس کا شکار ہونے والا ہمیشہ قعر مذلت میں گرتا ہے۔اسلام اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ پاکبازی،پاکدامنی اور پاک نیتی کا درس دیتا ہے۔اس کی تعلیمات انسان کو روحانی بالیدگی اور جسمانی نفاست عطا کرتی ہیں۔انسان کا ازلی دشمن شیطان لعین اسے ہمیشہ راہ راست سے بھٹکاتا ہے۔اسے راست گوئی اور راست بازی سے دور کرتا ہے۔سور ۃالبقرہ کی آیت نمبر 268میں اللہ تعالیٰ شیطان کی اس صفت کا ذکر کرتے ہیں شیطان تمہیں برائی اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے اس کلام الٰہی میں یہ امر بصر احت موجود ہے کہ شیطا ن کا کام ہی انسان کو بہکانا اور پھسلانا ہے۔اسے برائی اور فحاشی کے راستے پر لگانا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے شیطان لعین کو اپنی بارگاہ سے دھتکار دیا تو اس نے بارگاہ رب العالمین میں یہ چیلنج دیا کہ مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو اغوا کر لو ں گایہ پورا مکالمہ سورۃ الحجر میں موجود ہے جوابا ً پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ جو میرے مخلصین ہو ں گے تیر اان پر زور نہیں چلے گا۔
قارئین محترم!شیطان دسیسہ کاریوں سے باز نہیں آیا اس نے چیلنج کو بھلایا نہیں ہے بلکہ وہ پوری کوشش کے ساتھ انسان کو بہلانے اور بھٹکانے میں مکمل مصروف ہے۔شیطان کا سب سے مضبوط ہتھیار بے حیائی اور فحاشی کا فروغ ہے۔جو قوم بے حیائی کا شکار ہو جائے اس کو نیست و نابود ہونے میں دیر نہیں لگتی ہے۔اس کی اجتماعیت اور وحدانیت کا شیرازہ چند لمحات میں بکھر جاتا ہے۔ایسی قوم کوئی کارہائے نمایاں سر انجام نہیں دے سکتی اور جس قوم کے جوان غیور و بے باک ہوں وہ اقوام عالم کی سر براہی کرتی ہے۔
بقول اقبال۔
اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے غلاموں کی خودی صورت فولاد
نا چیز جہان مہ وپر ویں ترے آگے
وہ عالم مجبور ہے، تو عالم آزاد
فحاشی اور بے حیائی نوجوان طبقے کا فیشن بنتا جا رہا ہے۔ کالجز، یونیورسٹیاں، پارک، سینما گھر،بوتیک سنٹرز،شاپنگ مالز ایسے مناظر سے بھرے پڑے ہیں۔ الامان الحفیظ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا ایسے اشتہارات اور عنوانات کے ساتھ بھرا ہوا ہے۔ دیکھا دیکھی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں باہوں میں باہیں ڈالے رقص کناں ہیں اور ان پارٹیوں کو نت نئے عنوانات اور موضوعات مل رہے ہیں۔رہی سہی کسر پرائیویٹ چینل کے ڈرامہ نگاروں اور فنکاروں نے نکال دی ہے جہاں پر دیور کو بھابھی اور سسر کو بہو کا عاشق دیکھا یا جار ہا ہے۔جس کے اثرات کا نتیجہ لیے گھروں کی چھتوں اور چار دیواری کے اندر بڑے محفوظ طریقے سے زنا ہو رہا ہے۔جس کی رپورٹ میڈیا کے ذریعے ملے تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔
قرآن مجیدکی سورۃ الا سرا کی آیت نمبر بتیس کو پڑھیں اور دیکھیں کیا حکم ہو رہا ہے اور زنا کے قریب نہ جا بے شک یہ بے حیائی اور برا راستہ ہے ‘ آج کی جدید سائنس بھی اسلام کی ان حدود و قیود کے فوائد کو تسلیم کر رہی ہے کہ زنا،شراب نوشی،جوا اور نشہ کی لت ہمارے جسم کو مختلف بیماریوں کا شکار کر رہی ہے۔جن میں بہت سی ایسی بیماریاں ہیں جو لاعلاج ہیں۔میں میڈیا چینلز مالکان اور اخبارات و جرائد کے ذمہ داران سے بھی قرآنی تنبیہ کے ساتھ عرض کرتا ہوں جو سورۃ النور کی آیت نمبر انیس میں ارشاد ہوئی ہے۔’’بے شک جو لوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان میں بے حیائی پھیلے ان کیلئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے‘‘ چند دنوں کی ریٹنگ اور چند پیسوں کا لالچ ہمیں جہنم کے دروازے کی طرف دھکیل رہا ہے۔
سنن ابن ماجہ میں یہ حدیث مبارکہ ہے کہ جب کسی قو م میں فحاشی عام ہو جائے اور وہ اس کو کھلے عام کرنے لگیں تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو پہلے ان لوگوں میں نہیں تھی۔جب کرونا کی وبا نے لاکھوں لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لیا اس وقت یہ حدیث مبارکہ مجھے کثرت سے یاد آتی تھی کیونکہ ہم نے پہلے اس بیماری کا نام ہی نہیں سنا تھا۔امام بخاری نے ایک فرمان رسالتماب روایت کیا ہے ’’جب تم حیا نہ رکھو تو جو چاہے کرو‘‘حیا دار انسان ہمیشہ برائی اور گندے افعال سے ہچکچاتا ہے۔مگر جب و ہ شرم و حیا کو اتار پھینکتا ہے تو اس کی نظر میں حلال و حرام،نیک و بد،سیاہ و سفید اور کھرے کھوٹے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے پھر وہ ہر اس جگہ پہ منہ کالا کرتا ہے جہاں ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔
فی زمانہ جنس مخالف سے دوستیاں اور جسمانی لذتوں کا حصول بھی لوگوں کیلئے اچنبھے کی بات نہیں ہے مگر ہمارے رسول کریم ﷺ نے تو اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات بھی دوسروں سے بیان کرنے سے منع فرمایا ہے۔صحیح مسلم میں فرمان عالی شان ہے کہ قیامت کے دن سب سے بدتر لوگ وہ ہوں گے جو اپنی بیوی کے ساتھ تعلقات کی باتیں دوسروں کو بتاتے ہیں‘اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں شرم و حیا سے آراستہ کرے اور ہمیں اپنے قبول بندوں میں شمار فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں