وطن عزیز‘ بلاشبہ پیارا پاکستان ہمیں دل و جان سے بھی زیادہ عزیزہے۔ لیکن کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ یہ عزیز داری صرف زبانی جمع خرچ تک ہی محدود ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آ ج پون صدی سے زائد کا طویل ترین عرصہ گزرنے کے باوجود اس ‘ عزیز‘ کی کشتی یوں ڈانوں ڈول نہ ہوتی۔ عمر کے آخری حصے میں پہنچنے کے باوجود کوئی ایسی خبر‘ کوئی ایسا اقدام اور کوئی ایسا منصوبہ دیکھنے میں نہیں آیا کہ جس سے اطمینان حاصل ہو اور سکھ سکون کا کوئی سانس آیا ہو اور یہ سوچے بغیر نیند آئی ہو کہ نہ جانے ملک و قوم کی کشتی کب کنارے لگے گی۔ نوجوان نسل کا مستقبل کیا ہوگا دنیا میں آنے والا بچہ جو تین لاکھ روپے سے زائد قرض کا بوجھ لے کر آنکھیں کھولتا ہے۔ اس کی زندگی میں کیا کیا نشیب و فراز آئیں گے۔ کیونکہ جب تک وہ سن شعور میں قدم رکھے گا۔ وہ مزید لاکھوں روپے کا مقروض ہوچکا ہوگا۔ نہ جانے مملکت ‘ عزیز‘ پر کس چیز کا سایہ ہے کہ ایک رولا ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سر اٹھانے لگتا ہے۔ یہ تمام صورتحال ایک طرف لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام بھی چسکے خور ہے جسے چسکے لینے کا کوئی بہانہ چاہیے۔ جیسے چند دنوں سے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کوسنائی جانے والی چودہ سال قید بامشقت ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان سے کون سی مشقت لی جائے گی۔ ان پر الزامات کی بھرمار ہے۔ لیکن انہیں سزا صرف چار الزامات ثابت ہونے پر سنائی گئی ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہو رہاہے کہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
جب سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو حراست میں لیا گیا ہے اس وقت سے افواہوں اور تبصروں پر عوام کا اچھا خاصا گزارا ہورہا تھا۔ ان پر لگائے گئے الزامات کی سماعت ایک حساس اور پیچیدہ قانونی معاملہ تھا۔ جس میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا گیاہے۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کو تمام طبقہ فکر میں پذیرائی حاصل ہو رہی ہے جن کا موقف ہے کہ اگر لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید ایک اعلیٰ ترین عسکری منصب پر فائز ہونے کے باوجود مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں تو انہیں قرا ر واقعی سزا ضرور ملنی چاہیے تھی۔ دفاعی ملکی تاریخ میں لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید آئی ایس آئی کے وہ پہلے سربرا ہ ہیں جنہیں چودہ سال قید بامشقت سنائی گئی ہے مذکورہ فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے اس گھن گرج والے خطاب کی بازگشت بھی سماعتوں میں گونج رہی ہے جس میں وہ ’لالو لال‘ چہرے کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو للکارتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ تمہارا کیا دھرا ہے ۔ آپ مجھے بے شک غدار کہیں‘ دہشت گرد کہیں‘ یا ہائی جیکر کہیں لیکن آپ میرے دل سے عوام کی محبت اور خدمت کا جذبہ نہیں نکال سکتے۔ آپ میرے اوپر جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے بھی بنائیں لیکن ایک دن آپ کو اپنے کیے کا جواب اور حساب دینا پڑے گاؒ۔ یہ تاثر زبان زد عام ہے کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے اس فیصلے کے نتیجے میں ایک نہیں کئی پنڈورا باکس کھلیں گے۔اس امر کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) قمر باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے مل کر جو فصل بوئی تھی انہیں وہ کاٹنی بھی پڑے گی کیونکہ دونوں جرنیل یہ فصل بونے میں برابرکے شریک ہیں۔ جب آسمان رنگ بدلتا ہے تو انسان بھی رنگ بدل لیتا ہے۔ شائد خواجہ محمد آصف وہ فون کال بھول گئے ہیں جو انہوں نے جنرل (ر) قمر باجوہ کو کی تھی اور کہا تھا کہ باجوہ صاحب میرا کچھ کریں میں الیکشن ہار رہا ہوں۔
قرائن ظاہر کررہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) والے اگلی قسط کے بھی شدت سے منتظر ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان کی یہ خواہش پوری ہوگی یا میاں محمد نواز شریف کے چوتھی بار وزیراعظم بننے کی خواہش کی طرح یہ بھی تشنہ رہے گی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر عائد کیے گئے کئی الزامات کا حساب کتاب ہونا ابھی باقی ہے ا ن کے لئے ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ وہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کو کسی سول عدالت میں چیلنج نہیں کرسکتے اور اس کے لئے انہیں پاک فوج کے ہی عدالتی نظام سے گزرنا پڑے گا جبکہ نو مئی کا مقدمہ بھی ابھی ادھار ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا عسکری کیریئر سسپنس اور حیرت انگیز واقعات پر مشتمل ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے بھی زبان کی ا لیٰ اتارتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر منشیات کا جو مقدمہ قائم کیا گیا تھا اس میں بھی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا پورا پورا ہاتھ تھا۔ علاوہ ازیں جب جنرل (ر) قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ قریب آرہی تھی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعیناتی ہو رہی تھی تو اس وقت بھی بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان دھرنا لے کر آگئے تھے تاکہ سید عاصم منیر کی تعیناتی کو روکا جاسکے۔ اس کارروائی میں بھی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا نام لیا جارہا ہے۔
سینیٹر فیصل واڈا ان دنوں نجی ٹی وی چینلز کے شیخ رشید احمد بنے ہوئے ہیں۔ ان کی پیش گوئیاں زبردست پذیرائی حاصل کررہی ہیں۔ ان کی یہ پیش گوئی کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے نو مئی کے حوالے سے جو معلومات فراہم کی ہیں وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ یعنی دیکھدا جاندا رہ جمہورے۔