Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

امریکی ویزے کا غلط استعمال اور مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت

بھارت میں امریکی سفارتخانے نے بھارتی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ سیاحتی ویزے کو غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بچے کی پیدائش کے لیے امریکہ آنے والوں کے سیاحتی ویزے اب مسترد ہوں گے۔
بھارت میں امریکی سفارتخانے نے واضح کیا ہے کہ امریکی نظام کا غلط استعمال کرنے کی نیت سے ٹورسٹ ویزا لینے والوں کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سفارتخانے بھارت سے سیاحتی ویزا کے لیے آنے والے درخواست گزاروں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شخص کے سفر کا اصل مقصد امریکا میں بچے کی پیدائش کروا کر اسے امریکی شہریت دلوانا ہوا تو اس کی ویزا درخواست براہ راست مسترد کر دی جائے گی۔سفارتخانے کے مطابق اگر قونصلر افسر کو شواہد یا اندازوں سے یہ یقین ہو جائے کہ درخواست گزار کا بنیادی مقصد برتھ ٹورزم ہے، تو اسے ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔سفارتخانے نے اپنے بیان میں بتایا کہ امریکا نے درخواست گزاروں کی آن لائن اور سوشل میڈیا موجودگی کی جانچ کو مزید سخت بنا دیا ہے، جو اب نہ صرف سیاحتی ویزہ لینے والوں پر بلکہ H-1Bویزا ہولڈرز اور ان کے H-4ڈیپنڈنٹس پر بھی لاگو ہوگی۔یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت میں بڑی تعداد میں ویزا درخواست دہندگان کو مطلع کیا گیا ہے کہ ان کی انٹرویوز کی تاریخیں اچانک ری شیڈول کر دی گئی ہیں، جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔
ادھر سابق بھارتی وزیر یشونت سنہا کی زیر قیادت سول سوسائٹی کے ایک گروپ نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی عدم بحالی پر کشمیری عوام میں مودی حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حال ہی میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والے سول سوسائٹی کے کنسرنڈ سیٹیزنز گروپ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں مقبوضہ کشمیرکے لوگوں میںبھارت سے بڑھتی ہوئی بیگانگی اور مایوسی کو اجاگر کیاگیاہے۔یشونت سنہا، سشوبھا بروے، ایئر وائس مارشل ریٹائرڈکپل کاک اور صحافی بھارت بھوشن نے 28سے 31اکتوبر تک مقبوضہ کشمیر گیارہواں دورہ کیاتھااورمختلف سیاسی رہنمائوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، کاروباری گروپوں، ماہرین تعلیم اور صحافیوں سے ملاقات کی تھی۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ گروپ کے گزشتہ دورے کے مقابلے میں مقبوضہ کشمیرکے عوام میں بھارت کے خلاف غم و غصہ اور ناراضگی میں اضافہ ہوا ہے ۔کشمیریوںنے وفد سے گفتگو میں مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی عدم بحالی اور مودی حکومت کے دیگر ظالمانہ ہتھکنڈوں پر تشویش ظاہر کی ۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ جموں وکشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ کی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے جس سے کشمیری عوام کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دریں اثناء غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری حریت رہنمامحمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہاہے کہ بھارت ہر صورت یاسین ملک کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر سولی پر چڑھانا چاہتا ہے۔ پاکستان ہندو کونسل کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہاکہ یاسین ملک کی رہائی کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ریاست پاکستان سے بھارت میں قید کشمیری رہنما یاسین ملک کی رہائی کے لیے اقوام متحدہ میں مقدمہ دائر کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ ریاست پاکستان اور پوری قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ یاسین ملک کی رہائی کے لیے آواز بلند کرے ۔ مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کا پورا سیاسی سفر امن، مذاکرات اور انسانی حقوق کی جدوجہد پر مبنی ہے۔ حالیہ حالات میں بھی انہوں نے امن کا پیغام دیا اور پلوامہ کی صورتحال کے باوجود مذاکرات کے حامی رہے۔انہوںنے کہا کہ بیرونی دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی زمینی صورتحال اور کشمیری عوام کودرپیش مشکلات سے آگاہ کرنے کیلئے ایک ڈیجیٹل ریفرنڈم کرایا جائے گا۔مشعال ملک نے کہا کہ “سیو یاسین ملک مہم میں شامل تمام افراد کے شکر گزار ہیں، لیکن اب یہ آواز ہر گھر تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ آئندہ دنوں میں ایک بڑی عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی جس میں گھر گھر جا کر آگاہی فراہم کی جائے گی، یونیورسٹی طلبہ تک رسائی حاصل کی جائے گی، گراس روٹ لیول پر والنٹیئر نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، ملین لوگوں تک ڈیجیٹل آگاہی فراہم کی جائے گی اور عالمی سطح پر رابطے بڑھائے جائیں گے۔ا نہوںنے کہا کہ بیرونی دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی زمینی صورتحال اور کشمیری عوام کودرپیش مشکلات سے آگاہ کرنے کیلئے ایک ڈیجیٹل ریفرنڈم کرایا جائے گا۔انہوں نے مزیدکہاکہ اس مہم کوعالمی سطح پراجاگر کرنے کیلئے ایک خصوصی ویب سائٹ لانچ کی جائے گی ۔اس موقع پرپاکستان ہندو کونسل کے پیٹرن ان چیف رمیش کمار نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ تنازعہ ہے اور یاسین ملک اور مشعال ملک کی جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ جدوجہد ایک دن ضرور کامیاب ہو گی اور کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں