Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

للکار مولانا ارشد مدنی ، موت قبول وندے ماترم نہیں

دنیا کے وسیع فکری افق پر جب ہم عقائد، اقدار اور قومی وحدت کے سوالات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ متمدن معاشروں کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کو مکمل مذہبی آزادی اور باوقار زندگی گزارنے کا حق دیتے ہیں، آئینی اصولوں کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو ہندوستان کا دستور بھی اسی ہم آہنگی اور تکثیریت کا آئینہ دار ہے، جہاں ہر فرد کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت حاصل ہے۔ اسی تناظر میں ’’وندے ماترم‘‘ سے متعلق بحث محض ایک گیت یا نعرے تک محدود نہیں، بلکہ عقیدے کے احترام، قومی وحدت اور باہمی رواداری کا اہم ترین مسئلہ ہے۔مولانا ارشد مدنی اور دیگر مذہبی رہنما اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمان وطن سے محبت ضرور کرتا ہے، مگر عبادت صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے، لہٰذا ’’وندے ماترم‘‘ کے ان اشعار پر تحفظات ایک اعتقادی اصول کے تحت ہیں نہ کہ کسی سیاسی مخالفت کے باعث، جب ہم حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حب الوطنی کا تعلق دل کی گہرائیوں، وفاداری اور عملی کردار سے ہے، نہ کہ نعروں اور دباؤ سے،ہندوستان جیسے ملک میں ضروری ہے کہ ایسے حساس مسائل کو احترام، فہم اور آئینی دائرے میں حل کیا جائے، تاکہ ملکی اتحاد، رواداری اور باہمی اعتماد ہمیشہ مضبوط رہے، بھارتی پارلیمنٹ میں وندے ماترم پربحث کے پس منظرمیں صدرجمعیت علماءہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہمیں کسی کے وندے ماترم پڑھنے اورگانے پراعتراض نہیں مگرہم یہ بات ایک بارپھرواضح کردینا چاہتے ہیں کہ مسلمان ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اوراپنی اس عبادت میں کسی دوسرے کوشریک نہیں کرسکتا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وندے ماترم نظم کے مشمولات شرکیہ عقائد وافکارپرمبنی ہیں، بالخصوص اس کے چاراشعارمیں واضح طورپر وطن کو برادر وطن کے معبود ’درگاماتا‘ سے تشبیہ دے کراس کی عبادت کےلیے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں، جوکسی بھی مسلمان کے بنیادی عقیدے اورایمان کے خلاف ہے۔ ہندوستان کا دستورہرشہری کومذہبی آزادی (دفعہ (25) اوراظہاررائے کی آزادی (دفعہ 19) فراہم کرتا ہے۔ان دفعات کے تحت کسی بھی شہری کواس کے مذہبی عقیدے اورجذبات کے خلاف کسی نعرے، گیت یا نظریے کواپنانے پرمجبورنہیں کیا جاسکتا،مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کا بھی یہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی شہری کوقومی ترانہ یا کوئی ایسا گیت گانے پرمجبورنہیں کیا جاسکتا، جو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہو،انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت الگ چیز ہے اوراس کی عبادت دوسری چیز۔ مسلمانوں کواس ملک سے کتنی محبت ہے اس کے لیے ان کو کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے، ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ حب الوطنی کا تعلق دلوں کی وفاداری اورعمل سے ہے، نعرے بازی سے نہیں،انہوں نے وندے ماترم کے تناظرمیں کہا کہ تاریخی ریکارڈ بالکل واضح ہے کہ 26 اکتوبر1937 کورابندرناتھ ٹیگورنے پنڈت جواہرلال نہروکوایک خط میں مشورہ دیا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتدائی دوبندوں کوقومی گیت کے طورپرقبول کیا جائے، کیونکہ بقیہ اشعارتوحید پرست مذاہب کے عقائد سے متصادم ہیں،یہی بنیاد تھی جس پرکانگریس ورکنگ کمیٹی نے 29 اکتوبر 1937 کوفیصلہ کیا کہ صرف دوبندوں کوقومی گیت کے طورپرمنظورکیا جائے،اس لیے آج ٹیگورکے نام کا غلط استعمال کرکے جبراً اس نظم کومسلط کرنے یا اس کے مکمل گانے کی بات کرنا نہ صرف تاریخی حقائق کوجھٹلانے کی کوشش ہے بلکہ ملکی وحدت کے تصورکی توہین اورگروجی ٹیگورکی تحقیربھی ہے،یہ بھی قابل افسوس ہے کہ لوگ اس کوتقسیم ہند سے جوڑتے ہیں جبکہ رابندرناتھ ٹیگورکا مشورہ قومی وحدت کے لیے تھا،`مولانا ارشد مدنی نے زوردیا کہ وندے ماترم سے متعلق بحث دراصل مذہبی عقائد کے احترام اورآئینی آزادی کے دائرے میں ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی الزام تراشی کے اندازمیں،جمعیت علماءہند تمام قومی رہنماوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ایسے حساس مذہبی تاریخی معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ ملک میں باہمی احترام، رواداری اور اتحاد کو فروغ دینے کی اپنی آئینی ذمہ داری پر کار بند رہیں۔”وندے ماترم“ بنکم چندرچٹرجی کے ناول”آنند مٹھ“ سے ایک اقتباس ہے، *اس کی کئی سطریں اسلام کے مذہبی اصولوں کے خلاف ہیں، اسی لیے مسلمان اس گانے کو گانے سے گریزکرتے ہیں۔ “وندے ماترم” گانے کا پورا مطلب ہے “ماں، میں تیری پوجا کرتا ہوں۔ ماں، میں تمہاری عبادت کرتا ہوں۔یہ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ یہ گانا ہندو دیوی ماتا درگا کی تعریف میں گایا گیا ہے، نہ کہ مادر وطن ہندوستان کے لیے۔وندے ماترم درگا کی تعریف میں لکھا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اسلام توحید پرمبنی ایک مذہب ہے، جوایک ایسے اللہ، اوم اورایشورکی عبادت کرتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے، ہمیشہ سے ہے اورہمیشہ رہنے والا ہے اور ہرچیزپراس کوقدرت ہے۔کسی ملک یا ماں کی پوجا کرنا اس توحیدی اصول سے متصادم ہے۔وندے ماترم گانا ماں کے سامنے جھکنے اوراس کی پوجا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ اسلام اللہ کے علاوہ کسی کے آگے سرجھکانے اورکسی کی عبادت کرنے سے منع کرتا ہے۔ہم ایک خدا کے ماننے والے ہیں، ہم خدا کے علاوہ کسی کونہ اپنا معبود مانتے ہیں اورنہ ہی کسی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، اس لیے اس کوہم کسی حال میں بھی قبول نہیں کرسکتے۔ مر جانا توقبول ہے، لیکن شرک کرنا قبول نہیں ہے۔ مریں گے تواسلام پراورجییں گے تواسلام پر۔یہ کہنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ بھارت جیسے جمہوری ملک میں مسلمانوں یا کسی بھی مذہبی طبقے کو کسی مخصوص نعرے، گیت یا نظریے کا پابند بنانا نہ صرف غیرآئینی ہے بلکہ انصاف کے تقاضوں کے بھی سراسر منافی ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کے مذہبی احساسات اور آئینی حقوق کا احترام کرے، نہ کہ ان پر ایسے مطالبات مسلط کرے جو ان کے مذہبی اصولوں سے ٹکراتے ہوں۔کسی بھی مہذب قوم میں اقلیتوں کے ساتھ سختی، دباؤ یا زبردستی کے رویّے کو ریاستی کمزوری سمجھا جاتا ہے، طاقت نہیں۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنے آئین کی روح کے مطابق مسلمانوں کے جائز مذہبی تحفظات کو تسلیم کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو ملک کی تکثیری شناخت اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائیں۔جمہوریت میں وفاداری کے سرٹیفکیٹ زبردستی نہیں دیے جاتے، بلکہ انصاف، احترام اور آزادی کے ذریعے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر بھارت اپنے تمام شہریوں کے ساتھ مساوی برتاؤ نہیں کرے گا تو یہ رویّہ نہ صرف مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائے گا بلکہ ملک کی ساکھ اور وحدت کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔

یہ بھی پڑھیں