Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

بھارت دہشت گردی اور انتہا پسندی کا عالمی مرکز

چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہاہے کہ بھارت دہشت گردی اور انتہا پسندی کا عالمی مرکز بن چکا ہے ۔ طاہر محمود اشرفی نے ایک ویڈیو پیغام میں بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کی طرف سے ایک مسلم خاتون کا حجاب زبردستی اتارنے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت اس وقت انتہاپسندی کا مرکز بن چکا ہے۔ اس واقعے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ او آئی سی ،معرب لیگ اورپورے عالم اسلام کو بھارت سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں ہندوتوا بی جے پی کی حکومت کے دور میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے ساتھ رواامتیازی سلوک جاری ہے انہیں منظم طریقے سے وحشیانہ ظلم وتشدد کانشانہ بنایا جارہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعلی کے عہدے پر فائز شخص کی طرف سے مسلم خاتون کا زبردستی حجاب اتارنا انتہائی شرمناک اور قابل مذمت اقدام ہے ۔طاہر محمود اشرفی نے کہاکہ مودی کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت بھارت ایک دہشت گرد ریاست بن چکاہے اور بھارت کینیڈا، برطانیہ ، امریکہ اور آسڑیلیامیں دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ بھارت پاکستان میں بھی براہ راست طورپر دہشتگردوں کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے سیکریٹری جنرل او آئی سی ، عرب لیگ کے سربراہ اور عالم اسلام کے ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس انتہائی شرمناک اور قابل مذمت واقعے پر بھارت سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں ۔
دوسری طرف آسٹریلیا میں عالمی دہشت گردی کے ایک اور واقعے میں فلپائن کے امیگریشن حکام نے دعویٰ کیاہے کہ مبینہ حملہ آور ساجد اکرم اور اس کا بیٹا نوید اکرم نومبر میں فلپائن میںایک ماہ تک مقیم رہے تھے ۔ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ساجد اکرم فلپائن میں بھارتی شہری کے طور پر داخل ہوا جب کہ اس کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلوی شہری ہے۔ بی بی سی نے دعوی کیا ہے کہ حملہ آوروں نے فلپائن میں ملٹری ٹریننگ حاصل کی۔دونوں یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر تک وہاں مقیم رہے ۔آسٹریلوی پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق حملہ انتہا پسند نظریات سے متاثر ہو کر کیا گیاہے۔حکام کے مطابق حملہ آوروں کی گاڑی سے دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور شدت پسند تنظیم سے منسوب جھنڈے بھی برآمد ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد کئی زخمیوں کو سڈنی کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ واقعہ انتہا پسند سوچ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے اور اس حوالے سے سیکیورٹی ادارے مکمل تحقیقات کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد آسٹریلیا میں اسلحہ قوانین پر نظرثانی اور سیکیورٹی مزید سخت کرنے پر بھی غور شروع کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پرساجد اکرم اور نوید اکرم نے فائرنگ کرکے 15 افراد کو ہلاک کردیا تھا اور واقعے میں متعدد شہری زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایک اور واقعے میں بنگلا دیش نے بھارت نواز سابق مفروروزیراعظم شیخ حسینہ واجد پر ملک میں سیاسی تشدد اور قتل کی سازشوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے بھارت سے باضابطہ احتجاج کیا ہے۔
بنگلا دیشی وزارتِ خارجہ نے ایک سیاسی کارکن پر قاتلانہ حملے کے بعد بھارتی سفیر کو طلب کیا اور معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مفرور شیخ حسینہ واجد آئندہ عام انتخابات کو متاثر کرنے کے لیے دہشت گردی کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور اس ضمن میں بھارت میں موجود عناصر سہولت کاری کر رہے ہیں۔بیان کے مطابق سیاسی کارکن عثمان ہادی پر فائرنگ کا واقعہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس میں وہ شدید زخمی ہوئے۔بنگلہ دیشی حکام کے مطابق عثمان ہادی کو ماضی میں بھی دھمکیاں ملتی رہی ہیں اور ان دھمکیوں میں بھارت کے فون نمبرز کے استعمال کا دعوی کیا گیا ہے۔ بنگلا دیشی وزارتِ خارجہ نے مطالبہ کیا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے بنگلا دیش کے حوالے کیا جائے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی کے مطابق بنگلا دیش کا موقف ہے کہ بھارت میں مقیم عوامی لیگ کے بعض رہنما بنگلا دیش میں تشدد بھڑکانے اور انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں ملوث ہیں۔ اس تناظر میں ڈھاکا نے نئی دہلی سے تعاون اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔
دریں اثناء غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی چارج شیٹ دائر کی ہے، جس میں سات افراد اور ایک تنظیم کا نامزدکیا گیا ہے۔
این آئی اے نے 1597 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ جموں کی ایک خصوصی عدالت میں دائر کی ہے جسے ناقدین نے بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی اور پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔حکام نے دعوی کیا ہے کہ چارج شیٹ میں مبینہ سازش، ملزمان کے مبینہ کردار اور اس واقعے سے متعلق شواہد پیش کئے گئے ہیں ۔بھارتی حکام کے مطابق اس حملے میں مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا جس کا الزام انہوں نے سرحد پار کے عسکریت پسندوں پرعائد کیا گیاہے۔
تاہم مبصرین نے بھارتی حکام کی طرف سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی تحقیقات کی ساکھ اور شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے متعلق واقعات کی ایک طویل تاریخ کا حوالہ دیا ہے۔چارج شیٹ میں بھارتی حکام نے دعوی کیا ہے کہ رواں سال جولائی میں سرینگر کے علاقے داچھی گام میں ایک فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد (نام نہاد ہینڈلر)اس واقعے میںملوث تھے تاہم اس دعوی کی آزادانہ طورپرتصدیق نہیں کی گئی ہے۔مبینہ طورپر حملہ آوروں کو پناہ دینے کے الزام میں رواں سال جون میں گرفتار کیے گئے دو کشمیری شہریوں کے خلاف بھی چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ چارج شیٹ جموںو کشمیر پر بھارت کے دیرینہ بیانیہ کو تقویت دینے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے اور مقبوضہ علاقے پر اپنے غیر قانونی تسلط کو طول دینے کی ایک کوشش ہے ۔ آزادانہ اورشفاف تحقیقات کے بغیر بھارتی ایجنسیوں کے مضحکہ خیز دعوے قابل قبول نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں