اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ ماضی میں ہمارے ریاستی اداروں کی ناعاقبت اندیش قیادت نے وطن عزیز کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ اس بات سے بھی اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ ان کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانا بھی ناگریز ہے۔ کیونکہ قومی مجرمان کو بھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ایک بہت اہم اور بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ان سے یہ حساب لے گا کون؟
اس سوال کا جواب نہ پاکر راقم بلاشبہ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ قدرت کے علاو ہ کوئی ایسا نظام ہمارے ریاستی ڈھانچہ میں نظر نہیں آرہا جو برسر اقتدار اشرافیہ کا محاسبہ کرسکے۔ احتساب کے نام پر انتقام کا تو ہمارے ہاں ایک موثر اور کڑا نظام قائم ہے جو ہمہ وقت حرکت میں رہتا ہے مگر صحیح معنوں میں اصل محاسبہ ہمارے ہاں محض ایک خواب ہے جو مستقبل میں بھی شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔
دراصل راقم کا اصل موضوع ’’قومی مفاہمت‘‘ تھا مگر اس پر قلم اٹھانے سے پہلے خیال آیا کہ کہیں مفاہمت کے نام پر مذکورہ بالا قومی مجرمان کو ’’تحفظ‘‘ حاصل نہ ہو جائے۔
دل تو بہت چاہتا ہے کہ سب سیاسی قوتیں ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر اپنی تمام عداوتیں اور رانجشیں بھلا دیں اور محض قومی اور ریاستی مفاد میں فیصلے کریں لیکن ان نام نہاد سیاست دانوں سے دل اس قدر متنفر ہوگیا ہے کہ اب اگر یہ لوگ کوئی اچھا کام بھی کریں تو ان کی نیت اور ارادے پر شک ہونے لگتا ہے ۔بظاہر تو اس رائے کو راقم کی منفی سوچ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
Available politicians
مگر قارئین کرام یقین جانئے ‘ اس وقت کی سیاستدانوں کی دستیاب کھیپ یعنی Available Politicians Lot میں راقم کی نظر میں کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آرہا جو ہماری ریاست کو اس بھنور سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہوں‘ چیدہ چید ہ سیاسی زعماء کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا مگر ان میں بھی صلاحیت کا فقدان یعنی Capacity Issuesاپنی جگہ پر موجود ہیں۔
ہمارے ہاں یہ رائے بھی بہت عام ہے کہ سب سے زیادہ نرم صرف یعنی Softtarget سیاست دان اور حکمران ہیں جن کو کسی بھی وقت کسی بھی جگہ کسی بھی انداز میں برا بھلا کہا جاسکتا ہے اور اصل ذمہ داران کے بارے میں کوئی بھی کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں ہے مگر قارئین کرام وطن عزیز کو آج اس حالت میں پہنچانے والوں میں مرکزی کردار پاکستان کا ’’پڑھا لکھا‘‘ باشعور شہری ہے اور اگر اجتماعی طور پر یہ ذمہ داری متعین کی جائے تو پاکستان کے عوام اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ ذمہ دار دکھائی دے رہے ہیں‘ جو دراصل ہمیشہ ان نام نہاد سیاسی قوتوں کے آلہ کار اور سہولت کار کاکردار ادا کرنا اپنے لئے اعزازسمجھتے ہیں۔
یقین جانئے ہمارے معاشرے کا ایک فرد بشمول راقم اس قدر خود غرض اور Self Centued سوچ کا مالک ہے کہ خدا کی پناہ اپنے ایک پائو گوشت کی خاطر ہمارا ’’شہری‘‘ دوسر ے ’’ہم وطن‘‘ کی بھینس ذبح کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ جھوٹ عادتاً بولا جاتا ہے ‘ مصنوعی پن اپنے عروج پر ہے ‘ مال و دولت ایمان کا حصہ دکھائی دیتا ہے ‘ دوسروں کو زچ کرنا فرض منصبی بن چکا ہے ان تمام صفات کی موجودگی میں بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام شہری ذاتی مفاد کے حصول کیلئے کس جانفشانی اور تنگ دہی کے ساتھ برائے نام سیاسی جماعتوں کے آلہ کار کا فریضہ سرانجام دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
سیاسی عمل کا عدم تسلسل اپنی جگہ لیکن سیاسی قوتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی ترجیحات یکسر تبدیل ہو جاتی ہیں ‘ رویئے عوامی نمائندگی سے کوسوں دور چلے جاتے ہیں ‘ آنکھیں نہ صرف ماتھے پر آجاتی ہیں بلکہ اس شدت کے ساتھ عوام کو گھورتی ہیں کہ خوف ہراس اپنے عروج پر مکمل طور پر جلوہ گر دکھائی دیتا ہے۔
راقم بھاری دل اور اپنے مزاج اور سوچ کے بالکل برعکس مذکورہ بالا الفاظ قلم کے سپر د کر رہا ہے۔ حقائق سے آنکھیں چرانا اور اصل خودہی کو دیکھنے کے مترادف ہے۔ راقم کے ان خیالات سے ہرگز یہ نتیجہ اخذ نہ کیا جائے کہ خدانخواستہ قومی مفاہمت کو خیرباد کہہ کر ہمارے زعماء ایک دوسر ے کے ساتھ دست و گریباں ہونے کا ’’قومی فریضہ‘‘ ادا کرتے رہیں ‘ ہرگز نہیں‘ مفاہمت کا عمل ریاستی اور قومی امور میں جادو کا سا اثر رکھتا ہے ‘ مگر جان لیجئے کہ ہمارے ’’قائدین‘‘ کیلئے مفاہمت اور قومی مفاد کے مقابلہ میں اپنی سیاسی ’’دکانداری‘‘ کو کہیں زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور یقین جانئے بعض زعماء تو مفاہمت سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ شائد وہ حقیقی اور طبعی موت سے بھی اتنا نہ ڈرتے ہوں جتنے وہ مل بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات کرنے کو بارودی سرنگ سمجھتے ہیں جس پر چلنے سے ان کی عوامی مقبولیت متاثر ہوسکتی ہے۔
جہاں طرز فکر یہ ہوگا قارئین کرام آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ان زعماء کے دل میں عام آدمی کے مفادسے کتنا لگائو ہوگا‘ بہرحال یہ بات قابل بحث ہے کہ مفاہمت کا راستہ کس حد تک قومی مفاد میں ہے اور کس حد تک ریاستی مجرمان کو تحفظ حاصل ہوسکتا ہے ‘ لیکن اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار بہرحال کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے کہ ہمیں موجودہ صورتحال سے نکلنے کیلئے کوئی نہ کوئی حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ مسائل کی نشاندہی اور اپنے اندر پائی جانے والی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو تو اجاگر کرلیا جائے مگر حل کی طرف کوئی عملی اور ٹھوس اقدامات کو صرف نظر کر دیا جائے۔
یقینا ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہمیں اپنی نیت کو ٹھیک کرنا ہے اور اس ارادے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے کہ اس ملک کو لوٹنے والے بھی نہ بچ سکیں اور وطن عزیز کی سمت بھی درست ہو جائے‘ کیونکہ قارئین کرام سمت کا تعین قوموں کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت کاحامل عنصر ہے اس کے بغیر ہماری حیثیت ایک شتر بے مہار سے زیادہ کچھ نہیں۔
راقم کی آج اپنے خیالات کو اپنے قارئین تک پہنچانے کا سب سے بڑا محرک آج کل سننے میں آنے والی قومی مفاہمت کی بازگشت ہے ‘ جو بظاہر کامیاب ہوتی ہوئی نہیں دکھائی دے رہی‘ اس وقت تک جب تک ایک عام شہری سے لے کر اعلیٰ سطح کی قیادت تک نیت کی صفائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔ جب تک اس خیال کو دل اور دماغ سے نہیں نکالا جاتا کہ جماعت اور افراد کا مفاد ریاست کے مفاد کے تابع ہے۔