Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ہیجانی بیانئے اور قیاس آرائیاں

یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سیاسی عدم استحکام کا دور پوری طرح ختم نہیں ہوا ۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچتی جا رہی ہے۔ حزب اختلاف ایک مرتبہ پھر احتجاج کی جانب مائل ہے ۔حزب اختلاف کی جماعتوں کا اتحاد جسے ’’تحریک تحفظ ائین پاکستان‘‘کا نام دیا گیا تھا، وہ بھی گلی گلی کوچے کوچے عوام کو احتجاج کے لیے متحرک کرنے کی کاوشیں کر رہا ہے۔ اس اتحاد میں سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف ہی ہے جبکہ دیگر اتحادی عوامی حمایت اور اسمبلی میں نشستوں کے اعتبار سے بڑی جماعتوں کی فہرست میں شمار نہیں کی جاتیں۔ تحریک تحفظ ائین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی سیاسی حلقوں میں ذاتی حوالے سے تو ایک خاص شہرت کے حامل ہیں لیکن ان کی جماعت کبھی بھی ملک گیر ہونے کا رتبہ حاصل نہیں کر پائی۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت بھی قومی منظر نامے پر ذاتی حوالے سے کوئی خاص تاثر قائم کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے ۔یہی وجہ ہے کہ جماعت کی حالیہ احتجاجی تحریک میں جان ڈالنے کے لیے صوبہ کے پی کے وزیراعلی سہیل آفریدی کو مرکزی کردار تفویض کیا گیا ہے۔ حزب اختلاف کے احتجاج کو گلی کوچوں تک پھیلانے کے لیے انہوں نے سب سے پہلے صوبہ پنجاب کا دورہ کیا اور اب وہ سندھ کا دورہ بھی مکمل کر چکے ہیں ۔دورہ لاہور میں جو سیاسی بدمزگی پھیلی اس کی ذمہ داری دونوں فریقین پر یکساں عائد ہوتی ہے۔
یہ امر باعث تشویش ہے کہ تحریک انصاف سیاسی گفتگو اور سرگرمیوں میں بد زبانی اور ذاتی کردار کشی کے رجحان سے ازاد نہیں ہو پائی۔ تاہم یہ بات قدرے خوشگوار حیرت کا باعث بنی کے دورہ سندھ میں صوبائی حکومت نے سہیل آفریدی کو کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ اگرچہ وزیراعلی کے پی دورہ پنجاب اور دورہ سندھ سے کوئی بڑی عوامی احتجاجی تحریک شروع کرنے میں کامیاب تو نہیں ہو پائے تاہم تحریک انصاف کے حلقے کراچی میں عوامی اجتماعات کو تسلی بخش قرار دے رہے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے تحریک انصاف نے احتجاج کے نام پر کوئی بڑا عوامی اجتماع منعقد نہیں کیا اور جماعت کا زیادہ انحصار سوشل میڈیا پر ہی رہا ہے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر سیاسی بیانئے کے نام پر گالم گلوچ، کردار کشی اور بے سروپا الزامات کے سوا تحریک انصاف کے حامی کوئی با مقصد کاروائی کرنے سے قاصر رہے ہیں۔ گو کہ تحریک انصاف آٹھ فروری 2024 ء کے انتخابات کو مسترد کرتی رہی ہے لیکن انتخابات کا وہ حصہ جس کے تحت صوبہ خیبر پختون خواہ میں اس کی حکومت قائم ہوئی اسے وہ مستند قرار دیتی ہے۔ جماعت کے بانی چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری نے تحریک انصاف میں قیادت کے خلا کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے بیرون ملک مقیم بعض وی لاگرز اور یوٹیوبرز نے جماعت کے سیاسی بیانیے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ صوبہ کے پی میں حکومتی کارکردگی کو عوامی مسائل کے حل کرنے پر خرچ کرنے کے بجائے تحریک انصاف نے بے سروپا احتجاج میں اپنی توانائیاں ضائع کی ہیں۔ سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی حیران کن تبدیلی جماعت کے سیاسی فہم اور فیصلہ سازی کی صلاحیت پر بہت بڑا سوال بن کر سامنے آئی ہے۔
ضرورت اس امر کی تھی کہ وزیراعلی صوبے میں جماعت کی کارکردگی کو بہتر بناتے جبکہ مرکزی قیادت پورے ملک میں اپنے سیاسی بیانیے کی ترویج کے لیے کوشاں رہتی لیکن سارا معاملہ اس کے برعکس ہوا ہے ۔ماضی میں علی امین گنڈا پور نے پنجاب اور وفاقی دارالحکومت پر احتجاج کے نام پر چڑھائیاں کیں۔ اس غیر سنجیدہ طرز عمل نے جماعت کے سیاسی بیانیے اور ساکھ کو بے حد نقصان پہنچایا ہے۔ سابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور اپنی جماعت کے جنگجو مزاج حامیوں کی تنقید کا نشانہ بن کر وزارت عالیہ سے محروم ہوئے۔ موجودہ وزیراعلی سہیل آفریدی بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ جماعت کے جنگجو مزاج حامی اور وی لاگرز نے ایک ایسا دبا پیدا کر دیا ہے کہ وزیراعلی سہیل افریدی بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کے بجائے احتجاجی سرگرمیوں پر مائل ہیں ۔وفاقی حکومت کے ساتھ سیاسی کشیدگی کی کیفیت میں ان کا ملک کے سب سے بڑے صوبے میں احتجاج کی قیادت کرنا کسی لحاظ سے بھی سیاسی دانشمندی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس غیر سنجیدہ کاروائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تلخی پورے ملک میں محسوس کی گئی ہے۔ بہتر ہوتا کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت احتجاج کا معاملہ اپنے ہاتھ میں لیتی۔ دوسری جانب حکومت وقت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے ترجمانوں اور بعض وزرا کو تلخ کلامی سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کرے۔ ملک کو داخلی سلامتی، سرحد پار دہشت گردی اور معاشی استحکام کی بحالی جیسے سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان حالات میں سیاسی کشیدگی کے بجائے قومی مسائل پر اتفاق رائے کی فضا قائم کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے ۔اس معاملے میں بدقسمتی سے حکومت وقت کوئی خاص توجہ دینے میں ناکام رہی ہے۔ قومی منظر نامے پر بعض چیزیں حوصلہ افزا ہیں ۔سول اور عسکری قیادت کے درمیان اشتراک عمل کے نتیجے میں سفارتی اور معاشی محازوں پر پاکستان نے قابل قدر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے حکومت کے سیاسی مخالفین سے پاکستان کا یہ مثبت سفر برداشت نہیں ہو رہا ۔ بیرون ملک مقیم بعض نا عاقبت اندیش یوٹیوبرز اور وی لاگرز نے افواہوں کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔بے بنیاد قیاس آرائیوں کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں چند مہینوں کی مہمان ہیں۔ متعلقہ حلقوں اور اداروں نے ان بے بنیاد افواہوں اور قیاس آرائیوں کی واضح الفاظ میں تردید کر دی ہے۔ حزب اختلاف کو بھی چاہیے کہ افواہوں اور گالم گلوچ کی بنیاد پر احتجاجی تحریک کو استوار کرنے کے بجائے ٹھوس سیاسی بیانیے اور مثبت حکمت عملی کے ذریعے عوام کو اپنے موقف پر قائل کرے ۔
بدقسمتی سے تحریک انصاف سیاسی استحکام، سرحد پار دہشت گردی، غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی واپسی اور معاشی استحکام کی بحالی جیسے اہم قومی امور پر کوئی واضح لائے عمل دینے سے قاصر رہی ہے۔ خاص طور پر سرحد پر دہشت گردی کے حوالے سے ایک قومی جماعت ہونے کی حیثیت ہے تحریک انصاف کی موجودہ حکمت عملی اس وقت شدید تنقید کا شکار بن رہی ہے۔ اسی طرح دیگر سیاسی امور کو نظر انداز کر کے تمام سیاسی قوت بانی چیئرمین کی رہائی پر مرکوز کرنا بھی ایک درست طرز عمل نہیں ہے۔ بڑے عوامی اجتماعات اور پہیہ جام ہڑتالوں کے ذریعے عوامی رائے کو تو اپنے حق میں ہموار کیا جا سکتا ہے لیکن جن مقدمات میں تحریک کے بانی چیئرمین عدالتوں سے سزا پا چکے ہیں اس کا توڑ صرف اور صرف قانونی لائحہ عمل اور عدالتوں سے ہی ممکن ہے ۔اسی طرح تحریک انصاف کو سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔صوبہ کے پی اس وقت سرحد پار دہشت گردی کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی حالیہ رپورٹ نے یہ بیان کیا ہے کہ افغان طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ تحریک انصاف صوبے میں تیسرا عہد حکومت پورا کر رہی ہے۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کی کارکردگی پر شدید اور سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی جماعت ہونے کے ناطے تحریک انصاف بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے سیاسی استحکام اور سرحد پار دہشت گردی جیسے اہم امور پر افواہ سازی اور قیاس ارائی سے گریز کرتے ہوئے عقل و فہم کی بنیاد پر ملکی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے قابل عمل حکمت عملی اختیار کرے۔

یہ بھی پڑھیں