Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ریڈیو سیلون اور سری لنکا

ہوائی جہاز اب سری لنکا کے دارلحکومت کولمبو اترنے کے قریب تھا۔ میں نے اپنی نگاہیں کھڑکی سے باہر جما دیں ۔ موسم ابر آلود تھا ۔ بڑے بڑے سیاہ و سفید بادلوں کے مہیب ریلوں کو چیرتا ہوا جہازجب اور نیچے اترا تو میں شہر کو ڈھونڈنے لگا ، دور دور تک درخت ،سبزہ اور ہریالی نظر آرہی تھی،یوں لگا جیسے شہر سبز چادر اوڑھے سو رہا ہو۔ہوٹل پہنچا تو کمرے کی کھڑکی کھولتے ہی بحرِہند میرے سامنے تھا۔ سمندر کی نیلی سفید لہریں اچھل اچھل کر آپس میں کھیلتے کودتے دور غروب ہوتے سورج کی طرف رواں دواں تھیں۔
اچانک دروازے پر ہلکی سی دستک سے میں چونک اٹھا، دروازہ کھولا تو سامنے ایک نوجوان کھڑا تھا۔پتلا دبلا ، لمبا قد، چہرے پر ہلکی داڑھی، لبوں پر ایک دلاآویز مسکراہٹ اور آنکھوں میں اپنائیت کی چمک۔یہ محمد رشدی ہادی تھا جس سے میری شناسائی پیشہ وارانہ حوالے سے انٹرنیٹ کے زریعے ہوئی جو وقت کے ساتھ دوستی میں بدل گئی۔ اس نے مجھے روائتی مسلمانوں کے انداز میں بغلگیرکیا، اور حال احوال پوچھنے کے بعد بولا۔ چلو باہر کھانے کو چلتے ہیں ۔رشدی نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی ایک سڑک پر ڈال دی۔ میں کولمبو کو دیکھ رہا تھا اور گفتگو بھی جاری تھی۔رشدی یہ بتائو، سری لنکا میں مسلمان کتنی تعداد میں ہیں اور ان کے حالات کیسے ہیں؟رشدی ہلکا سا مسکرایااور بولا۔ سری لنکا کی کل آبادی تقریباً ۲۳ ملین ہے ، بدھ مت اکثریتی مذہب ہے ، اس کے بعد مسلمان اور ہندو ہیں جن کی تعداد تقریبا ً برابر ہے جو کل آبادی کا ملا کر ۲۳ فیصد ہے۔ مذہب کی بنیاد پر کوئی لڑائی جھگڑا نہیں اور سب اپنے مذہب کے مطابق آزادی سے رہ رہے ہیں۔ رشدی نے مزید بتایا کہ کولمبو کا اکثریتی کاروبار مسلمانوں کے پاس ہے۔ میں باہر کا منظر بھی دیکھ رہا تھا۔ پرانی عمارتیں، سڑک کنارے بنی ویسی ہی خستہ حال دکانیں جیسی ہمارے ہاں اندرون شہروں میں دکھائی دیتی ہیں۔نہ کوئی ترتیب نہ کوئی نقشہ۔ رشدی کیا یہ کوئی پرانا علاقہ آگیا ہے؟ رشدی بولا جی سری لنکا نئے اور پرانے شہر کا امتزاج ہے۔ اس کے علاوہ،۶۶۵ ایکڑ پر محیط بحر ہند کے کنارے ایک وسیع و عریض جدید شہر بھی بنایا جا رہا ہے جسے نیو پورٹ سٹی کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں دنیا کی ہر سہولت ہو گی، مقامی کرنسی کے بجائے ڈالرز ہی میں لین دین ہوا کرے گا۔یہ ایک نئی سوچ کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ سیاحت کو بھی فروغ ہو اور سری لنکا جو حال ہی میں نا دہندہ قرار دے دیا گیا تھا، اپنے پیروں پر نہ صرف کھڑا ہو بلکہ دوڑنے لگ جائے۔یہ نیا شہر ہی نہیں، معیشت کو کھڑا کرنے کا ایک نیا راستہ ہو گا۔
کھانا کھانے کے دوران حلال حرام پر بات چل نکلی۔ رشدی نے بتایا کہ یہاںآپ کسی جگہ سے کسی بھی طرح کا گوشت کھا لیں وہ حلال ہو گا۔ مجھے کشمکش میں دیکھ کر وہ پھر بولا۔یہاں حلال ادارہ موجود ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جانور حلال معیار کے مطابق مسلمان کے ہاتھ سے ہی ذبح ہو۔ ہرسو ہریالی اور سبزے کے حوالے سے رشدی نے بتایا کہ سری لنکا میں بارشیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔سو یہاں نباتات کی کثرت ہے۔ سری لنکا جڑی بوٹیوں سے مالامال ہے اور یہاں آیو ویدک طرزِعلاج بہت مقبول ہے۔ بہترین چائے کے باغات ہیںجہاں سے چائے دنیا بھر میں برآمد کی جاتی ہے۔
اگلے دن گاڑی میں بیٹھتے ہی میں بولا۔ میں نے ریڈیو سیلون دیکھنا ہے۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ ریڈیو سیلون؟ شاید آپ سری لنکا براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی بات کر رہے ہیں۔ ادھر اُدھر گھومنے کے بعد رشدی نے گاڑی ایک جگہ پارک کی اور بولا۔یہاں سے آگے پیدل جانا ہو گا۔شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے، سورج غروب ہونے کی تیاری میں تھا اور ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔ میں بڑے غور سے کسی پرانی عمارت کی کھوج میں تھا ۔ ایک نئی سی خوشنما عمارت کے سامنے رک کر رشدی نے اعلان کیا۔یہ رہا آپ کا ریڈیو سیلون ۔ میرے اندر مایوسی کی ایک دل شکن لہر سی اٹھی۔ شاید اب اس تاریخ کو مٹادیا گیا ہے؟۔ اتنے میں عمارت کے باہر گشت کرتا ایک چوکیدار ہماری طرف بڑھا۔ رشدی کے پوچھنے پر وہ بولا۔ پرانی عمارت اس نئی عمارت کے پیچھے ہے ،کچھ سوچ کر اس نے مین گیٹ کھول کر کہا۔ آپ اندر جا کر دیکھ سکتے ہیں۔مجھے یوں لگا جیسے کسی نے گیٹ نہیں تاریخ کا کوئی در کھول دیا ہو۔
یہ ۱۹۲۲ میں بی بی سی کے قیام کے بعد دنیا کا دوسرا اور ایشیا کا پہلا ریڈیو سٹیشن تھا ۔ ۱۹۲۳ کا ذکر ہے جب سیلون ٹیلی گراف ڈیپارٹمنٹ کے چیف انجینئر ایڈورڈ ہارپر نے پہلی جنگِ عظیم میں قبضہ کی گئی ایک جرمن آبدوز سے کچھ آلات نکال کر تجرباتی نشریات کا آغاز کیا اور پورے خطے میں براڈ کاسٹنگ کا باپ کہلایا۔ رسمی آغاز ۱۶ دسمبر ۱۹۲۵ کو کولمبو ریڈیو کے نام سے ہوا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران ۱۹۴۴ میں برطانوی فوج نے اس پر قبضہ کر کے اس کا نام سائوتھ ایسٹ ایشیا کمانڈ ((SEAC رکھ دیا۔ایک طاقتور ٹرانسمیٹر نصب کیا گیا تاکہ جرمن اور جاپانی پروپیگنڈے کا مقابلہ کیا جا سکے ۔ آزادی کے بعد یہ سرکار کو واپس ملا ۔ ۱۹۴۹ میں اس کا نام ریڈیو سیلون رکھا گیا اوراسکے بعد اس کا سنہری دور شروع ہوا۔ ۱۹۵۲ میں جب بھارت میں آل انڈیا ریڈیو پر فلمی موسیقی پر پابندی لگی تو ریڈیو سیلون نے ہندی سروس کا آغاز کر دیا جس سے اس کی آواز نا صرف ہندوستان بلکہ پاکستان ، افغانستان اور خلیجی ریاستوںتک پھیل گئی ۔ معروف صدا کار امین سیانی کی میزبانی میں پروگرام بناکا گیت مالا شروع کیا گیا جو انتہائی پسند کیا گیا۔دیگر مقبول صدا کاروں میں سنیل دت (معروف اداکار)،وجے کشور،گوپال شرما،منوہر مہاجن اور حسن رضوی کے نام شامل ہیں۔ ریڈیو سیلون نے پاکستانی فنکاروں اور موسیقی کو بھی برِصغیر میں متعارف کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ہندی، انگریزی، سنہالی اور تامل زبانوں میں بھی دیگر ثقافتی اور تعلیمی پروگرام شروع کئے گئے جس میں سکول براڈ کاسٹنگ سروس قابلِ زکر ہے جس نے پورے ایشیا میں علمی اور فکری بیداری میں تاریخی کردار ادا کیا۔ریڈیو سیلون کی صوتی قوت اور وسعت کی وجہ سے اسے ہوائی لہروں کا بادشاہ بھی کہا جانے لگا۔ ۱۹۶۷ میں یہ پبلک کارپوریشن بنا اور ۱۹۷۲ میں جب سیلون کا نام سری لنکا رکھا گیا تو اس کا نام بھی سری لنکا براڈ کاسٹنگ کارپوریشن رکھ دیا گیا۔ریڈیو سیلون نے محض تفریح نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک مشترکہ تعلیمی اور ثقافتی پلیٹ فارم کا کردار ادا کیا۔یہ ر یڈیو کی تاریخ کا ایک تابناک باب ہے جس نے دسمبر ۲۰۲۵ میں اپنے سو سال پورے کر کے اہم سنگ میل بھی عبور کیا۔
میں عمارت کے اندر در و دیوار کو دیکھ رہا تھا جہاں انگریزی میں جگہ جگہ آر۔ سی(R,C ( یعنی ریڈیو سیلون لکھا ہوا تھا۔ لائبریری میں داخل ہوتے ہی گزرے دنوں کی خوشبو نے مجھے جکڑ لیا۔ یہاں پرانے گراموفون، ڈسک اور ٹیپس کا ریکارڈ محفوظ ہے جن کی تعداد۲۰۲۳ کے جائزے کے مطابق ڈھائی لاکھ ہے اور یہ ایشیا کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔باہر ایک دیوار پر افتتاحی پتھر بھی نصب تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ وہی پتھر ہے جس کے گرد کھڑے افراد افتتاح کے وقت تالیاں بجا رہے ہو ں گے اور ان کو اندازہ بھی نہیں ہو گا کہ آنے والے دنوں، مہینوں اور سالوں نہیںبلکہ صدیوں تک اس ریڈیو کے لئے پوری دنیا تالیاں بجاتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں