Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی طورپرتسلیم شدہ متنازعہ علاقہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان نے واضح کیاہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں بلکہ بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ جنرل اسمبلی میں پاکستانی مندوب آصف خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی مندوب کے ناقابل قبول اور بے بنیاد دعوئوں پر اپنے جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے گزشتہ کئی دہائیوں سے جموں و کشمیر کے عوام کو ان کے بنیادی حق خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مظلوم کشمیریوں کو محکوم رکھنے کیلئے بھارتی قابض فورسز انہیں مسلسل ظلم و تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نشانہ بنا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ نوآبادیاتی ممالک اور عوام کو آزادی دینے سے متعلق اعلامیہ میں واضح طور پرتوثیق کی گئی ہے کہ حق خود ارادیت تمام اقوام کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ نے متعدد قراردادوں کے ذریعے جموں و کشمیر کو ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کیا ہے اور واضح طور پر طے کیا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام اقوام متحدہ کی زیر نگرانی منعقد ہونے والے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کریں گے۔
پاکستانی مندوب نے کہاکہ بھارت نے نہ صرف ان فیصلوں کو قبول کررکھا ہے اور وہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 25 کے تحت بھی ان پر عمل درآمد کا پابند ہے۔انہوں نے کہاکہ5اگست 2019ء کوجموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرنے کے بعد بھارت مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو بگاڑکر اسے ایک مسلم اکثریتی ریاست سے ہندو اکثریتی خطے میں بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے یہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قانون کی صریح اور کھلی خلاف ورزی ہیں۔آصف خان بھارتی مندوب کو مشورہ دیا کہ وہ جنرل اسمبلی میں حقائق کے منافی بیانات دینے سے قبل جموں و کشمیر سے متعلق اقوامِ متحدہ کے سرکاری نقشوں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کا بغور مطالعہ کریں۔
دوسری طرف کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کا تسلیم شد ہ متنازعہ علاقہ ہے اور بھارت نے کشمیری عوام کی خواہشات کے برخلاف اس پر قابض ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک اجلاس کے بعد جاری بیان میں مقبوضہ علاقے کی صورتحال معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی حکومت اور اس کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دعوئوں پر کڑی تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھابلکہ اس نے غیر قانونی طورپر اس پر قبضہ کررکھاہے،جس کی وجہ سے کشمیری عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں نے اقوام متحدہ میں کشمیری عوام سے استصواب رائے کے ذریعے انہیں ان کا حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم بھارت کشمیری سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کرنے کے بعد مقبوضہ علاقے پر اپنے غیر قانونی تسلط کو مسلسل مضبوط کر رہاہے ۔اجلاس میں مقبوضہ علاقے میں بڑھتی ہوئی بھارتی ریاستی دہشت گردی اورنہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے ظلم و تشدد پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں واضح کیاگیاکہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے قیام کے لیے کشمیری عوام کی خوہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔حریت ترجمان نے 26جنوری کو منائے جانیوالے بھارتی یوم جمہوریہ کے حوالے سے کہاکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت گزشتہ 78سال سے کشمیری عوام کے جمہوری حقوق کو مسلسل پامال کر رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیری نہ تو بھارت اور اسکے عوم کے دشمن ہیں اور نہ ہی بھارت کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں میں ان کے یوم جمہوریہ کی تقریبات کے مخالف ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیاکہ بھارت کے پاس بین الاقوامی طورپر تسلیم شدہ مقبوضہ علاقے میں یوم جمہوریہ کی تقریبات کا کوئی آئینی یا اخلاقی جواز نہیں ہے، جس پر وہ فوجی طاقت کے بل پر قابض ہے ۔حریت ترجمان نے کہاکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں تمام اقوام کے حق خود ارادیت کی ضمانت فراہم کی گئی ہے اور اسے ہر انسان کا بنیادی اور پیدائشی حق تسلیم کیاگیاہے۔ اجلاس میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ بھارت نے جموں و کشمیر میں رائے شماری کرانے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیری عوام سے وعدے کیے تھے تاہم یہ وعدے آج تک پورے نہیں کئے گئے اور کشمیری عوام مسلسل اپنے جمہوری حق سے محروم ہیں۔
ادھر بھارت میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13فیصد اضافے پر مودی کی بھارتی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔
امریکی ریسرچ گروپ انڈیا ہیٹ لیب نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیاہے کہ بھارت میں مودی کی ہندوتوا حکومت کے دور میں گزشتہ سال اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف ایک ہزار 318نفرت انگیز واقعات رپورٹ ہوئے ہیں ۔ کانگریس نے غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹر کی ایک سرخی کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پلیٹ فرام ایکس پر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارت میں مودی سرکار: نفرت کا بازار ۔ اس پوسٹ میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کانگریس نے کہاہے کہ مودی ہے تو ممکن ہے۔پوسٹ میں نفرت کے دن (اچھے دن کا برعکس) سلوگن بھی لگایا گیاہے۔

یہ بھی پڑھیں