رنگوں کی دنیا بھی عجیب دنیا ہے۔ جدھر نظر جائے رنگ ہی رنگ ہیں۔ نیلے آسمان میںٹمٹماتے سفید ستارے، سیاہ رات کی آغوش سے نکلتی سحرکی سرخی ، کالے سرمئی بادلوں کی گھن گرج ، بارش کے بعد اُبھرتی قوس و قزح، رنگ بھری پھولوں کی پتیاں، اڑتے چہچہاتے پنچھیوں اور تتلیوں کے خوش رنگ پنکھ،لہلہاتے سبز کھلیان، ڈوبتے سورج کی گلابی کرنیں ،یہ سب مناظر قدرت کے وہ انعام ہیں جن سے ہماری زندگی خوشنما ،ترو تازہ اور کھلی کھلی رہتی ہے۔
ازل سے انسان رنگوں کو صرف دیکھتا نہیں آیا بلکہ رنگ کا استعمال کرنا بھی سیکھ لیا۔ رنگ انسان کی تہذیب، ثقافت، رسم و رواج اور زندگی کے ہر روپ کے عکاس ہیں۔خوشی اور سرور کے جذبات ہوں یا اداس گھڑیوں کا مغموم احساس، انسان کبھی شوخ تو کبھی مدھم رنگوں کے زریعے ان کی حدت اور شدت کا اظہار کرتا چلا آیا ہے۔سرخ رنگ سے پیار محبت کے اٹوٹ رشتوں کا اظہار تو سیاہ رنگ دلوں میں سلگتی اداسیوں کی علامت، نیلا سکون، اطمینان اور ٹھہرائو کا سفیر، امن اور صلح کا علم بلند کرنا ہو تو سفید رنگ اور امید، خوشحالی اور کامیابی کے لئے سبزرنگ ۔شام کی ساعتوں میں کس رنگ کو پہن کر جائیں؟ اجالوں کی محفلوں میں کیسا رنگ بھائے گا؟کسی کے لئے کوئی تحفہ لینا ہو تو کس رنگ کا ہو، ہر صنف اور ہر عمر کے تقاضے الگ، رنگ الگ ،باہر نکلیں تو ہماری سواری کو روکتے چلاتے ٹریفک کے لال، پیلے،سبز اشارے، کالے گورے کی تمیز کے بغیر، ہر خطہ ارضی کے لوگوں کے الگ رنگ تاکہ وہ پہچانیں جائیں۔ کبھی کبھی یہ احساس جھنجھوڑ دیتا ہے کہ رنگ نہ ہوتے تو یہ دنیا کیسی دِکھتی؟
اس کے علاوہ رنگ انقلاب کی بھی پہچان ہیں۔ روس سے اٹھی سوشلزم کی تحریک کو سرخ انقلاب کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ۱۹۶۰ کے عشرے میں آنے والے زرعی انقلاب کو سبز انقلاب کے نام سے جانا گیا۔ ۱۹۶۳ کے ایرانی انقلاب کو سفید رنگ سے منسوب کیا گیا۔ ۲۰۰۳ میں جارجیا میں آئی تبدیلی کو گلابی انقلاب اور ۲۰۰۴ میں یوکرین میں آئی تبدیلی کو اورنج(زرد) انقلاب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اردو ادب کی دنیا میں جھانکیں تو ادیبوں اور شاعروں نے اپنی تصویروں میں عجب رنگ بھرے ہیں۔ بقول فیض احمد فیض
یوں سجا چاند کے جھلکا تیرے انداز کا رنگ
یوں فضا مہکی کہ بدلا میرے ہمراز کا رنگ
ضیاء جالندھری نے کہا تھا۔
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
رنگ اور خوراک کا آپس میں گہرا رشتہ ہے ، خوراک اپنے رنگ سے اپنے ڈھنگ اور ذائقے کی پیش بینی کرتی ہے۔خوراک کو جازبِ نگاہ بنانے کے لئے آج کل پوری دنیا میں مصنوئی رنگوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ خوراک کے یہ رنگ فریبِ نظر ہی نہیں بلکہ انتہائی مضر صحت ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی اداروں نے برسوں کی تحقیق کے بعد خوراک میں مصنوئی رنگوں کے استمعال کی حدود مقرر کر دیں ہیں اور انتباہ کیا ہے کہ ان رنگوں کا مقررہ حد سے زیادہ استعمال مزاج میں تندی و اشتعال، بچوں میں چڑچڑا پن ، کینسر کی کئی اقسام، الرجی اور سانس کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے۔کہنے کو یہ رنگ فوڈ گریڈ ہوتے ہیں مگر چونکہ ان کے استمعال کو پرکھنے والی نگاہ اتنی کڑی اور چوکس نہیں اس لئے مصنوئی رنگوں کا مقررہ حدود سے زیادہ استعمال بھی ہوتا ہے ۔ عالمی اداروں نے کچھ مصنوئی رنگوں کا استعمال بالکل ہی ممنوع کر دیا ہے مگر پھر بھی ان کا استعمال ہوتا نظر آتا ہے ۔عالمی جریدے ( جرنل آف ٹراپیکل لائف سائنس) میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کراچی سے اکھٹے کے گئے خوراک کے نمونوں میں سے ۴۴ فیصد میں ممنوعہ مصنوئی رنگ کی ملاوٹ پائی گئی۔ یہ ملاوٹ زیادہ تر نان برینڈڈ مقامی تیار کردہ خوراک میں پائی گئی۔ اس حوالے سے کی گئی اور تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ نان برینڈڈ خوراک رنگوں کے استمعال کے حوالے سے محفوظ تصورنہیں کی جاسکتی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ ادارے خوراک میں برینڈکے تصورکی حوصلہ افزائی کریں اور رنگوں کے استمعال پر کڑی نگاہ رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ہم کھیتوں سے کھانے کی میز تک کے عمل کی بہتر طور پر نگرانی کر کے محفوظ خوراک لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ مصنوئی رنگوںکے سراب سے نکل کر ہم قدرتی رنگوں کی حقیقت پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیںکہ وہ ہم سے کیا کہنا چاہتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ آج کل کینسر اور دل کے امراض کس تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ اس کی وجوہات میں جائے بنا سائنس اس سے محفوظ رہنے کے لئے مختلف راستے ہمیں بتاتی رہتی ہے ۔ اس میں جامد طرزِزندگی سے نکلنا، سادہ غذا کھانا، چہل قدمی کو معمول بنانا اور خود کو تنائوسے دور رکھنا تو شامل ہے ہی مگرتحقیقات سے نتیجہ نکالا ہے کہ ہماری خوراک میں اینٹی آکسیڈنٹAnti Oxidantsکا ہونا بھی بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ یہ Anti Oxidants کیا ہیں؟ یہ پھلوں اور سبزیوں میں پائے جانے والے ایسے مرکبات ہیںجو جسم میں جا کر کینسر سیلز کے بننے اور پھیلنے کے عمل کو روکنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دل کی بیماریوں میں کمی، جلد کو صحت مند رکھنے، بڑھاپے کے اثرات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ قوتِ مدافعت میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ Anti Oxidants کون سے پھلوں اور سبزیوں سے حاصل کئے جائیں؟ اس سوال کے جواب میں رنگوں کے وہ راز کھلتے ہیں کہ جس سے سائنس آج پردہ اٹھا چکی ہے۔ AntiOxidants ایسے مرکبات پر مشتمل ہے کہ جس جگہ یہ موجود ہوں گے، اپنا ایک مخصوص رنگ بھی نمایاں کریںگے۔ ان کی بہت سی اقسام ہیں اور ہر ایک اپنا الگ رنگ دکھاتی ہے۔ مگر زیادہ کارگر اور فائدہ مند وہ ہیں جو سرخ یا جامنی رنگ کے ذریعے خود کو ظاہر کرتے ہیں۔ جس پھل یا سبزی میں یہ یا اس سے ملتے جلتے رنگ دکھائی دیں،وہ ان مرکبات سے بھرا ہو گا۔ اس فہرست میں انار، گاجر،چقندر، آلو بخارا، تربوز، ٹماٹر، لال مولی، چیری، لال انگور،جامن، سٹرا بیری،فالسہ اورلال شملہ مرچ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ سائنس آج ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ یہ مرکبات زیادہ حرارت ( ۶۰ ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ )سے ضائع ہو جاتے ہیں اور اپنی افادیت کھو بیٹھتے ہیں۔ اب ذرا پھلوں سبزیوں کی اس فہرست پر نظر ڈالیں تو قدرت کا یہ انتظام بھی دکھائی دیتا ہے کی یہ سب پھل اور سبزیاں ہم بنا پکائے اور حرارت دیئے کھا کر ان مرکبات سے پورا اور بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اللہ کی ان نعمتوں کے علاوہ ایک اور نعمت جو ہمیں نصیب ہوئی وہ ہمارا وطن پاکستان ہے جہاں یہ سب پھل اور سبزیاں مقامی طور پر دستیاب ہیں اور ہم ان کو اپنی غذا میں باآسانی شامل کر سکتے ہیں۔ ضرورت بس اتنی ہے کہ لوگوں کا معیارِزندگی اتنا بہتر کیا جائے کہ ایک غریب و تنگدست آدمی بھی رنگین پھلوں کایہ خزانہ باآسانی خرید کراپنے اور اپنے خاندان کو تندرست و توانا رکھ سکے۔ بات رنگوں سے شروع ہوئی تھی تو بلا شبہ رنگ باتیں بھی کرتے ہیں اور اپنے اندر چھپے راز ہمیں بتاتے بھی ہیں۔ رنگ محض دیکھنے کے لے نہیں اور ان کی تخلیق میں اللہ کی حکمت کی اورنشانیاںبھی چھپی ہوئی ہیں جسے انسان مختلف علوم کے ذریعے دریافت کرتا رہتا ہے۔ ایک نشانی کے بعد دوسری نشانی آتی جاتی ہے۔ سورہ النحل کی ایک آیت کا مفہوم ہے’’اور اس نے تمہارے لئے زمین میں مختلف رنگوں کی چیزیں پیدا کی ہیں یقینا اس میں نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غور کرتے ہیںـ‘‘