پاکستانی سیاست میں واقعات یا مناظر کے یک لخت یا دفعتاً بدلنے کا عمل پہلی بار رونما نہیں ہوا۔ مناظر بھی ایسے کہ دیکھنے والا آنکھیں ملتا رہ جائے کہ یہ وہی اسٹیج ہے یا پردے کے پیچھے کوئی اور کہانی چل رہی ہے۔گزشتہ کچھ دنوں میں جو اچانک نرم لہجہ، غیر متوقع رابطے، عدالتی فضاء میں تبدیلی اور سیاسی فضا کے ردو بدل کی جو خبریں سامنے آئیں، انہوں نے واقعی قوم کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ وہی ریاست جو کل تک سخت گیر دکھائی دیتی تھی، آج مصافحے کے لئے آمادہ نظر آتی ہے۔ وہی ادارے جو فاصلے پر کھڑے تھے، اب مکالمے کے اشارے دیتے محسوس ہو رہے ہیں اور وہی سیاسی قیادت جو دیوار سے لگی دکھائی جاتی تھی، اب اس کے گرد نرم گوشوں کی سرگوشیاں سنائی دے رہی ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تبدیلی کیوں آئی سوال یہ ہے کہ اتنی اچانک کیسے آئی؟ نہ حکومت نے کھل کر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا، نہ تحریک انصاف نے اپنے کارکنوں کے سامنے کوئی واضح نقشہ رکھا۔ سب کچھ جیسے آناً فاناً طے ہو گیا۔ ایک وکیل سلمان صفدر کی بانی پی ٹی آئی سے تین گھنٹوں سے زیادہ وقت کی رسائی کی خبر آتی ہے اور ملاقاتوں کے در وا ہو جاتے ہیں۔ اہلِ خانہ کی آمدورفت آسان ہو جاتی ہے۔ قانونی ٹیموں میں تبدیلیاں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ کچھ چہرے جو کل تک نمایاں تھے،اچانک پس منظر میں چلےجاتے ہیں۔ کچھ رشتے جو منجمد تھے، پگھلنے لگتے ہیں۔یہ سب کچھ جمہوری عمل کا حصہ بھی ہو سکتا ہے ، مگر شفافیت کے بغیر یہ عمل شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔
تحریک انصاف کے کارکنوں نےجو کچھ پچھلے برسوں میں سہا، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گرفتاریاں، مقدمات، معاشی دبائو، سماجی تنہائی، یہ سب قربانیاں اگر کسی سیاسی پیش رفت کی صورت میں رنگ لا رہی ہیں تو اس پر خوش ہونا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ ان قربانیوں کا ثمر ہے؟ یا پھر یہ روایتی بیک ڈور سیاست کا ایک اور باب ہے ،جہاں فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں اور عوام کو صرف نتائج سنائے جاتے ہیں؟پاکستانی سیاست کی تاریخ گواہ ہےکہ یہاں نظریات سے زیادہ درمیانی راستے کام کرتے رہے ہیں۔ تصادم کی انتہا کے بعد مفاہمت کی سرگوشی اکثر سنائی دیتی ہے۔ کل کے غدار آج کے اتحادی بنتے ہیں، اور آج کے باغی کل کے شراکت دار۔ مسئلہ مفاہمت نہیں مسئلہ اس کی خفیہ نوعیت ہے۔جب فیصلے عوام کے ووٹ سے بننے والی اسمبلیوں میں نہیں بلکہ بند کمروں میں ہوں، تو جمہوریت کمزور اور قیاس آرائیاں مضبوط ہو جاتی ہیں۔اس ساری صورتحال میں ایک اور پہلو بھی عوامی بحث کا حصہ بن رہا ہے، بانی تحریک انصاف کی صحت سے متعلق گردش کرتی ہوئی اطلاعات۔ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں، آنکھ کی تکلیف،طبی سہولتوں کی فراہمی، جیل انتظامیہ کا رویہ ، مگر مسئلہ یہ ہے کہ مستند اور شفاف میڈیکل بریفنگ سامنے نہیں آتی۔ افواہیں سچ کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں۔یہ بات اصولی ہے کہ کسی بھی قیدی، چاہے وہ عام شہری ہو یا سابق وزیر اعظم، کو آئین اور قانون کے مطابق مکمل طبی سہولت ملنی چاہیے۔ اگر کوئی بیماری ہے تو اس کی مستند میڈیکل رپورٹ سامنے آنی چاہیے۔ اگر علاج ہو رہا ہے تو اس کی تفصیل واضح ہونی چاہیے۔ اگر سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو وہ بھی سرکاری سطح پر بتایا جانا چاہیے۔شفافیت نہ ہو تو ہرخاموشی الزام بن جاتی ہے۔یہاں احتیاط بھی ضروری ہے۔ سنگین الزامات لگانا آسان ہے،ثابت کرنا مشکل۔ اداروں، اہلکاروں یا شخصیات پر جرم کا براہِ راست الزام صرف تحقیق اورثبوت کی بنیاد پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ مگر ریاست کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایسا ماحول پیدا کرے جس میں سچ سامنے آسکے اور سوال پوچھنا بغاوت نہ سمجھا جائے۔جب عوام کو معلومات نہیں ملتیں تو وہ کہانیاں خود بنا لیتے ہیں اور پھر وہ کہانیاں ہی سیاسی سچ بن جاتی ہیں۔اسی طرح قانونی ٹیموں میں تبدیلی اور مخصوص شخصیات کی رسائی یا عدم رسائی بھی بحث کا موضوع ہے۔ مگر اصل سوال افراد نہیں، عمل کا تسلسل ہے۔ کیا قانونی کارروائیاں قانون کے مطابق چل رہی ہیں؟
کیا ملاقاتوں،سہولتوں اورپابندیوں کا کوئی واضح اور تحریری معیارہے؟ یا سب کچھ حالات، مزاج اور اوپر کی مرضی سے طے ہو رہا ہے؟پاکستان کا اصل بحران سیاسی نہیں، ادارہ جاتی عدم اعتماد ہے۔عوام کو یقین نہیں کہ فیصلے قانون کے مطابق ہوتے ہیں۔ سیاستدانوں کو یقین نہیں کہ احتساب سب کے لئے برابر ہے۔ اداروں کو یقین نہیں کہ سیاسی قیادت استحکام دے گی اور اس باہمی بدگمانی میں ہر مفاہمت سازش لگتی ہے اور ہر نرمی ڈیل۔یہی وجہ ہے کہ آج اگر ماحول میں کچھ نرمی نظر آ رہی ہے تو خوشی سے زیادہ حیرت ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں،کل تک سب کچھ ناممکن تھا، آج اچانک ممکن کیسے ہو گیا؟یہ سوال دراصل کسی ایک جماعت کے بارے میں نہیں بلکہ پورے نظام کے بارے میں ہے۔اگر واقعی کوئی سیاسی ڈیڈلاک ٹوٹ رہا ہے تو اسے خوش آئند ہونا چاہیے۔ مگر اس کے ساتھ سچ بولنا بھی ضروری ہے۔ قوم کو بتایاجائےکہ مذاکرات ہو رہے ہیں تو کس ایجنڈے پر؟ قانونی ریلیف دیاجارہا ہے تو کس بنیاد پر؟ سختی کم ہو رہی ہے تو پالیسی بدلی ہے یا وقتی ضرورت ہے؟
جمہوریت میں عوام بچے نہیں ہوتے جنہیں صرف نتیجہ بتایاجائے، عمل چھپایا جائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ریاستی ڈھانچے تصادم کی سیاست کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرتے۔ بالآخر کہیں نہ کہیں رابطے بحال ہونے ہی ہوتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رابطے آئینی دائرے میں ہو رہے ہیں یا روایتی طاقت کے توازن کے تحت؟ اگر ایک بار پھر سیاسی تنازعات کا حل غیر رسمی چینلزسےنکلا تو وقتی سکون تو مل سکتا ہے، مگر نظام مزید نا مستحکم ہوگا۔ تحریک انصاف کے کارکن،حکومتی ووٹر، غیرجانبدار شہری سب ایک ہی چیز چاہتے ہیں واضح اصول، یکساں قانون، اور کھلا سچ۔اگر بانی پی ٹی آئی بیمار ہیں تو قوم کو مستند میڈیکل حقائق بتائے جائیں۔ اگر نہیں ہیں تو افواہوں کی تردید کی جائے۔ اگر سیاسی بات چیت ہو رہی ہے تو اس کا آئینی دائرہ واضح کیا جائے۔ اگر عدالتی رویہ بدل رہا ہے تو اس کی قانونی بنیاد سامنے آنی چاہئے۔ خاموشی خلا پیدا کرتی ہے اور سیاست خلا برداشت نہیں کرتی۔آخر میں سوال وہی ہےجو ہرباشعور پاکستانی کےذہن میں ہے،کیا ہم ایک بار پھر کسی وقتی سیاسی مفاہمت کی طرف جا رہے ہیں جو چند ماہ بعد ایک نئے تصادم شاخسانہ بنے گی یا اس بار واقعی نظام سیکھ رہا ہے کہ طاقت کے کھیل سے زیادہ مضبوط چیز شفاف قانون ہوتا ہے؟