Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

روزہ، سائنس اور ہماری عادات

ابھی روزوں نے دستک بھی نہیں د ی ہوتی کہ ان کی چاپ سنتے ہی دل کے دروازے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں، رحمت و برکات سمیٹنے کو بیتاب ہماری روح استقبالِ رمضان کو مچلنے لگتی ہے اور سرور کی ایک آسودہ سی لہر رگ و پے میں دوڑ جاتی ہے۔گھر گھر بچے، بوڑھے اور جوان ایک جوش اور ولولے سے رمضان کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں۔ یقینا یہ قلبی جذبات و کیفیات اللہ پر ایمان اور یقین کی علامات ہیں ۔رمضان اپنے ساتھ ان گنت نعمتیں، ڈھیروں فضائل اور بے حدوحساب ثواب کے خزانے لے کر آتاہے۔یہ ہمیں آخرت کی لذتوں کی نوید بھی سناتا ہے اور دنیا میں بھی ہماری زندگی اور معاشرے کو گل و گلزار کرنے کے لئے صبر، استقامت اور ضبطِ نفس کا درس دیتا ہے۔ رمضان کی فیوض و برکات یہیں تک محدود نہیں، اس کے مثبت اثرات ہمارے جسم اور صحت پر بھی پڑتے ہیں، لیکن ان اثرات سے پوری طرح مستفید ہونے کے لئے ہمیں رمضان کے اس پیغام کو سمجھ کر اس کو اس کی روح کے مطابق اپنے معمولات میں ڈھالنا پڑے گا جس کا تعلق ہماری صحت اور تندرستی سے ہے۔
روزے اور غذا کا سب سے پہلا رشتہ تو یہی بنیادی شرط ہے کہ طلوعِ سحر سے لے کر غروبِ آفتاب تک کچھ بھی کھانے پینے سے روک دیا گیا ہے ۔ آیئے نظر ڈالتے ہیں کہ کچھ مخصوص وقت کے لئے کھانا پینا چھوڑ دینے سے جسم اور صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔جدید سائنس اور مذہبی روایات کے درمیان مکالمہ ہمیشہ سے دلچسپ رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں حیاتیاتی تحقیق (Biological Research) نے اسلامی عبادات کے پسِ پردہ چھپے طبی فوائد کو جس طرح اجاگر کیا ہے، وہ انتہائی حیرت انگیز اور قابلِ غور ہے۔ اس ضمن میں سب سے جدیداور اہم پیش رفت 2016ء میں سامنے آئی جب جاپان کے ایک مایہ ناز سائنسدان یوشینوری اوہسومی((Yoshinori Ohsumi کو اپنی ایک دریافت Autophagy) ( پر نوبل انعام برائے طب سے نوازا گیا۔اس تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جب ہم جسم کو 12 سے16 گھنٹے تک کھانے پینے سے روکتے ہیں تو جسم کے اندر ایک نظام حرکت میں آجاتا ہے جس کو اس نے آٹو فیجی کا نام دیا ۔ یونانی زبان کے اس لفظ کا مطلب ـ اپنے آپ کو کھانا ہے ،جسے ہم خود خوری بھی کہ سکتے ہیں۔ بظاہر یہ خود خوری انتہائی خطرناک محسوس ہوتی ہے مگر انسانی بقاء او ر صحت کے لئے اس سے بہتر قدرتی نظام موجود نہیں۔ہمارے بدن میں اربوں خلیات میں وقت کے ساتھ ساتھ ناکارہ پروٹین اور زہریلے مادے جمع ہونے لگتے ہیں اور اگر ان کی صفائی نہ ہو تو یہ کینسر، الزائمر، پارکنسنز اور ایسی بہت سی مہلک بیماریوں کا سبب بننے لگتے ہیں۔ آٹو فیجی وہ خود خور نظام ہے جس کے زریعے خلیہ اپنے اندر موجود اس ناکارہ کچرے کو خود توڑتا ہے اور اسے توانائی یا نئے خلیاتی اجزا بنانے کے لئے ری سائیکل کرتا ہے اور ہمیں ان مہلک عارضوں سے بچا کر رکھتا ہے۔ آٹو فیجی کا یہ نظام ہر وقت فعال نہیں رہتا۔جب ہم کھاتے پیتے رہتے ہیں تو جسم اس نظام کو دبا کر رکھتا ہے لیکن جیسے ہی ہم فاقہ یا روزہ رکھتے ہیں تو جسم میں کم ہوتی توانائی کے سبب یہ نظام حرکت میں آجا تا ہے اور12 سے 16 گھنٹے بعد جسم میں صفائی کا یہ عمل اپنی انتہا پر ہوتا ہے اور یہی وہ دورانیہ ہے جو عام طور پر ایک اسلامی روزے کا ہوتا ہے۔
جدید تحقیق انکشاف کرتی ہے کہ روزہ صرف روح اور نفس کا تزکیہ ہی نہیں بلکہ جسم کے اندر پورے نظام کی بھی صفائی اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ طب اور غذا کے ماہرین جسم کو کچھ وقفے کے لئے بھوکا رکھنے(Intermitent Fastening (کی تجویز دیتے ہیں تاکہ آٹو فیجی کا نظام حرکت میں رہے ، جسم اپنے ناکارہ خلیات کی مرمت کرتا رہے اور ہم بہت سی مہلک اور موزی بیماریوں سے محفوظ رہیں۔ اسلام ہم پر کتنا مہربان ہے کہ ہمیں روزہ رکھنے کی تجویز نہیں ، حکم دیتا ہے۔ طبی لحاظ سے یہ بات اتنی مفید اور اہم ہے کہ اگر ہم اس حوالے سے رہبرِانسانیت حضرت محمدﷺ کی سیرت کو دیکھیں جو ہمارے لئے ایک بہترین نمونہ ِ حیات بھی ہے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نبی حضرت محمدﷺ رمضان کے روزوں کے علاوہ ہر ماہ کی 13,14 اور 15 تاریخ کو بھی روزہ رکھتے تھے اور یہ ایک متواتر سنت ہے۔مگر ہمارے گھروں میں اس کا اہتمام دکھائی نہیں دیتا اور منبر و محراب سے بھی اس سنت موکدہ کی تاکید پر آواز بلند نہیں ہوتی۔اسی طرح آپ ﷺ ہر پیر کا روزہ بھی باقاعدگی سے رکھتے تھے۔ رمضان کے روزوں کی طرح اگر ہم ان روزوں کا اہتمام بھی کرنا شروع کر دیں تو ہم نہ جانے کون کون سی بیماریوں کو اپنے پاس پھٹکنے سے روک سکتے ہیں۔
صحت سے منسلک یہ برکات محض روزہ رکھ لینے سے خود بخود نہیں آجاتیں۔ اس کے لئے انسان کو اپنے کھانے پینے کی عادات و اطوار کو بدلنا پڑے گا۔ہم سارا سال ذوق و شوق سے بسیار خوری کرتے ہیںاور رمضان کے آتے آتے اپنے جسم کو ایک ایسے غذائی بحران کا شکار کر چکے ہوتے ہیں کہ روزہ رکھنے کے مکمل فوائد سے جسم محروم رہ جاتا ہے۔اس کے علاوہ رمضان میں بھی کھانے پینے میں اعتدال کے بجائے عام حالات سے بھی زیادہ بد احتیاتیاں شروع کر دیتے ہیں۔ سارا دن روزہ رکھ کر جو انتظامات ِ سحر و اٖفطار میںمتنوع پکوان سجائے جاتے ہیں اور ان کو جس مقدار، انداز اور رفتار سے کھایا جاتا ہے ،یہ نہ تو سحر و افطار کا منشا ہے اور نہ ہی اس سے ہم کوئی فائدہ لے سکتے ہیں بلکہ یہ صحت کو نقصان پہنچاکر روزوں کے فضائل سے محروم ہونے والی بات ہے۔ رمضان تو کھانے پینے کا سلیقہ اور قرینہ عطا کرتا ہے۔ یہ ہر سال آتا ہے اور ہمیں بہت کچھ سکھاکر جاتا ہے ۔یہ تربیت باقی پورے سال کے لئے ہوتی ہے جس کو ہم رمضان کے رخصت ہوتے ہی نظر اندازکرکے پھر سے پرانی ڈگر پر رواں ہو جاتے ہیں۔روزے ہمیں کھانے پینے کے حوالے سے ایک نظم و ضبط کی تلقین کرتے ہیں۔فجر کے وقت جاگنا اور ناشتہ کرنا، غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی کھا پی لینا اور رات عشاء کے بعد سو جانا کہ پھر سے صبح اٹھنا ہے۔ یہ ساری تربیت صرف رمضان کے لئے نہیں، عام حالات میں بھی جاگنے ، سونے اور کھانے پینے کاکم و بیش یہی نظام برقرار رکھا جائے تو ہم صحت کے حوالے سے بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
آج کل سحر و افطار نے معاشرے میں نیا رنگ روپ لیا ہوا ہے۔ سادہ کھانا اور کم کھانا تو ہم روزے سے بے انصافی پر تعبیر کرتے ہیں۔ افطار پارٹیوں کا رواج عام ہو رہا ہے۔اب تو سحری کرنے بھی لوگ گھر سے باہر جانا شروع ہو چکے ہیں۔ سحر و افطار کی ان محفلوں میں انواع و اقسام کے کھانوں کا وافر مقدار میں انتظام کیا جاتا ہے ،اور یوں ہم روزے اور صحت سے جُڑے رشتے کو اپنی عادات سے پامال کر دیتے ہیں۔آٹو فیجی کا وہ نظام جو وقتِ افطار اپنے عروج پر ہوتا ہے اس کے ثمرات کو محدود کر دیتے ہیں۔ روزوں کے حقیقی فوائد اعتدال میں چھپے ہوئے ہیں اور اعتدال محض مناسب مقدار میں کھانا ہی نہیں بلکہ اس بات میں بھی ہے کہ ہم کیا کھا رہے ہیں اور کس سلیقے سے کھا رہے ہیں۔ اس حوالے سے تفصیل کے لئے تحریر کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں