قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ہندوستان کے علماء، خانقاہوں کے شیوخ اور عام مسلمانوں کے ساتھ مل کر پاکستان نظام اسلام کے نفاذ کے لیے بنایا تھا ،اج قیام پاکستان کے 78سال بعد بھی پاکستانی پارلیمنٹ اگر اسلام سے متصادم قوانین منظور کر رہی ہے،تو یہ اس بات کا ثبوت ہے ہمارے حکمرانوں کی پالیسیاں عالمی طاقتوں کے زیر فرمان ہیں۔حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری ؒ نے بینات میں ایک مرتبہ دین اور اہل دین کو مٹانے کے سرکاری و حکومتی ہتھکنڈوں کا ذکر کیا تھا ۔آج اس تحریر کو نصف صدی بیت جانے کے بعد اس اللہ کے ولی کی لکھی ہوئی وہ تحریر اس بات کا ثبوت ہے کہ ’’قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید‘‘یہ خاکسار جب اس تحریر اور اپنے وطن کے موجودہ حالات پر نظر دوڑاتا ہے تو دونوں میں ذرا برابر بھی فرق نہ پا کر سر پکڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔
حضرت بنوری ؒلکھتے ہیں کہ یہ زمانہ ڈپلومیسی اور چالبازی کا ہے، جس مخالف اور بزعم خود دشمن طبقہ اور اس کے مراکز کے خلاف جنگ کرنی ہوتی ہے، میدانِ حرب و ضرب اور جبر و استبداد میں گرم جنگ لڑنے سے برسوں پہلے میدانِ صحافت میں سرد جنگ لڑی جاتی ہے، یعنی پہلے اس کے خلاف اخبارات و رسائل میں مضامین و مقالات شائع ہوتے ہیں تاکہ زمین یعنی رائے عامہ کو اس کے خلاف ہموار کرلیا جائے، اس کے بعد حکومت کی کنٹرولنگ مشینری حرکت میں آتی ہے اور ابتدا صرف حکومت سے ریکگ نیشن یعنی الحاق کی دعوت دی جاتی ہے، ساتھ ساتھ ایڈ یعنی مالی امداد کا لقم چرب و شیریں اربابِ مراکز و مدارس کے منتظمین کے سامنے ڈالا جاتا ہے، اگر یہ حربہ کامیاب نہیں ہوتا تو پھر قانون کے ذریعے ریکگ نیشن یعنی الحاق پر مجبور کیا جاتا ہے، اس کے بعد نصاب اور درسی کتابوں میں کترو بیونت کی جاتی ہے، قدیم علوم کی ٹھوس قابلیت پیدا کرنے والی کتابیں نکال کر ان کی جگہ عصری علوم و فنون کی کتابیں لائی جاتی ہیں، اس طرح دینی علوم کی جان تو نکال ہی لی جاتی ہے، اسی کے ساتھ ان ملحقہ مدارس کی سندوں کو وزارتِ تعلیمات سے منظور کرادیا جاتا ہے اور سرکاری و نیم سرکاری تعلیمی و غیر تعلیمی اداروں میں ملازمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ یہ طلبہ کے لیے لقم چرب و شیریں ڈالا جاتا ہے اور پورے ملک سے ماہرینِ علوم دینیہ کو کھینچ لینے اور آزاد عربی مدارس کو ویران کردینے کی غرض سے ان نیم سرکاری یا سرکاری درس گاہوں میں کام کرنے والے ماہرین و محققین علوم دینیہ کے لیے گراں قدر مشاہروں اور الانسز کے اعلان کیے جاتے ہیں، ان کی سالانہ ترقی اور تنخواہ کے منہ میں پانی بھر لانے والے گریڈ مقرر کئے جاتے ہیں، یہ آزمود کار علماء و محققین کے زبان و قلم کو حکومت کے خلاف بولنے اور لکھنے سے باز رکھنے کے لئے طلائی زنجیریں تیار کی جاتی ہیں۔ان تدبیروں کے بعد بھی جو دین کو دنیا پر ترجیح دینے والے علماء حق اور آزاد مدارسِ دینیہ عربیہ کے اساتذہ و مبلغین اور واعظین و خطباء اس دام ہمرنگ زمین میں گرفتار ہوکر اپنی کلم حق کہنے کی آزادی قربان نہیں کرنا چاہتے، ان کے خلاف حکومت کا قانون حرکت میں آتا ہے، اول ان کی قدرِ کفاف روزی پر حملہ کیا جاتا ہے اور ڈپٹی کمشنر کی منظوری کے بغیر پبلک سے چندہ وصول کرنا قانونا ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے، پھر ان کے گوش عافیت پر یورش ہوتی ہے اور محکمہ اوقاف کے ذریعے یادگارِ صف مسجد نبوی علی صاحبھا الصلوۃ والسلام یعنی مدارسِ عربیہ اور مکاتبِ دینیہ کی عمارتوں پر قبضہ کرکے انہیں خانماں برباد کردیا جاتا ہے۔ خدا کے گھروں یعنی مسجدوں پر قبضہ کیا جاتا ہے اور محکمہ اوقاف کے ذریعے غیر سند یافتہ مئوذنین، ائمہ اور خطباء کے لئے مسجدوں کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں۔ اوقاف کی قائم کردہ منتظمہ کمیٹی کے سیکرٹری سے اعلان کرادیا جاتا ہے کہ سیکرٹری کی اجازت کے بغیر کوئی بھی عالمِ دین مسجد میں وعظ نہیں کہہ سکتا، پبلک جلسوں میں علماء حق کو جلسوں سے روکنے کے لئے دفعہ144 لگا دی جاتی ہے۔ ان علماء و مبلغین و واعظین کو، جن سے حکومت کے خلاف بولنے کا خطرہ ہوتا ہے، کسی خاص علاقہ میں، ان کی بستی میں، یا گھروں میں قانونِ ’’تحفظِ امن عامہ‘‘ کے تحت نظر بند کردیا جاتا ہے، یا زبان بندی کردی جاتی ہے، اور جن علمائے حق کے ملک میں موجود ہونے کو ہی حکومت اپنے مفاد کے لئے مضر سمجھتی ہے، ان کو جلا وطن کردیا جاتا ہے۔ تا اینکہ علمائے حق کے پاس قانون شکنی کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہتااور وہ قانون شکنی پر آمادہ ہوجاتے ہیں، تب گرم جنگ شروع ہوتی ہے اور اور جیلوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اگر جیلوں کی وحشیانہ اور ننگِ انسانیت ایذا رسانیاں بھی ان کو حق بات کہنے سے نہیں روک سکتیں تو حکومتیں ان کو سولی پر چڑھا دینے میں بھی دریغ نہیں کرتیں، اور علماء حق امام مالک ؒ، امام ابوحنیفہ ؒ اور امام احمدؒ کی سنت کو بے دریغ زندہ کرتے ہیں اور قید و بند کی تمام تر سختیوں بلکہ موت فی سبیل اللہ کو بھی لبیک کہتے ہیں۔یہ ہوتے ہیں علمائے حق پیدا کرنے والی علوم دینیہ کی درس گاہوں اور علما حق کے بابرکت وجود کو کسی روئے زمین سے مٹانے کے دہ سالہ اور پنج سالہ منصوبے اور ان کے مختلف مرحلے، سادہ لوح عوام ان سے قطعاً ناواقف ہیں، مگر علما حق ان سے خوب اچھی طرح واقف ہیں، اور اعلاء کلمۃ اللہ کی راہ میں ہر مزاحمت کا مقابلہ کرنے اور ہر ظلم و جور کو سہنے اور ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں، مگر کسی مرحلہ پر بھی علوم دینیہ کی حفاظت کا فرض انجام دینے اور حکومت کے اثر سے آزاد دینی خدمت انجام دینے کی سعادت سے کسی قیمت پر بھی دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔وما توفیقنا الا باللہ، ھو مولانا، نعم المولی و نعم النصیر (بصائر و عبر( مطبوعہ) ص224)حضرت بنوری ؒ کی چشم کشا تحریر قارئین کی خدمت میں پیش کردی گئی ہے، اس تحریر میں جن سرکاری وشیطانی ہتھکنڈوں سے اس وقت قوم کو آگاہ کیا گیا تھا، ان میں سے کتنے وقوع پذیر ہوچکے ہیں، کتنوں پر عمل در آمد جاری ہے اور کتنے ابھی باقی ہیں، اس کا فیصلہ یہ خاکسار قارئین پر چھوڑتا ہے۔