Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیرت اورعظمت

فرمان رب ذوالجلال ہے ۔ترجمہ ‘’’یہ نبی مسلمانوں کاان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں ‘‘ (پارہ نمبر ٢١ ،سورہ الاحزاب) دوسری جگہ ارشادربانی ہوتاہے ’’اے نبی کی بیویوں تم اور عورتوں کی طرح نہیں‘‘ (پار ہ نمبر٢٢،سورہ الاحزاب) سب سے پہلا نکا ح حضور ۖ نے حضرت خدیجہ الکبری سے فرمایا۔جب تک آپ حیات رہیں ،آپ کی موجودگی میں حضور اکرمﷺنے کسی سے نکاح نہیں فرمایا۔ام المومنین سیدناخدیجہ الکبریؓ کانسب نامہ یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب بن مر بن کعب بن لوی سید ہ خدیجہؓ کانسب حضور ۖسے قصیٰ پر مل جاتاہے اور حضور اکرم ۖنے قصی کی اولادسے بجزسیدہ خدیج الکبری اور ام حبیبہ کے کسی کی خواستگاری قبول نہ فرمائی ان کی کنیت ام ہند ہے ان کی والدہ فاطمہ بنت زاہدہ بن الاصم بنو عامر بن لوی سے تھیں ۔ (طبقات ابن سعد) سیدہ خدیجۃ الکبری کا نکا ح سرکار مدینہ سے اس وقت ہوا جس وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی، جبکہ تاجدار مدینہ کی عمر پچیس سال تھی ۔سید ہ خدیجۃ الکبری عاقلہ ،فاضلہ اور فرزانہ عورت تھیں ۔زمانہ جاہلیت میں بھی ان کو طاہرہ کہتے تھے ۔عالی نسب اور بڑی مالدار تھیں۔حضور اکرمﷺکی خدمت میں نکاح کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو خود پیش کیا۔حضور اکرم ۖنے اس کاتذکرہ اپنے چچائوں سے کیا ،اس کے بعد حضرت محمد ۖﷺحضرت حمزہ ؓکے ساتھ خویلد بن اسعد کے پاس تشریف لائے اور ان کوپیام دیاپھر ولادت کے 25ویںسال جب آپ شام کے سفر سے واپس تشریف لائے حضرت سید ہ سے نکاح فرمالیا اور ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبری کا مہر انتیس جوان اونٹ اور ایک روایت میں ہے کہ بارہ اوقیہ سوناتھا۔(مدراج النبوت 797/2) سیدہ خدیجۃ الکبری کو دین اسلام اور بارگاہ مصطفی ﷺمیں بڑی فضیلت حاصل ہے ۔ایسی فضیلت کہ سیدہ فاطمہ خاتون جنت جیسی شہزادی ان ہی کے بطن سے پیداہوئی اہل تفسیر بیان کرتے ہیں کفار قریش کی تکذیب سے سرکارمدینہ ۖجو غم و تکلیف اٹھاتے تھے ،وہ سب حضرت خدیجۃ الکبری کو دیکھتے ہی جاتی رہتیں اور آپ خو ش ہوجاتے تھے ۔جب حضور اکرم ۖﷺسیدہ خدیجہ ؓکے پاس تشریف لاتے تو وہ حضورﷺ کی خوب حوصلہ افزائی کرتیں جس سے آپ کی ہر مشکل آسان ہوجاتی ۔ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضورﷺ ۖکویہ فرماتے سنا ہے کہ (اپنے زمانہ کی) عورتوں میں سب سے افضل مریم بنت عمران ہیں اور تمام عورتوں میں سب سے افضل حضرت خدیجہؓ بنت خویلد ہیں۔ (صحیح بخاری) حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی پاکﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر جبرائیل نے کہا یارسول اللہﷺیہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے پاس ایک برتن لے کر آرہی ہے اس میں سالن ہے یاکھانا یاکوئی مشروب جب یہ آپ ﷺکے پاس آئیں تو آپ رب کائنات کی طرف سے اور میری طرف سے ان کو سلام کہیں اور ان کو جنت میں ایسے گھر کی بشارت دیں جس میں موتی کے محل ہیں اور جس میں کوئی شوروغل اور رنج وملال نہ ہوگا۔(صحیح بخاری) ام المومنین سید ہ عائشہؓ نے فرمایامیں نے نبی کریمﷺ ۖکی ازواج میں سے کسی زوجہ پر غیرت نہیں کی جو خدیجہ ؓپر غیرت کی حالانکہ میں خدیجہ ؓکو نہیں دیکھا لیکن نبی کریمﷺ ان کاکثرت کے ساتھ ذکر فرماتے تھے اور اکثر بکری ذبحہ فرماتے تھے پھر اس کے اعضا کے ٹکڑے کرتے اور خدیجہ ؓکی سہیلیوں کوبھیجتے تھے ،کبھی میں آپ سے کہہ دیتی تھی کہ خدیجہؓ کے سوا دنیا میں کوئی عورت ہی نہیں تو آپ فرماتے ہاں وہ فاضلہ عاقلہ تھیں ان ہی سے میری اولاد ہے ۔(صحیح بخاری 800/5) ابن اسحا ق کہتے ہیں کہ رقیہؓ،زینبؓ ،ام کلثومؓ ، فاطمہؓ ،قاسمؓ،طاہرؓ ،طیبؓ،سب اولاد خدیجہؓ کے بطن اطہر سے ہی پیداہوئی ،ایک صاحبزادے یعنی حضرت ابراہیم سید ہ ماریہ قبطیہ ؓکے بطن مبارک سے پیداہوئے۔ (مدارج النبو) سیدہ خدیجہ الکبریؓ سرکار مدینہ ۖساتھ چوبیس یا پچیس سال کا عرصہ شریک حیات رہیں اور ہجرت سے پانچ یاتین سال قبل ان کاوصال ہوگیا تھا ،جبکہ آپ پنیسٹھ سال کی عمر میںتھیں ۔رسول اللہﷺکی بعثت مبارک سے دس سال بعد رمضان میں اِ ن کا وصال ہوا،جنت المعلی میں ان کی تدفین ہوئی رسول اللہﷺنے خود قبر شریف میں اتر کردعافرمائی اور اس وقت جنازہ مشروع نہ ہواتھا۔سیدہ خدیجۃالکبری کے وصال کے بعد سرور کائنات ۖغم زدہ رہتے تھے اور جس سال ام المومنین سیدہ خدیخۃ الکبری نے وصال فرمایاوہ سال عام الحزن کہلاتا ہے ۔(مدراج النبوت 636/2) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کونبی پاکؐ کی ازاواج ۔نبی پاکﷺ کی اولاد غرض کی نبیﷺ کی تمام اہل بیتؓ سے سچی اور پکی محبت عطا فرماکر ہمارے دلوں کو منور فرمائے اور ان کو عظیم نفوس قدسیہ کے نقشِ قدم پر بھی چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے ۔

یہ بھی پڑھیں