گڑھی شریف کے روحانی چراغ، محبت و خدمت کے زندہ پیکر، خواجہ غلام قطب الدین فریدی اپنے عہد کے اُن درخشاں نفوس میں سے تھے جنہوں نے عشقِ الٰہی، خدمتِ خلق اور صوفیانہ وقار کو یکجا کر کے ایک پورے زمانے کی روحانی فضا کو معطر کیا۔ سلسلۂ فریدیہ کے اس ممتاز صوفی شاعر اور روحانی پیشوا نے رحیم یار خان کی سرزمین سے اٹھ کر برصغیر کے علمی و روحانی حلقوں تک اپنا فیض پہنچایا۔ وہ خانقاہی روایت، درویشانہ سادگی اور انسان دوستی کا جیتا جاگتا پیکر تھے۔
آستانۂ عالیہ گڑھی شریف کے سجادہ نشین خانوادے سے تعلق رکھتے ہوئے انہوں نے خواجہ غلام فریدؒ کے فکر و پیغام کو اپنے عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ انداز میں پیش کیا اور تصوف کو محض کتابی بحث کے بجائے زندہ کردار اور عملی خدمت سے تعبیر کیا۔
ان کی حیاتِ مبارکہ محبت، رواداری اور احترامِ انسانیت سے عبارت تھی۔ “نیشنل مشائخ کونسل” کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے مختلف مسالک اور طبقات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی سنجیدہ کاوش کی۔ ان کا آستانہ بلا امتیازِ مسلک و طبقہ ہر آنے والے کے لیے امن، سکون اور کشادہ دلی کا مرکز تھا۔ اسی لیے انہیں دنیائے تصوف کا روشن چراغ اور سلسلۂ چشتیہ کا باوقار مبلغ کہا جاتا ہے۔
ان کی شخصیت خانقاہی آداب، باطنی وقار اور ظاہری انکسار کا حسین امتزاج تھی۔ آپ اہلِ علم کے لیے صاحبِ نظر شیخ، اہلِ تصوف کے لیے مرجعِ دل، اور اہلِ ادب کے لیے با ذوق شاعر بھی تھے۔ ان کے مزاج میں تکلف کی جگہ سادگی اور فاصلے کی جگہ قرب تھا۔ نرم لہجہ، بشاشت آمیز مسکراہٹ اور دوسروں کے لیے وقت نکالنے کا وصف انہیں ایک شخصیت سے بڑھ کر ایک روحانی پیشوا بنا دیتا تھا۔ ان سے ملاقات کرنے والا شخص اپنے دل کا بوجھ ہلکا اور ذہن کو منور محسوس کرتا۔
علمی و ادبی میدان میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا۔ ان کے شاعرانہ کلام اور تحریروں میں خواجہ غلام فریدؒ کی وارفتگی، صوفیانہ رموز اور عشقِ رسول ﷺ کی حرارت جھلکتی ہے، تاہم اس اسلوب کے ساتھ کہ جدید ذہن بھی اس پیغام سے قریب ہو سکے۔ وہ دین کی اصل روح کو باطن کی اصلاح، اخلاق کی تطہیر اور بندگانِ خدا کے لیے رحمت بننے میں دیکھتے تھے۔ ان کے نزدیک تصوف جمود نہیں بلکہ حرکت، بے عملی نہیں بلکہ بامقصد زندگی اور گوشہ نشینی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی علمی میراث آج بھی مختلف حلقوں میں رہنمائی کا درجہ رکھتی ہے۔
خدمتِ انسانیت ان کی فکر کا مرکزی عنوان تھی۔ وہ خدمت کو محض وقتی خیرات نہیں بلکہ بندگیِ رب کا عملی اظہار سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک خانقاہ اسی وقت با برکت ہے جب وہاں سے غم زدہ کو تسلی، محتاج کو وقار کے ساتھ مدد اور شکستہ دل کو حوصلہ ملے۔ ان کے زیرِ اثر فلاحی سرگرمیاں اور سماجی خدمات مستقل مزاجی سے جاری رہیں اور ان کے مریدین نے اس ذوق کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنایا۔
سماجی سطح پر وہ جوڑنے والی قوت تھے۔ اختلاف کو اتفاق میں بدلنا، نفرت کو محبت سے زائل کرنا اور بدگمانی کے بجائے حسنِ ظن کو فروغ دینا ان کے مزاج کا خاصہ تھا۔ وہ اس امر پر زور دیتے کہ اگر خانقاہ انسان کو انسان سے نہ جوڑ سکے تو وہ تصوف کی اصل روح سے خالی ہے۔ اسی لیے وہ مسلکی اور گروہی تقسیم سے بلند ہو کر ایک وسیع انسانی دائرے کے داعی تھے، جہاں ہر فرد کے لیے احترام اور جگہ موجود ہو۔
ان کی ذات اہلِ علم اور اہلِ قلم کے لیے بھی سراپا شفقت تھی۔ راقم الحروف (مسعود اختر ہزاروی) کے ساتھ ان کا تعلق خلوص اور محبت کی روشن مثال تھا۔ جب بھی لاہور میں ملاقات ہوتی، وہ نہایت محبت سے گھر مدعو کرتے، کشادہ دستر خوان اور علمی گفتگو سے دل و دماغ کو تازگی بخشتے۔ ایک عرس کے موقع پر گڑھی شریف رحیم یار خان آنے کی خصوصی دعوت دی؛ یہ دعوت محض سفر کی نہیں بلکہ نسبتِ فریدیہ کے فیض کو قریب سے محسوس کرنے کا موقع تھی۔ اس حاضری کی روحانی حلاوت آج بھی دل میں تشکر اور محبت کی لہر تازہ کر دیتی ہے۔
ان کا پیغام یہ تھا کہ عبادت کا کمال اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اس کے اثرات انسان کے رویّوں میں جھلکیں۔ زبان نرم ہو، ہاتھ سخی ہو، دل وسیع ہو اور قدم کمزوروں کی اعانت کے لیے اٹھیں۔ آج کے پُرآشوب اور منقسم دور میں ان کی تعلیمات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ حقیقی دین وہ ہے جو انسان کو خود غرضی سے نکال کر خدا اور اس کی مخلوق کے قریب کر دے۔
ان کی رحلت ایک عہد کا اختتام ضرور ہے، مگر ان کا فیض ان کی تعلیمات، مریدین کے کردار اور قائم کردہ اداروں کے ذریعے جاری ہے۔ گڑھی شریف اور رحیم یار خان کی فضا آج بھی ان کے ذکر سے معطر ہے اور ان کے چاہنے والے محبت، رواداری اور خدمت کی اس روایت کو آگے بڑھانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔
یوں خواجہ غلام قطب الدین فریدی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی عظمت شہرت یا اقتدار میں نہیں بلکہ اس روشنی میں ہے جو انسان اپنے بعد دلوں میں چھوڑ جاتا ہے۔ انہوں نے محبت اور خدمت کو اپنی شناخت بنایا، اور یہی ان کی دائمی میراث ہے۔