Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

گیس کا بحران یا ریاستی ترجیحات کا امتحان؟

رمضان کے ابتدائی دنوں کی سحری کا وقت، دیوار گیر گھڑی میں ساڑھے تین کا وقت نظر آرہے تھا۔ ایک متوسط گھرانے کی ماں کچن میں کھڑی چولہا جلانے کی کوشش کر رہی تھی، ماچس کی تیلی جلتی ہے مگر چولہا شعلہ نہیں پکڑتا۔ بچے اور گھر کے دیگر افراد سحری کی تیار ہونے کے انتظار میں اللہ کی عبادت میں مشغول مغموم سے بیٹھ ہوئے تھے مگر گیس کی عدم دستیابی کے باعث سحری تیار ہونے کی صورت حال بڑی گمبھیر نظر آرہی تھی۔
دوسری طرف وہی سحری کا وقت پر یہاں کا منظر کچھ بہت خوف ناک سا کہ علاقہ میں کئی روز سے گیس کی بندش کے اچانک سے گیس کی سپلائی کھول دی گئی اہل خانہ خواب خرگوش میں محو تھے اور پھر خاتون خانہ کچی نیند میں کچن میں آکر ماچس کی تیلی جلاتی ہیں اور پھر ایک زور دار دھماکہ۔
یہ کوئی غیر معمولی منظر نہیں یہ آج کے کراچی کی سچی حقیقت ہے۔
روشنیوں کا شہر کہلانے والا یہ عظیم شہر ایک بار پھر گیس کے شدید بحران کی لپیٹ میں ہے۔ ہر سال سردیوں کے ساتھ یہی مسئلہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ پریشر میں کمی، غیر اعلانیہ بندشیں اور غیر واضح اوقاتِ کار شہریوں کو اذیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ خاص کر ماہ صیام کے اس مقدس ماہ کے شروع ہون سے قبل یہ اعلان بڑی شدمد کے ساتھ کیا جارہا تھا کہ دوران سحر و افطار گیس کی بندش نہیں کی جائے گی مگر ماہ صیام کی ابتدأ میں اکثر رہائشی علاقوں میں صورت حال اس کے برعکس نظر آرہی تھی کہ سحر و افطار سے قبل گیس ناپید نظر آرہی ہے اور کراچی کا کمزور طبقہ اس گیس بندش سے بہت زیادہ متاثر نظر آرہا ہے کہ سحر و افطار گھر پر تیار کرنا انتہائی مشکل مرحلہ بن کر رہ گیا ہے اوپر سے ہمارے بد اعمال کی وجہ سے مہنگائی کا جن اپنا منہ کھولے ہر ایک کو نگلنے کے لیے تیار کھڑا نظر آرہا ہے اور کراچی کا کمزور طبقہ سحر و افطار کا سامان بازار سے بھی نہیں لاسکتے اس لیے مجبوراً انہیں روکھی سوکھی کھا کر سحری کرنی پڑتی ہے اور اس عمل کا جواب دہ کوئی بھی ذمہ دار نہیں ہو پارہا ہے، تمام ذمہ داران کو سب اچھا نظر آرہا ہوتا ہے۔
متعلقہ حکام کا مؤقف ہے کہ طلب میں اضافہ اور مقامی پیداوار میں کمی اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ بلاشبہ قدرتی گیس کے ذخائر میں کمی ایک حقیقت ہے اور درآمدی ایل این جی پر انحصار اخراجات میں اضافہ کرتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورت حال اچانک پیدا ہوئی، کیا پالیسی ساز اداروں کو گزشتہ برسوں میں اس رجحان کا اندازہ نہیں تھا؟
سوئی سردن گیس کمپنی بارہا یہ وضاحت دے چکی ہے کہ رسد اور طلب کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے، اگر ایسا ہے تو طویل المدتی منصوبہ بندی کیوں نہ کی گئی، متبادل توانائی کے منصوبوں میں سنجیدگی کیوں نہ دکھائی گئی، ذخائر کی تلاش اور پیداوار میں سرمایہ کاری کو اولین ترجیح کیوں نہ بنایا گیا؟ یہ مسئلہ صرف تکنیکی نہیں، سماجی بھی ہے۔
گھریلو خواتین کا نظامِ زندگی گیس کے اوقات کے گرد گھومنے لگا ہے۔ مزدور طبقہ دن بھر کی مشقت کے بعد گھر آتا ہے مگر اس بے چارے کو گرم کھانے کی ضمانت نہیں ملتی ہے۔ چھوٹے کاروبار، ہوٹل، تندور اور فوڈ اسٹریٹس براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ روزگار کی رفتار سست ہو رہی ہے۔ حکومت اکثر یہ دلیل دیتی ہے کہ صنعتی شعبے کو ترجیح دینا ضروری ہے تاکہ برآمدات متاثر نہ ہوں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا گھریلو صارفین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟ معیشت صرف کارخانوں سے نہیں چلتی، گھروں سے بھی چلتی ہے۔
توانائی پالیسی بنیادی طور پر وفاقی دائرہ اختیار میں آتی ہے جبکہ اثرات صوبائی سطح پر محسوس ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں اکثر ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی جاتی ہے مگر شہری کے لیے یہ بحث غیر متعلق ہے۔ اسے صرف یہ معلوم ہے کہ اس کے گھر میں گیس نہیں آرہی مگر پابندی کے ساتھ بل آرہا ہے جس میں بے جا غنڈہ ٹیکس بھی وصول کیے جارہے ہیں۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو سماجی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ لوگ متبادل ذرائع کے استعمال جیسا کہ ایل پی جی، لکڑی، کوئلہ استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے، جو نہ صرف مہنگے ہیں بلکہ حفاظتی خطرات بھی رکھتے ہیں۔ اب تو گیس کمپنی والے ایسا محسوس کرنے لگے ہیں کہ ہم دوبارہ سے اس دور میں جینے لگے جب گیس ہوتی ہی نہیں تھی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گیس کی دستیابی اور تقسیم کا شفاف ڈیٹا جاری کیا جائے۔ لوڈ مینجمنٹ کا واضح اور قابلِ عمل شیڈول فراہم کیا جائے۔ متبادل توانائی منصوبوں کو ترجیح دی جائے۔ وفاق اور صوبہ مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔
کراچی پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون ہے اگر یہاں بنیادی سہولیات کا بحران معمول بن جائے تو اس کے اثرات قومی سطح پر مرتب ہوں گے۔ حکومتوں کی کارکردگی کا اندازہ اشتہارات سے نہیں، عوام کے معیارِ زندگی سے لگایا جاتا ہے۔ جب ایک ماں کو یہ یقین نہ ہو کہ شام کو چولہا جلے گا یا نہیں، تو یہ محض تکنیکی خرابی نہیں رہتی۔ یہ ریاستی ترجیحات پر سوال بن جاتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ توانائی کے مسئلے کو سیاسی بیان بازی سے نکال کر قومی ترجیح بنایا جائے۔ مستقل پالیسی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عملی اقدامات ہی اس بحران کا حل فراہم کرسکتے ہیں ورنہ ہر سال سردی آئے گی، بحران آئے گا، بیانات آئیں گے اور کراچی والے گیس کی بندش کے عذاب سہتے ہوئے مرتے یا جلتے رہیں گے اور سوال وہی رہے گا۔ ’’آخر کب تک؟‘‘
کراچی والے گیس کمپنی کے عذاب سے اپنا جانی و مالی نقصان اٹھاتے رہیں گے، کب تک اپنے پیاروں کے زندگیاں گنواتے رہیں گے؟ اس سال ماہ صیام کے ابتدائی دنوں میں دیکھا جائے تو گیس کی وجہ سے کتنا نقصان اٹھانے کے ساتھ ہی جان و مال سے بھی ہاتھ دھونے پڑے ہیں مگر ہمارا قومی المیہ یہ بن کر رہ گیا ہے کہ اپنا قصور نہیں ماننا اور سارا قصور عوام پر یا پھر کسی دوسرے پر ڈال کر چین کا بانسری بجنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔ایک بار پھر سے یہ ہی سوال اٹھتا ہے کہ ’’آخر کب تک؟‘‘

یہ بھی پڑھیں