Search
Close this search box.
پیر ,22 جون ,2026ء

جب خاموشی بولنے لگے

عصرِحاضرکی عسکری دنیامیں جہاں قوتِ بازو سے زیادہ قوتِ علم اورخاموش تیاری فیصلہ کن سمجھی جاتی ہے،وہاں چین کے جدید اور پراسرارطویل فاصلے تک مارکرنے والے فضاء سے فضاء میں وارکرنے والے میزائل پی ایل17کی پہلی جھلک کامنظرعام پرآنا محض ایک تصویرنہیں،بلکہ طاقت کے توازن میں ایک معنی خیزاشارہ ہے،ایسااشارہ جوبہت کچھ کہہ کربھی بہت کچھ ناگفتہ چھوڑدیتا ہے۔پی ایل17کی منظرعام پرآنے والی پہلی جھلک کومغرب میں محض ایک عسکری تصویرنہیں سمجھاگیابلکہ اسے چین کی اس طویل المدت حکمتِ عملی کاایک اورباب تصورکیاگیاہے جس میں خاموشی،ابہام اورتدریج بنیادی اوصاف ہیں۔مغربی عسکری ادارے بخوبی جانتے ہیں کہ چین جوکچھ دکھاتاہے،اس سے کہیں زیادہ چھپاکررکھتاہے اورجوچھپاکررکھتاہے،وہی اصل پیغام ہوتاہے۔
پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پرکھڑاہے جہاں عالمی طاقتوں کی کشمکش محض نظری نہیں رہی بلکہ براہِ راست خطے کی فضاں،سمندروں اور سرحدوں میں محسوس کی جاسکتی ہے۔چین کے عسکری عروج اوراس کے جدیدہتھیار،خصوصاًپی ایل17، پاکستان کیلئینہ صرف ایک اتحادی کی طاقت کامظہرہیں بلکہ ایک نئے تزویراتی ماحول کااعلان بھی۔ بدلتا ہواعالمی عسکری توازن، خصوصاًچین کی جدید فضائی صلاحیتوں (جیسے پی ایل17) کاظہور،جنوبی ایشیااوربحرالکاہل کے خطے میں طاقت کے روایتی تصورات کوازسرِنوتشکیل دے رہاہے۔پاکستان، اپنی جغرافیائی حیثیت اور تزویراتی شراکت داریوں کے باعث،اس تبدیلی سے براہِ راست متاثرہونے والاملک ہے۔
اکیسویں صدی کی عالمی سیاست اب دونہیں بلکہ کم ازکم تین ستونوں پرکھڑی دکھائی دیتی ہے، چین، امریکااوربھارت،ان تینوں کی باہمی کشمکش محض عسکری نہیں بلکہ تہذیبی،معاشی اورنفسیاتی بھی ہے۔ دنیامیں طاقت کاتوازن بدل رہاہے،چین نئی اور بہت طاقتور دفاعی ٹیکنالوجی لارہاہے،جس سے امریکا اور بھارت دونوں اپنی حکمتِ عملی پردوبارہ غورکررہے ہیں۔دفاعی تجزیہ نگاروں کی آرااگرچہ محتاط ہیں،مگران میں اضطراب کی ہلکی سی لرزش نمایاں ہے۔ان کے مطابق پی ایل17ممکنہ طورپردنیاکاسب سے طویل رینج رکھنے والافضاء سے فضاء میں مارکرنے والامیزائل ہوسکتاہے اوراگریہ اندازے درست ثابت ہوئے تومغربی بحرالکاہل میں امریکی فضائی برتری کے لئے یہ محض ایک نیاہتھیارنہیں بلکہ ایک نئی حکمتِ عملی کااعلان ہوگا۔امریکااس سہ فریقی مثلث میں اب بھی خودکوعالمی نظم کانگہبان سمجھتاہے،مگرچین کی خاموش، مسلسل اورسائنسی پیش قدمی اس تصورکوچیلنج کررہی ہے۔ پی ایل17 اسی چیلنج کی ایک مثال ہے ایک ایسا ہتھیار جواعلان سے زیادہ سوال اٹھاتاہے۔
امریکی دفاعی حلقوں میں پی ایل17کوخاص طورپرگیم چینجرکے تناظرمیں دیکھاجارہاہے۔ مغربی بحرالکاہل میں امریکی فضائی حکمتِ عملی برسوں سے طیارہ بردار بحری بیڑوں اوران کے گرد قائم فضائی تحفظ پرقائم رہی ہے، مگر 400کلو میٹریااس سے زائدرینج رکھنے والافضاء سے فضامیں مارکرنے والامیزائل اس تصورکی بنیادوں میں دراڑ ڈال سکتاہے۔
چین اورپاکستان کے مابین دفاعی تعاون محض معاہدوں اورمشقوں تک محدود نہیں،بلکہ ایک مشترک تزویراتی شعورکی صورت اختیار کرچکاہے۔ایسے میں پی ایل17جیسے میزائل پاکستان کے لئے بالواسطہ طورپرایک حفاظتی چھتری کاتصورپیداکرتے ہیں، خاص طورپر جب خطے میں طاقت کاجھکاؤبھارت کی جانب بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہوں۔چین کی طویل فاصلے تک مارکرنے والی فضائی صلاحیت خطے میں فضائی بالادستی کے تصورکومحدودکررہی ہے۔اس کے نتیجے میں بھارت کی فضائی آپریشنل آزادی متاثر ہوسکتی ہے،جو بالواسطہ طور پر پاکستان کے لئے ایک ڈیٹرنس سٹیبلائزر (بازدارتوازن) کاکردارادا کرسکتی ہے۔یہ تبدیلی پاکستان کے لئے براہِ راست جنگ کاپیغام نہیں،بلکہ ایک موقع بھی ہے کہ خطے میں طاقت کاتوازن برقراررہے اور کوئی ملک بلاروک ٹوک برتری حاصل نہ کرسکے۔
چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تصویرحالیہ ایام میں چینی سوشل میڈیا پرگردش کرتی رہی ہے،مگراس کے وقت اورمقام کے بارے میں سرکاری سطح پرکوئی تصدیق سامنے نہیں آسکی۔ گویایہ تصویربھی چین کی عسکری روایت کے مطابق خاموشی میں بولنے والی ایک علامت ہے۔ امریکامیں عسکری تجزیہ کاراس نکتے پرمتفق دکھائی دیتے ہیں کہ پی ایل17کااصل ہدف محض دشمن طیارے نہیں بلکہ ہائی ویلیوایئراثاثے ہیںجیسے فضائی ری فیولنگ ٹینکرز،ایئربورن وارننگ اینڈ کنٹرول سسٹمز ’’اواکس‘‘ اور کمانڈاینڈکنٹرول پلیٹ فارمز،یہ وہ آنکھیں اور شریانیں ہیں جن کے بغیرجدید فضائی جنگ اندھی اورکمزورہوجاتی ہے ۔
پاکستانی عسکری منصوبہ بندی میں فضائی طاقت ہمیشہ ایک فیصلہ کن عنصررہی ہے۔اگرچین خطے میں طویل فاصلے تک مارکرنے والی فضائی صلاحیت میں برتری حاصل کرتاہے تواس کافائدہ پاکستان کوایک اسٹریٹیجک ڈیپتھ کی صورت میں مل سکتاہے ا،یسی گہرائی جوبراہِ راست تصادم کے بغیرتوازن قائم رکھے۔چین کے ساتھ پاکستان کی دفاعی شراکت داری محض ہتھیاروں کے حصول تک محدودنہیں بلکہ مشترکہ تزویراتی مفادات پرمبنی ہے۔چین کی بڑھتی ہوئی فضائی برتری پاکستان کوایک محفوظ اسٹریٹیجک ماحول فراہم کرسکتی ہے،بشرطیکہ پاکستان اپنی پالیسی خودمختاری برقراررکھے۔چین کی مضبوطی کامطلب یہ نہیں کہ پاکستان کولاپرواہوجانا چاہیے، بلکہ اس کامطلب یہ ہے کہ پاکستان کواپنی دفاعی اورسفارتی پالیسی زیادہ سمجھ داری سے چلانی ہوگی۔
بھارت اس منظرنامے میں خودکوامریکا کا فطری اتحادی تصورکرتاہے،مگراس کی جغرافیائی حقیقت اسے چین کے بالکل سامنے لاکھڑا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ چینی عسکری ترقی، خصوصافضائی طاقت،بھارت میں محض تشویش نہیں بلکہ بیچینی پیداکررہی ہے۔بھارتی اسٹریٹیجک حلقوں میں یہ احساس گہراہوتاجارہا ہے کہ اگر چین فضائوں میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلیتاہے تو جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن بھارت کے حق میں نہیں رہے گااوریہی احساس بھارت کو تیز تر عسکری تیاری اورمغربی اتحادوں کی طرف دھکیل رہاہے۔
تصویرمیں ایک پی ایل17میزائل یااس کاہم قامت ماڈل ایک اسٹینڈپررکھادکھائی دیتاہے۔ اس کے سامنے کھڑاشخص،جس کاچہرہ ڈیجیٹل پردے میں چھپایا گیا ہے،خوداس راز داری کا استعارہ بن جاتاہے جو چینی دفاعی منصوبہ بندی کی پہچان ہے۔بیشترعسکری ماہرین کاخیال ہے کہ یہ اصل میزائل نہیں بلکہ اس کاماڈل ہے،تاہم اس کاحجم بعینہ حقیقی میزائل کے مطابق ہے اورعسکری دنیامیں حجم اکثرسچ بولتاہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں