ان سے نظریاتی اختلاف تھا ،ہے اور رہے گا ، مگر امریکہ و اسرائیل کے فرعونوں کے سامنے سر نہ جھکا کر اس بوڑھے شیر نے مزاحمت کی جو تاریخ رقم کی وہ ہمیشہ مزاحمت کاروں کے حوصلوں کو جلا بخشتی رہے گی،افسوس صد افسوس کہ ایران کو بیرونی دشمنوں سے زیادہ اندرونی غداروں نے نقصان پہنچایا،ایرانی غداروں کی غداری نے ایران کی ساری میزائل طاقت کو زیرو کر دیا،بڑے دکھی دل کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ایرانی قیادت کی نظریں باہر تو لگی رہیں ،مگر تہران سمیت ایران کے دوسرے شہروں میں پھیلا ہوا غداروں کا نیٹ ورک ان کی آنکھوں سے اوجھل رہا، کاش اے کاش!کہ ایران اندر غداروں کے پھیلے ہوئے جال کو کاٹنے کی کوشش کرتا تو شائد اسے آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،دیکھا جائے تو اب تک کی دونوں جنگوں میں انٹیلی جنس اور مخبری کی بنیاد پر تمام کارروائیاں ہوئی ہیں۔ میڈیا کی زینت بننے والی ایک رپورٹ کے مطابق مخبروں اور غداروں کی وجہ سے ایران کو شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑا،ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اتوار کی صبح تصدیق کی ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کو ہونے والے دجالی فضائی حملوں میں چل بسے، اس اعلان سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی یہ خبر دے چکا تھا۔ تاہم ابتدائی طور پر تہران کی جانب سے اس کی تردید کی گئی، مگر بعد ازاں سرکاری سطح پر اس کی تصدیق کر دی گئی اور ملک میں چالیس روزہ سوگ جبکہ سات دن کے لئے سرکاری تعطیلات کا اعلان کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے اپنے بیان میں خامنہ ای کی شہادت کو عالمی طاغوتی قوتوں کے خلاف ایک نئی جدوجہد کا نقطہ آغاز قرار دیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی بدلہ لینے کا اعلان کیا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب سپریم لیڈر اپنے دفتر میں سرکاری امور انجام دے رہے تھے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان کے چند قریبی اہلِ خانہ بھی انہی حملوں میں نشانہ بن گئے۔دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اس کارروائی کو ایرانی عوام اور امریکیوں دونوں کے لئے انصاف قرار دیا۔ اس کے مطابق ایرانی قیادت جدید انٹیلی جنس اور نگرانی کے نظام سے بچ نہ سکی۔ امریکی نشریاتی اداروں NBC News، CBS News اور ABC News کو دئیے گئے انٹرویوز میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں فیصلہ سازی کرنے والی مرکزی قیادت کا بڑا حصہ ختم ہو چکا ہے اور اب قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ بمباری کم از کم چند روز جاری رہے گی اور ضرورت پڑی تو اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔امریکی ویب سائٹ Axios کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ اس کے پاس فوجی کارروائی کے علاوہ بھی متبادل راستے موجود ہیں، مگر اس کا دعویٰ تھا کہ ایران نے حالیہ مہینوں میں اپنے جوہری ڈھانچے کی بحالی کی کوشش کی، جس نے اس حملے کو ناگزیر بنا دیا۔ آزاد مبصرین نے تعمیراتی سرگرمیوں کی نشاندہی تو کی ہے، لیکن جوہری پروگرام کی مکمل بحالی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔الجزیرہ کے مطابق دجالی قوتوں کا یہ حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایرانی ریاستی ڈھانچے بلکہ پورے خطے کے لئے ایک زلزلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خامنہ ای تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کے سب سے طاقتور منصب پر فائز رہے اور ریاستی، عسکری اور مذہبی اداروں کی سمت کا تعین کرتے رہے۔ ان کے جانے سے پیدا ہونے والے خلا نے قیادت کے تسلسل سے متعلق اہم سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔گزشتہ دنوں بعض عالمی ذرائع ابلاغ میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ 67سالہ علی لاریجانی کو بطور نائب یا ممکنہ جانشین سامنے لایا جا سکتا ہے۔
لاریجانی ماضی میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ رہے، پارلیمان کے اسپیکر رہ چکے ہیں اور اس وقت اہم ریاستی اداروں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ تاہم باضابطہ طور پر نئے سپریم لیڈر یا قائم مقام کی تقرری سے متعلق کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔ ایران کا آئینی طریق کار مجلس خبرگانِ رہبری کے ذریعے نئے رہبر کے انتخاب کا تقاضا کرتا ہے، اس لئے آئندہ چند دن فیصلہ کن ہوں گے۔اس حملے کی کامیابی کے پس منظر میں داخلی سلامتی کے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔
ایرانی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اتنی اعلیٰ سطح تک رسائی محض بیرونی ٹیکنالوجی سے ممکن نہیں تھی بلکہ اندرونی کمزوری یا معلومات کے افشا ہونے نے کردار ادا کیا ہو گا۔ ایران گزشتہ برسوں میں داخلی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے، مگر اس واقعے نے سیکورٹی ڈھانچے کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔عسکری اعتبار سے موجودہ مرحلے میں اصل معرکہ میزائل اور فضائی دفاعی نظام کا ہے۔ ایران کی جوابی صلاحیت کا دارومدار اس کے بیلسٹک اور کروز میزائل پروگرام پر ہے۔ جب تک امریکہ اور اسرائیل ایران کی میزائل تنصیبات اور لانچنگ سائٹس کو مکمل طور پر غیر موثر نہیں بناتے، جوابی کارروائی کا امکان برقرار رہے گا۔ تاہم زمینی حملہ یا ایران پر براہِ راست قبضہ فی الحال بعید از قیاس دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ایران کا جغرافیہ، آبادی اور عسکری ڈھانچہ کسی بھی بیرونی طاقت کے لئے ایک طویل اور مہنگی مہم کا تقاضا کرے گا۔
سیاسی طور پر یہ بحران دو ممکنہ راستوں کی طرف جا سکتا ہے یا تو سخت گیر دھڑے مزید مضبوط ہو کر مزاحمت کی حکمت عملی کو وسعت دیں گے یا پھر قیادت کی تبدیلی کے بعد کوئی نیا توازن پیدا ہوگا جو محدود مفاہمت یا ازسرنو مذاکرات کی راہ کھول دے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بیک وقت فوجی دبائو اور سفارتی امکان کا ذکر اسی دو رخی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کل کے مقابلے میں آج سیاسی تصفیہ کی راہ بہت آسان ہوگئی ہے۔
فی الحال ایران ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ قیادت کا خلاء، اندرونی سلامتی کے خدشات، میزائل طاقت پر انحصار اور عالمی دبائو، یہ سب عوامل مل کر آنے والے دنوں کو غیر معمولی اہم بنا رہے ہیں۔ اگر ریاستی ڈھانچہ منظم انداز میں جانشینی کا مرحلہ طے کر لیتا ہے تو نظام اپنی بقاء برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن اگر داخلی انتشار بڑھتا ہے تو یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک نئے عہد کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔