(گزشتہ سےپیوستہ)
پینٹاگون کے اندراس میزائل کوچین کی حکمتِ عملی کاایک فطری تسلسل سمجھاجارہاہے۔یعنی ایساہتھیار مخالف رسائی،علاقے سے انکارجوبراہِ راست جنگ چھیڑنے کے بجائے دشمن کومیدان میں آنے سے پہلے ہی روک دے۔اس زاویے سے دیکھاجائے توپی ایل17 طاقت کے اظہارسے زیادہ طاقت کے نفسیاتی استعمال کاآلہ بن جاتا ہے۔پی ایل 17 جیسے نظام امریکا اور بھارت کے دفاعی تعاون کومزید گہراکرسکتے ہیں۔ بھارت اورامریکاکے بڑھتے ہوئے تعلقات خطے میں دبائو بڑھاسکتے ہیں،اس لیے پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ وہ نہ جذبات میں آئے اورنہ ہی تنہائی کاشکار ہو۔ پاکستان اس رجحان کومحض خطرے کے طورپر نہیں بلکہ پالیسی ایڈجسٹمنٹ کے موقع کے طورپردیکھنا چاہیے، خاص طورپر فضائی دفاع اورالیکٹرانک وارفیئر میں۔ تاہم اس منظرنامے کادوسراپہلوبھی نظر اندازنہیں کیاجا سکتا ۔ عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری مسابقت پاکستان پردباؤڈال سکتی ہے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریاورتاریخ گواہ ہے کہ دباؤکے لمحوں میں غیرجانبدار رہنا سب سے مشکل امتحان ہوتاہے۔پاکستان کے لئے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کس کے ساتھ کھڑاہے،بلکہ یہ ہے کہ وہ کس حدتک خودمختار عسکری اورسفارتی فیصلہ سازی برقراررکھ سکتاہے۔ پاکستان پربلاک پولیٹکس کا دباؤبڑھ سکتاہے، علاقائی کشیدگی میں اضافہ پاکستان کی معاشی ترجیحات کومتاثرکرسکتا ہے،کسی ایک طاقت پرحدسے زیادہ انحصار اسٹریٹیجک کمزوری بن سکتا ہے۔ امریکااس سہ فریقی کھیل میں بھارت کو ایک مہرے کے طورپردیکھتاہے،مگرتاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے کھیل میں مہرے اکثرخودکو بادشاہ سمجھنے لگتے ہیںاوریہی غلط فہمی بڑے سانحات کوجنم دیتی ہے۔ اگرپاکستان نے دانش مندی سے اس بدلتے توازن کوپڑھ لیا،تووہ محض ردِعمل دینے والی ریاست نہیں رہے گابلکہ خطے میں استحکام کی آوازبن سکتاہے اوراگر یہ موقع ضائع ہواتو طاقتوروں کی کشمکش میں کمزورکی حیثیت ہمیشہ تاریخ کاتلخ باب رہی ہے۔اگرپاکستان نے دانش مندی سے فیصلے کیے توبدلتی دنیامیں وہ کمزور نہیں بلکہ ایک ذمہ داراورمؤثرریاست کے طورپرابھرسکتا ہے۔فضائی دفاعی نظام اورالیکٹرانک وارفیئرمیں سرمایہ کاری،چین کے ساتھ دفاعی تعاون میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر زور، امریکااوردیگرعالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن سفارتی روابط، خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے سفارتی کردار کو فعال بنانانہ مصرف وقت کاتقاضہ بلکہ انتہائی اہم ہے۔ چین،اس کے برعکس،براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے طاقت کو(بازدارقوت)ڈیٹرنس کے طور پر استعمال کررہاہے۔پی ایل17 جیسے میزائل اسی فلسفے کی توسیع ہیں،لڑنے کے لئے نہیں، بلکہ لڑائی سے روکنے کے لئے ہیں۔
انہی محدودتصاویرکی بنیادپرایک امریکی عسکری تجزیاتی ویب سائٹ نے اندازہ لگایاہے کہ پی ایل17کی لمبائی چھ میٹر(تقریبابیس فٹ)سے زیادہ ہوسکتی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک ریڈارگائیڈڈطویل فاصلے تک مارکرنے والامیزائل ہے،جس کی رینج ممکنہ طورپرچارسوکلومیٹرسے تجاوزکرسکتی ہے اوریہی عددعالمی عسکری حلقوں میں تشویش کاباعث بن رہی ہے۔جہاں تک بھارت کا تعلق ہے،وہاں پی ایل17کومحض ایک دورافتادہ بحرالکاہلی مسئلہ نہیں سمجھاجارہا۔بھارتی اسٹریٹیجک حلقے اسے براہِ راست سینوانڈین طاقت کے توازن سے جوڑکردیکھتے ہیں،خاص طورپراس پس منظرمیں کہ چین اوربھارت کے درمیان سرحدی تناپہلے ہی ایک مستقل حقیقت بن چکاہے۔
یوں پاکستان کے لئے پی ایل17جیسے ہتھیاروں کی معنویت میزائل کی رینج سے زیادہ،سیاسی بصیرت کی وسعت میں مضمرہے کہ طاقت کوکیسے دیکھاجائے، کیسے سمجھاجائے،اورکیسے متوازن رکھا جائے۔ اس سہ فریقی طاقت کے توازن میں پاکستان ایک خاموش مگراہم عامل ہے۔اس کی جغرافیائی حیثیت،چین کے ساتھ قربت،اوربھارت کے ساتھ تاریخی تناسب اسے ایک ایسے مقام پرلاکھڑا کرتے ہیں جہاں ایک غلط قدم خطے کوعدم استحکام کی طرف دھکیل سکتاہے۔
پاکستان کے لئے اصل چیلنج کسی ایک ہتھیار یا ملک کانہیں،بلکہ بدلتی ہوئی عالمی حقیقت کوبروقت سمجھنے اوراس کے مطابق خودکو ڈھالنے کاہے۔قومی سلامتی کا تقاضا یہی ہے کہ طاقت، حکمت اورمعاشی استحکام کوایک ہی حکمتِ عملی میں سمویاجائے۔ اگر دانش مندی غالب رہی تویہی سہ فریقی توازن جنوبی ایشیاء کوایک نئی سرد جنگ سے بچاسکتاہے۔ اوراگر غرور،خوف یاغلط اندازے غالب آئے،توتاریخ ایک بارپھریہی کہے گی کہ طاقت نے عقل پرسبقت لے لی۔اس کے مقابلے میں اس وقت امریکی فضائیہ کے زیرِاستعمال سب سے زیادہ رینج رکھنے والا فضاء سے فضاء میں مارکرنے والامیزائل اے آئی ایم 120ڈی ہے جس کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریباً 160کلومیٹربتائی جاتی ہے۔یہ تقابل خوداپنی زبان میں بہت کچھ کہہ دیتاہے۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچین پی ایل17جیسے طویل فاصلے کے میزائلوں کواپنے مغربی تھیٹرمیں موثرطریقے سے تعینات کردیتاہے توبھارتی فضائیہ کی آپریشنل آزادی محدودہوسکتی ہے خصوصاًان طیاروں کے لئے جوری فیولنگ یافضائی نگرانی پر انحصار کرتے ہیں۔پینٹاگون کی جانب سے دسمبرمیں کانگریس کوپیش کی گئی چین کی فوجی طاقت سے متعلق سالانہ رپورٹ میں اس پہلوکی صراحت کی گئی ہے کہ پی ایل17سے لیس جے16لڑاکاطیارے کی حملہ آور صلاحیت 1400کلومیٹرسے زائدہوسکتی ہے یعنی خطرہ محض میزائل تک محدودنہیں بلکہ پورے فضائی نظام تک پھیلاہواہے۔اسی تناظرمیں بھارت میں اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں،میزائل ٹیکنالوجی اور شراکت داروں کے انتخاب پرازسرِ نو غورکی آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔ امریکا،فرانس اوراسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کومحض ہتھیاروں کی خریدنہیں بلکہ ٹیکنالوجیکل توازن کے ایک ذریعہ کے طورپردیکھاجارہاہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پی ایل17کے سیکرسسٹم میں جدیداے ای ایس اے ریڈارشامل ہوسکتاہے،جوپہلے ہی پی ایل15میزائل میں استعمال ہوچکاہے ۔پی ایل15کو 2015 ء میں عملی سروس میں شامل کیاگیاتھااوراس کی رینج200کلومیٹرسے زائدبتائی جاتی ہییوں پی ایل17اس ارتقائی سلسلے کی اگلی اور کہیں زیادہ خطرناک کڑی معلوم ہوتاہے۔ بین الاقوامی طاقت کے توازن کے وسیع تر منظرنامے میں پی ایل 17 ایک واضح اشارہ ہے کہ دنیااب ایک بارپھر ملٹی پولرعسکری نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔وہ دور،جب ایک یا دو طاقتیں فضاں پربلاشرکتِ غیرے حاکم تھیں،آہستہ آہستہ تاریخ کے اوراق میں سمٹتا دکھائی دیتاہے۔چینی میڈیاکے مطابق پی ایل17کی تصویر پہلی مرتبہ2016ء میں منظرعام پرآئی تھی،جب اسے جے16لڑاکاطیارے پرآزمائشی مراحل کے دوران دیکھا گیا۔ جے 16چین کاطاقتورترین ہیوی ملٹی رول فائٹرجیٹ ہے اوراب تک یہی واحدطیارہ ہے جس پرپی ایل17 کی تنصیب کی تصدیق ہوئی ہے گویایہ ہتھیار اور یہ طیارہ ایک دوسرے کے لئے ہی تراشے گئے ہوں۔ عسکری تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ طاقت کا توازن ہمیشہ ہتھیاروں سے نہیں،بلکہ ان ہتھیاروں کے تصورسے بدلتا ہے ۔ پی ایل17شایدابھی پوری طرح عملی صورت میں سامنے نہ آیاہو،مگراس کاتصورہی اتحادی منصوبہ بندی،فضائی مشقوں اوردفاعی بجٹ کی سمت متعین کرنے لگاہے۔
چین کے نقط نظرسے دیکھاجائے توپی ایل 17نہ جارحیت کااعلان ہے،نہ جنگ کی دعوت؛بلکہ یہ اس فلسفے کی توسیع ہے جس میں کہاجاتاہے’’ایسی طاقت حاصل کروکہ جنگ کی نوبت ہی نہ آئے‘‘۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں عسکری طاقت سفارت کاری کی زبان بولنے لگتی ہے۔یوں پی ایل17کو اگرمحض ایک میزائل سمجھاجائے تویہ اس کے اثرات کوکم کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔درحقیقت یہ ایک علامت ہے اس علامت کی کہ عالمی طاقت کامرکزبتدریج حرکت میں ہے ، اورفضائیں بھی اب اسی حرکت کی گواہ بن رہی ہیں۔
اگرعسکری تاریخ ہمیں کچھ سکھاتی ہے تووہ یہ کہ خاموش تیاری سب سے بلنداعلان ہوتی ہے۔پی ایل 17 بھی شایداسی خاموشی کانام ہے ،ایک ایسانام جو ابھی پوری طرح پکارانہیں گیا،مگرجس کی بازگشت بحرالکاہل کے افق پرسنائی دینے لگی ہے۔طاقت جب حکمت سے خالی ہو تو فتنہ بن جاتی ہے،اورحکمت جب طاقت سے عاری ہوتو دعارہ جاتی ہے۔آج کی دنیاکودونوں درکار ہیں اور پاکستان کوان دونوں کے بیچ اپناراستہ خود تراشنا ہے۔ طاقت کازمانہ شورسے نہیں، توازن سے پہچاناجاتاہے۔جوقوم توازن سمجھ لیتی ہے،وہی تاریخ میں اپنامقام محفوظ رکھتی ہے۔پی ایل17شایدآج ایک مبہم سایہ ہے، مگرطاقت کی تاریخ میں سائے اکثرآنے والے طوفانوں کی خبر دیتے ہیں۔