قدرت کا پورا نظام اعتدال اورتناسب سے چل رہا ہے ۔اعتدال کے دائرے سےجب چیزیں نکل کربلند یازیریں حدوں کو چھونے لگتی ہیں تو ان کے اثرات اور فوائد بھی نت نئی شکل اختیار کر تےچلے جاتے ہیں۔ ہولے ہولے چلتی ماحول کو سہلاتی پُرلطف ہواجب تند رفتار ہو جائے تو آندھیوں میں بدل جاتی ہے۔ جھرنوں، چشموں اور دریائوں میں بہتا دلنشین پانی جب اپنی حدوں سے نکلتا ہےتو ایک طوفانِ بلا خیز کی طرح بستیوں کو اُجاڑتا چلا جاتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ یا کم پانی پیڑ پودوں کو بھی دیا جائےتو وہ برگ و بارلانا چھوڑدیتے ہے ۔انسان بھی انہی ہوائوں اورپانیوں کی طرح ہےجو جب حدوں سے نکلتا ہےتو معاشرے کے لئے کسی آندھی اور طوفان سے کم زہرناک نہیں ہوتا۔زندگی کی ہرادا اور روپ اعتدال کا تقاضا کرتا ہے۔ہمارا دین عبادات میں بھی اعتدال کا درس دیتا دکھائی دیتا ہے۔ہمارے رویوں اور لہجوں میں بھی ایک اعتدال ہی ہمیں ایک کامیاب اور باوقار انسان بناتا ہے۔ جب ہم زیادہ مشکلات، آزمائش اور الجھنوں میں گھِرجائیں تویقین رکھناچاہئے کہ یہی مشکلات ہی حد سے بڑھ کر آسانیوں میں ڈھل جائیں گی۔ مرزا غالب نے کہا تھا’
رنج سے خوگر ہو انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑی اتنی کہ آساں ہو گئیں
قدرت نے انسان کو بھی ایک اعتدال اور تناسب سے پیدا کیا ہے۔ انسان کے اندر موجود جذبات اور محسوسات سے قطع نظر انسان کا جسم اور اس کے اندر حرکت کرتے نظام کو ایک مشین کی طرح دیکھا جائے تو اس مشین کو بھی ایک حد تک ایندھن، خوراک اور غذا درکار ہے۔جسم کے کلیدی اعضاء کو بھی اپنا کام اعتدال سے کرنا ہے۔ ہم زیادہ اور نامناسب خوراک کا بےجا استعمال کرکے ان اعضاء پر بوجھ ڈالتے ہیں جس سے ان کے افعال اور عمر دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ پچھلی تحریر میں صنعتی خوردنی تیل اور اس کے نقصانات کا احاطہ کیا گیاتھا۔ دیسی گھی کےعلاوہ صنعتی تیل اور بناسپتی گھی کے متبادل کے طور پر سرسوں کا کشید کردہ تیل لے کر اسے گھر میں میٹھا کرنے کے عمل سے گزار کر استعمال کیا جائے تو وہ زیادہ ارزاں اور مفیدِجاں بھی ہے۔
آج کل پوری دنیامیں اور ہمارے ہاں بھی موٹاپا،کولیسٹرول میں اضافہ، شوگر کا مرض بڑھتاچلاجارہا ہےجس کاشکار نوجوان نسل بھی ہو رہی ہے۔ان سب عارضوں کا منبع چربی زدہ جگر((Fatty Liver بنتا ہے۔ فیٹی لیور اوراس سے جُڑے عارضوں کے بارے میں عام لوگوں میں یہ رائےپائی جاتی ہے کہ ایسا زیادہ چکنائی یا گھی کھانے سے ہوتا ہے۔ یقینا تیل اور گھی یا کسی بھی چیزکا زیادہ استعمال نقصان دہ ہے۔ جس کا زکر بھی کیا جا چکا ہے مگر جہاں تک فیٹی لیورکی بات ہےتو یہ چکنائی کھانےسےنہیں بلکہ نشاستہ داراجزاء( کاربو ہائیڈریٹس) کےزیادہ استعمال سے ہوتا ہے۔ نشاستہ دار اجزاء میں سے سب سے ذیادہ مضر چینی ہے جس کا ہمارے ہاں عام دنوں کے علاوہ رمضان میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ یہ چینی جس کو ہم اپنےذائقوں میں مٹھاس کےلئے استعمال کرتے ہیں دراصل یہ ہماری زندگی میں مٹھاس نہیں بلکہ وہ کڑواہٹ لے کر آتی ہے جس سے ہماری صحت اور زندگی سب متاثر ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں اسی لئے چینی کو سفید زہر سے تشبیہ دی جاتی ہے۔چینی کے بے دریغ استعمال سے جسم میں ایک خاموش طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ خون میں گلوکوز کی سطح تیزی سے بلند ہو کر انسولین کی شدید سپائیک پیدا کر دیتی ہے۔ یہ بار بار آنے والی سپائیک جسم کے خلیوں کو انسولین کے لئےکمزور بنا دیتی ہے۔اور اضافی شُوگر جگر کی طرف رُخ کر کے وہاں چربی میں تبدیل ہوکر جگر کو اپنا مسکن بنا لیتی ہے اور آہستہ آہستہ جگر چربی سے بھرنا شروع ہو جاتا ہےاور فیٹی لیور میں تبدیل ہو جاتا ہے۔یہ دھیرے دھیرے بڑھنے والی ایسی بیماری ہے جو جگر کو چکنائی کے بوجھ تلےدباکر سوزش کوجنم دیتی ہےاورمستقبل میں سنگین امراض کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ روزوں میں وقت افطار زیادہ کھانا اور اس کے ساتھ میٹھے مشروبات کا پیناجگر کی چربی میں اضافہ کا بہت بڑا سبب بنتا ہے۔یہ چربی بڑھتے بڑھتے جگر کو اس سطح پر لےجاتی ہےجہاں وہ اپنے بنیادی افعال ادا کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔اس کے نتیجہ میں پیٹ میں پانی جمع ہونا،خون کی نالیاں پھٹنا،یرقان کی شدت،اورسب سے خوفناک جگر کے کینسر تک نوبت آسکتی ہے۔یہ کولیسٹرول میں اضافہ، دل کے عارضوں اور گردوں کے مسائل کو بھی دعوت دیتا ہے۔ان بیماریوں سے دور رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے کی ہم چینی اور چینی سے بنی ہوئی اشیاء سے اجتناب کریں۔ اپنے کھانوں اور زبان کو مٹھاس دلانے کے لئے قدرتی میٹھی اشیاء( پھل اور شہد) کا مناسب مقدار میں استعمال کیا جائے۔
اس کے علاوہ گندم اور اس سے بنی اشیاء اور چاول نشاستہ دار اجزاء کی وہ اقسام ہیں جو جسم میں جاتے ہی گلوکوز میں بدل کر انسولین سپائک کا زریعہ بنتی ہیں۔ غذائی ماہرین اسی لئے سفارش کرتے ہیں کہ ایسی خوراک جب بھی کھائیں ، تھوڑی مقدار میں کھائیں اور اپنی خوراک کو چھوٹے چھوٹےحصوں میں تقسیم کر کے اسے دن بھر میں مناسب وقفہ دےکر لیاجائے تاکہ کسی ایک وقت میں شوگر( گلوکوز) کی مقدار بڑھ کر انسولین سپائیک کا سبب نہ بنے۔ رمضان میں چونکہ سارا دن کھانے پینے سے پرہیز رہتا ہے جس کی وجہ سے وقت افطار مشروبات اور گندم سے بنی اشیاء کا زیادہ استعمال اور وہ بھی پورا مہینہ ہمارے جگر اور صحت کے لئے بالکل بھی مفید نہیں۔ نشاستہ دار خوراک میں سب سے مفید وہ ہیں جس سے ہمیں فائبر کا حصول ہو۔یہ مفید فائبر ہمیں اجناس میں اور پھلوں سبزیوں میں ملتا ہے۔ میدے کی روٹی اور میدے کی بنی اشیاء سے مکمل پرہیز صحت کی ضمانت دیتا ہے۔ چکی والی گندم جس میں اس کا فائبر الگ نہ کیا گیا ہو ، زیرِ استعمال لانی چاہئے۔ جو کی بنی ہوئی روٹی اور دلیے میں فائبر کی اچھی قسم پائی جاتی ہے۔ آج کل مختلف نوع کےاجناس ملاکر جو آٹا((Multi grain flour استعمال کرنےکا رجحان ہے وہ بہت صحت افزاء ہے۔مفید فائبر کا استعمال کولیسٹرول میں کمی اور ہمارے پورے نظام انہظام کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ یہ معدے کو بھرے ہونے کا احساس دلا کر بھوک کو بھی بڑھنے سے روکتا ہے۔ اس کی اس خاصیت کی وجہ سے جو کا دلیہ سحری کی ایک بہترین غذا بن سکتا ہے۔ ان ساری حقیقتوں کا خلاصہ یہی نکلتا ہے کہ اعتدال اورشعور کےساتھ اپنی خوراک کا اہتمام رکھیں توصحت کےان خاموش دشمنوں کودور بھگا کر اپنے جگر کی تازگی اور توانائی کو واپس پایاجا سکتا ہے۔ صحت مند غذا اور چینی سے دوری ہی جسم کو سکون اورجگر کو تحفظ دیتی ہے۔ یہ اعتدال ہمارے وزن کو بھی بڑھنے سے روکتا ہے جس سے ہم بہت سی پیچیدگیوں سے بچ جاتے ہیں۔رہبرِ انسانیت حضرت محمد ﷺ نے کھانے پینے میں اعتدال اختیار کرنے کے لئے کتنا خوبصورت اصول بیان فرمایا تھا کہ مومن ایک آنت سے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے۔ اگر ہم قناعت کا یہ اصول اپنا کر چلیں اور اپنی بھوک چھوڑ کر کھانا سیکھ جائیں تو ہم روزوں کی برکات سے بھی مستفید ہوں گے۔ ہمارے جسمانی نظام میں سدھار اور کارکردگی میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آئے گا،ہم بہت سے عارضوں سے محفوظ رہیں گے اورہمارے ذہنوں میں چھائی دھند اور کاہلی بھی چھٹ جائے گی۔