آصف علی زرداری کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں سخت لہجے کی بازگشت سنائی دی۔ اس اجلاس میں مراد علی شاہ اور مرتضی وہاب کو مبینہ طور پر کراچی اور سندھ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی ناکامی پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق صدرِ مملکت نے نہ صرف کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا بلکہ اس بات پر بھی زور دیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مسلسل تاخیر ناقابل قبول ہے۔یہ منظر نامہ کسی ایک اجلاس تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے مسئلے کی علامت ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے روشنیوں کے شہر کو اندھیروں کی نذرکردیا؟جب اعلیٰ سطح کے اجلاس میں سخت الفاظ ادا کئے جاتے ہیں تو یہ محض افراد کی سرزنش نہیں ہوتی بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ اگر ترقیاتی منصوبے کاغذوں تک محدود رہیں، فنڈز بروقت استعمال نہ ہوں، اور نگرانی کا موثر نظام موجود نہ ہو تو نتائج وہی نکلتے ہیں جو آج کراچی کے باسی دیکھ رہے ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں صفائی کی صورتحال تشویشناک ہے۔ بارش ہو یا نہ ہو، گلیوں میں پانی کھڑا رہنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ سیوریج لائنوں کا ابلنا اور سڑکوں پر گندگی کا پھیلا شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ صرف جمالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ صحتِ عامہ کا سنگین خطرہ بھی ہے۔ ڈینگی، ملیریا اور دیگر بیماریوں کے پھیلائو کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔اسی طرح روشنیوں کے شہر کی پہچان سمجھی جانے والی اسٹریٹ لائٹس کی بندش نے شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا دیا ہے۔ رات کے اوقات میں تاریک سڑکیں جرائم کے امکانات کو بڑھاتی ہیں اور شہری خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب وسائل موجود ہیں تو ان کا موثر استعمال کیوں نہیں ہو پا رہا؟سیاسی قیادت کے لئے یہ لمحہ فکریہ ہے۔اگرصدرِمملکت کوخود اجلاس میں سخت الفاظ استعمال کرنے پڑیں تو اس کا مطلب ہے کہ معاملات معمول کے مطابق نہیں چل رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے لئے بھی یہ ایک کڑا امتحان ہے کیونکہ سندھ میں طویل عرصے سے حکومت اسی جماعت کے پاس ہے۔ عوام اب محض وعدوں سے مطمئن نہیں ہوتےوہ عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی کے مسائل صرف موجودہ انتظامیہ تک محدود نہیں۔ یہ شہر دہائیوں کی بے ہنگم آبادی، ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی کشمکش کا شکار رہا ہے۔ مختلف ادوار میں اختیارات کی کشمکش نے بلدیاتی نظام کو کمزور کیا۔ کبھی صوبائی حکومت اور شہری انتظامیہ کے درمیان اختلافات سامنے آئے توکبھی فنڈز کی تقسیم پر تنازعات نے ترقیاتی کاموں کو سست روی کا شکار کیا۔ مگر اب وقت بہانوں کا نہیں، حل کا ہے۔مراد علی شاہ بطور وزیر اعلیٰ صوبے کے انتظامی سربراہ ہیں۔ ان پر لازم ہےکہ وہ نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کریں ۔اسی طرح مرتضی وہاب بطور میئر شہر کی بنیادی سہولیات کے براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ اگر گلیوں کی صفائی، سڑکوں کی مرمت اور اسٹریٹ لائٹس کی بحالی جیسے بنیادی اموربھی حل نہ ہوں تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا فطری امر ہے۔کراچی کی معیشت پورے ملک کی معیشت سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں کی بندرگاہیں، صنعتی زونز اور تجارتی مراکز ملکی آمدنی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ اگر شہر کی انفراسٹرکچر کمزور ہو گی تو سرمایہ کاری متاثر ہو گی، روزگار کے مواقع کم ہوں گے اور معاشی سرگرمیاں سست پڑ جائیں گی۔ یوں یہ مسئلہ محض شہری نہیں بلکہ قومی سطح کا بن جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ایک میز پر بیٹھیں اور کراچی کے لئے ایک جامع، طویل المدتی اور قابلِ عمل حکمتِ عملی ترتیب دیں۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے گریز کیا جائے اور شہری مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، شفاف ٹینڈرنگ کا نظام، اور عوامی شمولیت پر مبنی نگرانی کےطریقہ کار اپنائےجائیں۔ ہرمنصوبے کی ڈیڈلائن مقررہواوراس کی پیش رفت باقاعدگی سے عوام کے سامنے پیش کی جائے۔ عوام بھی اس منظرنامے میں محض تماشائی نہیں۔ شہری شعور اور ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے۔ صفائی ستھرائی کےحوالے سے شہریوں کا تعاون، بلدیاتی نمائندوں سے مسلسل رابطہ اور شکایات کے موثر اندراج کا نظام حالات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر بنیادی ذمہ داری بہرحال منتخب قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ آصف علی زرداری کی سخت تنبیہ کو اگر اصلاحِ احوال کے ایک موقع کےطور پرلیاجائےتو یہ شہر کے لئے مثبت پیش رفت کا آغاز بن سکتی ہےمگر اگر یہ محض ایک وقتی ردعمل ثابت ہوا تو کراچی کے مسائل بدستور جوں کے توں رہیں گے۔
تاریخ گواہ ہےکہ شہر زندہ رہتے ہیں مگر قیادتیں بدل جاتی ہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا موجودہ قیادت اپنے حصے کا کردار ادا کرے گی یا نہیں۔ کراچی کے باسی ایک بار پھر امید کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا شہر دوبارہ روشنیوں سے جگمگائے، سڑکیں صاف ہوں، نکاسی آب کا نظام درست ہو اور رات کی تاریکی خوف کی علامت نہ بنے۔ یہ خواب کوئی ناممکن نہیں، بشرطیکہ ارادے مضبوط ہوں اور عمل دیانتدارانہ ، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کراچی کو لاوارث شہر بنانے کا تاثر ختم کرنا حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے۔ سخت اجلاس اور تلخ جملے وقتی سرخی تو بن سکتے ہیں، مگر اصل کامیابی تب ہوگی جب شہر کی گلیوں میں بہتری دکھائی دے۔ عوام الفاظ نہیں، نتائج چاہتے ہیں اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر مراد علی شاہ، مرتضی وہاب اور پوری صوبائی قیادت کو پرکھا جائے گا۔