Search
Close this search box.
اتوار ,21 جون ,2026ء

کشیدگی سےتدبرتک

سرحدیں کبھی صرف نقشے پرکھینچی ہوئی لکیریں نہیں ہوتیں وہ تاریخ کے اوراق پرثبت وہ نشانات ہوتی ہیں جن کے پیچھے نسلوں کی ہجرتیں،تہذیبوں کی آمیزشیں اورخون وآہن کی کہانیاں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ پاک، افغان خطہ بھی ایسی ہی ایک سرزمین ہے جہاں پہاڑ خاموش نہیں،بلکہ عہدوں اورعہد شکنیوں کےگواہ ہیں،جہاں ہوامیں صرف گردنہیں اڑتی بلکہ ماضی کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔
آج جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی لہردوبارہ ابھری ہے،تویہ محض دوریاستوں کانزاع نہیں،بلکہ ایک ایسے خطے کاامتحان ہے جوصدیوں سے تہذیبی ربط،مذہبی ہم آہنگی اورجغرافیائی وابستگی میں بندھاہواہے۔بندوق کی آوازاگرچہ لمحاتی فیصلہ سناتی ہے، مگرتاریخ کافیصلہ ہمیشہ تدبر،اعتدال اورحکمت کے پلڑے میں ہوتاہے۔اس پس منظرمیں یہ جائزہ نہ کسی فریق کی وکالت ہے،نہ کسی الزام کی ترجمانی؛بلکہ ایک سنجیدہ کاوش ہے کہ حالات کے دھندلکے میں حقیقت کی کرن تلاش کی جائے،اوراس بحران کومحض خبر نہیں بلکہ فہم کے دائرے میں دیکھاجائے۔
برصغیراورخراسان کی سرحدیں محض جغرافیہ نہیں،تاریخ کی سلگتی ہوئی سطریں ہیں۔یہاں پہاڑگواہ ہیں کہ طاقت کی بازگشت کبھی بندوق سے سنائی دی،کبھی معاہدے کی سیاہی سے۔حالیہ ایام میں جب پاکستان نے افغانستان کے مشرقی صوبوںننگرہار،پکتیااور خوست میں فضائی ضربیں لگائیں تویہ اقدام ایک عسکری کارروائی سے زیادہ ایک سیاسی اعلان تھاکہ ریاست اپنی حدود کے تحفظ کے باب میں خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔کابل نے اسے سرحدی خودمختاری کی پامالی قرار دیتے ہوئے سرحدی خلاف ورزی قرار دیااوردعویٰ کیا گیا کہ عام شہری،حتیٰ کہ خواتین واطفال بھی اس کی زد میں آئے۔ عام شہریوں کی ہلاکت کاالزام عائدکیا اور جواب دینے کی تنبیہ کی۔جدید عالمی قانون میں ریاستی خودمختاری ایک مقدس اصول ہے،اور اس کی خلاف ورزی کو اکثر جارحیت کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔یوں ایک محدود کارروائی بھی سفارتی بحران میں ڈھل سکتی ہے۔ یوں توپ کی آواز سفارتی لغت میں ایک نئے باب کاپیش خیمہ بن گئی۔
21فروری کی شب پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیا اور خوست میں کی جانے والی فضائی کارروائیوں نےخطے کی فضا کوایک بارپھر بارود کی بو سے آلودہ کر دیا۔ پاکستان کی جانب سےان کارروائیوں کو محض ایک محدود عسکری آپریشن سمجھنا سادہ لوحی ہو گی۔ یہ دراصل ایک پیغام تھاداخلی بھی اورخارجی بھی۔ داخلی سطح پر یہ باور کرانا مقصود تھا کہ ریاست اپنی رِٹ قائم کرنے کی اہلیت رکھتی ہے؛ خارجی سطح پر یہ اشارہ کہ اگر سرحد پار سےحملے جاری رہےتو پاکستان حقِ دفاع کے اصول کے تحت پیش قدمی کرے گا۔
اسی جائز حق کو استعمال کرتے ہوئے21 فروری کی شب پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبوں ننگرہار،پکتیا اور خوست میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور دولتِ اسلامیہ خراسان کے سات مراکزکونشانہ بنایا گیاجہاں سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی اور 80 شدت پسندہلاک ہوئے۔اسلام آباد کے مطابق نشانہ وہ مراکز تھے جہاں تحریک طالبان پاکستان اوردولتِ اسلامیہ خراسان کے مسلح عناصرسرگرم تھے۔دعوی کیاگیا کہ متعدد شدت پسندمارے گئے۔ کابل نےاسے سرحدی خودمختاری کی پامالی قراردیتے ہوئےعام شہریوں کی ہلاکت کاالزام عائدکیااور جواب دینے کی تنبیہ کی۔اوراب وہ تنبیہ عملی اقدام میں ڈھل چکی ہے۔یوں توپ کی آواز سفارتی لغت میں ایک نئے باب کاپیش خیمہ بنی اور اب وہ باب باقاعدہ جنگی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔
یہ سارا قضیہ دراصل اس معاہدے کی تعبیرسے جڑاہے جسے دوحہ معاہدہ کے نام سے جاناجاتا ہے۔ دوحہ معاہدہ بنیادی طورپرامریکااور افغان طالبان کے درمیان طے پایاتھا،مگراس کے اثرات پورے خطے پرمرتب ہوئے۔اس عہدنامے میں افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت شامل تھی۔افغان پاکستان کا استدلال یہ ہے کہ افغان طالبان نے دوحہ معاہدہ کی روح کی پاسداری نہیں کی،اس شرط کی روح مجروح ہوئی ہے، اورافغان سرزمین پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لئے استعمال ہورہی ہے اور یہ طرزِعمل دوحہ معاہدہ کی روح کے منافی ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان کاموقف ہے کہ پاکستان اپنی داخلی شورش کوبیرونی رخ دینے کی کوشش کررہاہے جس کابوجھ دوسروں کے کاندھوں پرنہیں ڈالاجاسکتا۔ یوں معاہدے کی تعبیراختلاف کامرکزبن گئی ہے اوراب جنگ نے اس اختلاف کومزید گہراکردیاہے۔
پاکستان کامؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کوافغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔ کابل کاجواب یہ ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔یہاں مسئلہ الفاظ کانہیں، تعبیر کا ہے اور تعبیرہمیشہ اعتمادکی آغوش میں پلتی ہے، بداعتمادی کے سائے میں نہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں عہد اورالزام کے درمیان سچائی کی لکیردھندلاجاتی ہے، اورتاریخ گواہی دیتی ہے کہ جب معاہدے اعتماد کے بغیرہوں تو وہ کاغذکے پرزے بن کرہوامیں اڑجایاکرتے ہیں۔یہاں سوال صرف معاہدے کی تشریح کانہیں،بلکہ اعتمادکی فضا کا ہے ۔ جب نیتوں پرشبہ ہو توالفاظ اپنی معنویت کھودیتے ہیں۔
صدرپاکستان نے خبردارکیاکہ افغانستان میں موجودغیرتسلیم شدہ حکومت دہشت گردعناصرکوپناہ دے رہی ہے،جونہ صرف دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ دنیاکوایک نئے نائن الیون کی دہلیز تک لاسکتی ہے۔ یہ اشارہ یقینا11ستمبرحملوں کی طرف تھاوہ سانحہ جس نے عالمی سیاست کادھارا موڑدیاتھا۔صدرنے جس نئے نائن الیون کا خدشہ ظاہرکیا،وہ محض خطیبانہ اندازنہیں بلکہ سفارتی حکمتِ عملی اورسفارتی دبائوکاحربہ بھی ہے۔عالمی توجہ کوایک ایسے بحران کی طرف مبذول کراناجو بظاہر علاقائی مگردرحقیقت بین الاقوامی نوعیت رکھتاہے۔
ان کابیان محض داخلی سیاست کاجملہ نہیں،بلکہ عالمی ضمیرکوجھنجھوڑنے کی ایک کاوش ہے کہ جب سرحدیں بے قابوہوجائیں توآگ کی چنگاری دوردرازبستیوں کو بھی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ صدرپاکستان نے حالیہ بیان میں عالمی برادری کو متنبہ کیاکہ اگرغیرریاستی گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسررہیں تودنیاایک نئے سانحے کی دہلیزپرآسکتی ہے جس نے عالمی سیاست کوجھنجھوڑدیا تھا۔ ان کابیان دراصل عالمی برادری کومتحرک کرنے کی کوشش سمجھاجارہاہے۔11ستمبرحملوں کے بعد عالمی سیاست نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کارروائی کا تصورا پنایا۔پاکستان اسی عالمی یاد داشت کوجگاناچاہتاہے تاکہ افغانستان کامسئلہ عالمی ترجیح بن سکے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں