ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چوہدری سے انٹرویو کے دوران الجزیرہ نے سوال کیا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ایران کے بعد اگلا ہدف پاکستان ہوا تو ؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایمانی جذبات اور دبنگ انداز میں جو جواب دیا وہ بھی ملاحظہ فرمائیں ’’پاکستان کے عسکری اداروں میں اس بات کی کوئی پریشانی نہیں کہ اگلا ہدف پاکستان ہوگا یا نہیں، کیونکہ پاکستان اور دیگر ممالک میں فرق ہے ہم ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہیں۔ دنیا کو کبھی تجربہ نہیں ہوا کہ وہ کسی ایٹمی طاقت کو آزمائے، اگر ایسا کچھ ہوا تو دنیا میں وہ ہوگا جس کا تصور شائد اب تک کسی نے نہیں کیا ہوگا۔ اس کے ایسے نتائج ہوں گے جو شائد دنیا برداشت نہ کرسکے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں دوبارہ کہتا ہوں ایٹمی طاقت سے ٹکرانا بہت بڑی حماقت اور ناقابل تصور عمل ہوگا۔ ‘‘ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک بار پھر ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں بیانات، طاقت کا توازن اور سفارتی اشارے عالمی منظرنامے کو نئی سمت دے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دئیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے سربراہ احمد شریف چوہدری نے جو گفتگو کی، اس نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سفارتی حلقوں میں بھی خاصی ہلچل پیدا کی۔ سوال یہ تھا کہ اگر ایران کے بعد اگلا ہدف پاکستان ہوا تو کیا ہوگا؟ جواب میں جو اعتماد اور دوٹوک موقف سامنے آیا وہ دراصل ایک بڑے جغرافیائی و عسکری پیغام کا خلاصہ تھا۔یہ سوال محض ایک صحافتی سوال نہیں تھا، اس کے پس منظر میں وہ بدلتی ہوئی صورتحال ہے جس میں اسرائیل خطے میں اپنی عسکری بالادستی قائم رکھنے کے لیے مسلسل پیش قدمی کی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔
غزہ کی جنگ ہو، شام میں کارروائیاں ہوں یا ایران کے ساتھ کشیدگی ہر محاذ پر طاقت کا بے دریغ استعمال ایک ایسی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جسے بعض تجزیہ کار حتمی برتری کا نظریہ قرار دیتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ برتری واقعی دائمی ہے یا محض ایک غلط فہمی؟ڈی جی آئی ایس پی آر کا جواب اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس میں کسی اشتعال انگیزی کے بجائے ایک اصولی نکتہ پیش کیا گیا۔ یہ بیان دراصل طاقت کے توازن کی اس حقیقت کی یاد دہانی تھا جسے عالمی سفارت کاری میں ڈیٹرنس کہا جاتا ہے۔ ایٹمی صلاحیت محض ہتھیار نہیں، بلکہ جنگ کو روکنے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔۔ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ عالمی سیاست اب یک قطبی نہیں رہی۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت بڑھ رہی ہے اور ہر ملک اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے نئے اتحاد تشکیل دے رہا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی ایٹمی ریاست کے خلاف براہِ راست محاذ آرائی عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کو جنم دے سکتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے یہ محض ایک دھمکی نہیں بلکہ عالمی نظام کو عدم استحکام سے بچانے کی وارننگ ہے۔یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ نقشے سے مٹتا وجود جیسا جملہ کس تناظر میں سمجھا جائے؟ کیا واقعی کوئی ریاست نقشے سے مٹ سکتی ہے، جی ہاں!مجاہدین افغانستان سوویت یونین کا وجود دنیا کے نقشے سے مٹا کر یہ بات ثابت کر چکے ہیں، مزید یہ کہ سیاسی تنہائی، سفارتی دبائو اور اخلاقی ساکھ کی تباہی کسی بھی ریاست کو اندر سے کمزور ضرور کر سکتی ہے۔
اسرائیل کو آج جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ عسکری نہیں، بلکہ اخلاقی اور سفارتی ہے۔ غزہ میں انسانی بحران نے عالمی رائے عامہ کو تقسیم کر دیا ہے۔ یورپ اور امریکہ کے اندر بھی اختلافی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔اسرائیل کی غلط فہمی شائد یہ ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت کے بل بوتے پر ہر ردعمل کو قابو میں رکھ سکے گا۔ مگر ایٹمی توازن کا اصول مختلف ہے۔ یہ اصول کہتا ہے کہ جب دو یا زیادہ ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں تو جنگ کا امکان کم ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے نتائج ناقابلِ برداشت ہوتے ہیں۔ یہی پیغام احمد شریف چوہدری نے دیا کہ کسی ایٹمی طاقت کو آزمانا ناقابلِ تصور نتائج لا سکتا ہے۔ یہ بیان دراصل جنگ سے گریز کی حکمت عملی کا اظہار تھا۔پاکستان کی خارجہ پالیسی روایتی طور پر محتاط رہی ہے۔ اگرچہ بیانات میں سختی نظر آ سکتی ہے، مگر عملی سطح پر ہمیشہ توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے خطے میں براہِ راست کسی بڑے تصادم کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ کرے گا۔آج کی دنیا میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ اطلاعاتی جنگ، معاشی پابندیاں، سفارتی دبا،یہ سب جدید ہتھیار ہیں، اسرائیل اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ ان تمام محاذوں پر بیک وقت برتری حاصل کر سکتا ہے تو اسے اپنے اندرونی سیاسی اختلافات اور عالمی تنقید کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ داخلی تقسیم کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی کمزوری بن سکتی ہے۔عالمی برادری کے لئے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ اگر بڑی طاقتیں خاموش تماشائی بنی رہیں تو کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ غلط فہمیاں اکثر جنگوں کو جنم دیتی ہیں۔ اگر کوئی ریاست یہ سمجھ بیٹھے کہ وہ ناقابلِ تسخیر ہے تو تاریخ اسے جلد یا بدیر حقیقت کا آئینہ دکھا دیتی ہے۔ طاقت کا اصل امتحان ضبط اور ذمہ داری میں ہوتا ہے، نہ کہ محض ہتھیاروں کی نمائش میں۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ تصادم کے بجائے توازن کو برقرار رکھا جائے، کیونکہ ایٹمی دور میں کسی بھی غلط قدم کی قیمت پوری انسانیت کو چکانی پڑ سکتی ہے۔