Search
Close this search box.
منگل ,09 جون ,2026ء

طیبہ طاہرہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا

ام المومنین حضرت عائشہ کا لقب صدیقہ تھا۔ آنحضرتﷺ آپ کو بنت الصدیق کہہ کر یاد فرماتے تھے۔ آٹھویں پشت میں آپ کا نسب حضورﷺکے نسب سے مل جاتا ہے۔کسی بھی مستند تاریخ میں حضرت عائشہؓ کی تاریخ ولادت کا ذکر نہیں ملتا۔ تاہم امام محمد بن سعد نے طبقات میں لکھا ہے کہ آپ کی ولادت بنوت کے چوتھے سال کی ابتدا میں مکے میں ہوئی۔حضرت عائشہ بچپن ہی سے نہایت ذہین و فطین اور عمدہ ذکاوت کی مالک تھیں۔ لڑکپن میں آپ کھیل کود کی شوقین تھیں۔ محلے کی لڑکیاں ہر وقت ان کے پاس جمع رہتیں۔ لیکن آنحضرتﷺ کا ادب ہر لحاظ سے ملحوظ رہتا۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ گڑیا گڑیا کھیل رہی تھیں کہ رسول پاکﷺپہنچ گئے۔ گڑیوں میں ایک گھوڑا بھی تھا جس کے دائیں بائیں دو پر لگے ہوئے تھے۔نبی اکرمﷺ نے دریافت فرمایا’’عائشہ یہ کیا ہے؟‘‘جواب دیا ‘ گھوڑا ہے۔آپﷺ نے فرمایا: ’’گھوڑوں کے تو پر نہیں ہوتے!‘‘ حضرت عائشہ نے فرمایا: ’’کیوں؟ حضرت سلیمان کے گھوڑوں کے پر تھے۔‘‘ حضرت عائشہؓ لڑکپن کی ایک ایک بات یاد رکھتی تھیں۔ ان کی روایت کرتی تھیں۔ لڑکپن کے کھیل کود میں کوئی آیت کانوں میں پڑ جاتی تو اسے بھی یاد رکھتی تھیں۔ ہجرت کے وقت ان کا سن آٹھ برس تھا لیکن اس کم سنی اور کم عمری میں ہوش مندی اور قوت حافظہ کا یہ حال تھا کہ ہجرت نبوی کے تمام واقعات بلکہ تمام جزوی باتیں انہیں یاد تھیں۔ ان سے بڑھ کر کسی صحابیؓ نے ہجرت کے واقعات کو اس تفصیل کے ساتھ نقل نہیں کیا ہے۔آنحضرتﷺکی سب سے پہلی شادی حضرت خدیجہؓ سے ہوئی جو آپﷺ کی سچی مونس اور غم خوار ثابت ہوئیں۔ مگر جب ان کی وفات ہوئی تو حضورﷺ کو بہت صدمہ پہنچا۔ آپﷺ ہمہ وقت پریشان رہتے تھے۔ ایک روز خولہ بنت حکیم آپﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپﷺ دوسرا نکاح فرمالیں۔رسول اللہ ﷺنے دریافت فرمایا:’’کس سے؟‘‘خولہ نے کہا: بیوہ اور کنواری دونوں موجود ہیں۔ بس آپ پسند کریں۔دریافت فرمایا:’’وہ کون ہیں؟‘‘ خولہ نے کہا: بیوہ تو سودہ بنت زمعہ ہیں اور کنواری حضرت ابوبکر کی لڑکی عائشہ ہیں۔ارشاد ہوا’’تم ان کی نسبت گفتگو کرو۔‘‘انہی دنوں آنحضرتﷺ نے خواب دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر کوئی چیز آپﷺکو پیش کر رہا ہے۔پوچھا’’ کیا ہے تو جواب ملا کہ آپﷺ کی بیوی ہیں۔ آپﷺ نے کھول کر دیکھا تو حضرت عائشہؓ تھیں۔حضرت عائشہؓ کا آنحضرتﷺ سے نکاح مشیت الٰہی میں مقدر ہوچکا تھا۔ حضرت عطیہﷺ حضرت عائشہؓ کے نکاح کا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت عائشہؓ لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں کہ ان کی نانی آئیں اور انہیں ساتھ لے گئیں۔ حضرت ابوبکر ؓنے نکاح پڑھا دیا۔حضرت عائشہؓ کی تعلیم و تربیت کا اصل زمانہ رخصتی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے اسی زمانے میں لکھنا پڑھنا سیکھا۔ رسول کریمﷺ سے قرآن پڑھا۔ آپ نے تاریخ و ادب کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی تھی۔ طب کا فن وفود عرب سے سیکھا تھا۔ اطبائے عرب جو نسخے آنحضرتﷺکو بتاتے’’ حضرت عائشہؓ انہیں یاد کرلیتی تھیں۔ آپ کا گھر دنیا کے سب سے بڑے معلم شریعتﷺسے آراستہ تھا۔ یہی درس گاہ حضرت عائشہ ؓکے علم و فضل کا سب سے بڑا ذریعہ تھی۔ حضرت عائشہ ؓجس گھر میں دلہن بن کر آئی تھیں۔ وہ کوئی عالی شان گھر نہ تھا۔ مسجد نبوی کے چاروں طرف چھوٹے متعدد حجرے تھے۔ ان ہی میں حضرت عائشہؓ کا مسکن تھا۔ یہ حجرہ مسجد کی شرقی جانب تھا۔ اس کا ایک اور دروازہ مسجد کے اندر کھلتا تھا۔ اس حجرے کا صحن ہی مسجد نبوی کا صحن تھا۔ (آج کل اسی حجرے میں حضورﷺ اور حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ آرام فرما ہیں) آنحضرتﷺ اسی دروازے سے ہو کر مسجد میں تشریف لے جاتے۔ جب آپ مسجد میں اعتکاف کرتے تو سر مبارک حجرے کے اندر کر دیتےﷺ حضرت عائشہ اسی جگہ بالوں میں کنگھا کر دیتی تھیں۔ اس حجرے کی وسعت چھ سات ہاتھ سے زیادہ نہ تھی۔ دیواریں مٹی کی تھیں۔ چھت کو کھجوروں کی ٹہینوں سے ڈھک کر اوپر سے کمبل ڈال دیا گیا تھا تاکہ بارش سے محفوظ رہے۔ بلندی اتنی تھی کہ آدمی کھڑا ہوتا تو ہاتھ چھت کو لگ جاتا۔ گھر کی کل کائنات ایک چارپائی ایک چٹائی، ایک بستر، ایک تکیہ (جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی) آٹا اور کھجور رکھنے کے لئے دو برتن تھے۔ پانی کے لئے ایک بڑا برتن اور پانی پینے کے لئے ایک پیالہ تھا۔ چالیس چالیس راتیں گزر جاتیں گھر میں چراغ نہیں جلتا تھا۔ آنحضرتﷺ کا معمول تھا کہ جب بھی غزوے میں تشریف لے جاتے تو آپﷺ کی ایک بیوی خدمت گزاری کے لئے ساتھ ہوتیں۔ دو غزوات میں حضرت عائشہ آپﷺ کے کے ہم راہ تھیں: غزوئہ بنی مصطلق اور غزوہ ذات الرقاع۔ اول الذکر غزوے سے واپسی پر ایک جگہ قافلہ نے پڑائو ڈالا۔ اندھیرے کی وجہ سے قافلے والوں کو علم نہ ہوسکا کہ حضرت عائشہؓ اونٹ کے کجاوے پر موجود ہیں یا نہیں۔ حضرت عائشہؓ کو قضائے حاجت سے فراغت میں تاخیر ہوگئی اور قافلہ رخصت ہوگیا۔ ام المومنین ﷺپیچھے بھاگنے کے بجائے قافلے کے قیام کی جگہ رک گئیں۔ حضرت صفوان بن معطل ؓجن کی ڈیوٹی قافلہ کی گری پڑی اشیا کی نگہداشت تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہاں پہنچے تو حضرت عائشہؓ کو دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ انہوں نے اونٹ میرے قریب بٹھا دیا اوراناللہ پڑھا۔ میں سوار ہوگئی۔ اس لفظ کے علاوہ پورے راستے میں نے ان کی زبان سے کوئی لفظ نہیں سنا۔ ادھر مدینے میں منافقین نے طوفان اٹھا دیا۔ من گھڑت خبریں اور بے بنیاد الزام لگائے جانے لگے۔ حضورﷺتک یہ بات پہنچی تو آپﷺبھی پریشان ہوگئے۔ حضرت عائشہ ؓ اپنے گھر تشریف لے گئیں۔ الزام کی صفائی اور تحقیق کے لئے آنحضرتﷺ نے صحابہؓ کا اعلیٰ سطحی اجلاس مسجد نبوی میں طلب کیا۔ آخر حضرت عمرؓکی رائے کے مطابق وحی الٰہی کے انتظار فیصلہ ہوا۔ اگلے ہی روز آیات قرآنی نازل ہوئیں تو آنحضرتﷺ ۖاور حضرت ابوبکر ؓ سمیت تمام صحابہؓ کے چہرے خوشی سے چمک اٹھے۔ حضرت عائشہؓ کی صفائی میں سترہ قرآنی آیات کا اترنا تھا کہ حضرت عائشہؓ کی عظمت اسلامی تاریخ کا حصہ بن گئی۔ اسی طرح غزو ذات الرقاع کے موقع پر بھی حضرت عائشہؓ کی وجہ سے تیمم کا قرآنی حکم نازل ہوا۔ آنحضرتﷺ حضرت عائشہ ؓسے بے پناہ محبت رکھتے تھے۔حضرت عائشہؓ کا علمی مرتبہ بہت بلند تھا۔ آپ سب سے زیادہ فقیہ ‘ سب سے زیادہ صاحب علم اور عوام میں سب سے زیادہ اچھی رائے دینے والی تھیں اور تمام لوگوں میں سب سے بڑی عابدہ تھیں۔ بڑے بڑے صحابہ ان سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ کے صاحبزادے ابوسلمہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی سنتوں کا جاننے والا بڑا فقیہ اور آیتوں کے شان نزول اور فرائض کے مسئلہ کا واقف کار حضرت عائشہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔ اسلامی کتب میں یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن، فرائض، حلال و حرام، فقہ، شاعری، طب عرب کی تاریخ اور نسب کا حضرت عائشہؓ سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ازواج مطہرات کو بہت سی حدیثیں زبانی یاد تھیں۔ لیکن حضرت عائشہؓ اور حضرت ام سلمہ ؓکے برابر نہیں۔حضرت عائشہ ؓکی عمر 67برس کی تھی کہ 58ھ میں رمضان کے مہینے میں بیمار ہوئیں۔ چند روز علیل رہیں۔رمضان المبارک کی 17تاریخ کو نماز وتر کے بعد رات میں وفات پائی۔

یہ بھی پڑھیں